وقت بہت تیزی سے گزرتا ہے۔ ابھی کل ہی تو بات ہے۔ جب میں دنیائے اردو ادب کے مشہور و معروف شاعر اور دانشور حمایت علی شاعر صاحب سے ملنے گیا تھا۔ وہ سرکٹ ہاؤس حیدرآباد کے ایک کمرے میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ میں نے وہاں کے ملازم کو بتایا کہ میں حمایت صاحب سے ملنا چاہتا ہوں۔ ملازم نے ان کو بتایا اور انھوں نے مجھے کمرے میں بلالیا۔
میں نے سندھ یونیورسٹی شعبہ اردو کے پروفیسر مرزا سلیم بیگ صاحب سے درخواست کی تھی کہ مجھے ریڈیو پاکستان کے پروگرام مجلہ کے لیے حمایت صاحب کا انٹرویو کرنا ہے۔ اس لیے آپ مجھے ان سےملوادیں۔ پروفیسر مرزا سلیم بیگ نے میرے پہنچنے سے پہلے ہی ان سے بات کرلی تھی۔اسی لیے حمایت صاحب مجھے دیکھ کر کہنے لگے کہ ہاں "سلیم نے تمہارے بارے میں بتایا تھا”
آپ کچھ بھی کہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ ہر جگہ سفارش ہی کام آتی ہے اگر سلیم بیگ صاحب کی سفارش نہ ہوتی تو میں کبھی بھی حمایت علی شاعر جیسی بڑی شخصیت سے نہیں مل سکتا تھا۔ یہ ادب کے حوالے سے میرے ابتدائی دن تھے۔ میں شعر بھی کہ رہا تھا۔مشاعروں میں بھی جارہا تھا ۔ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے ادبی پروگرام مجلہ کی میزبانی بھی کر رہا تھا۔ جونیئر ہونے کے باوجود میں نے ادبی حلقوں میں اپنی تھوڑی بہت شناخت بھی بنالی تھی۔
حمایت صاحب ناشتہ کر رہے تھے۔ کیبل پر ایک ماڈرن انڈین فلم چل رہی تھی۔وہ فلم دیکھ رہے تھے۔ بہت اچھی طرح ملے۔ پیرانہ سالی کے باوجود وہ پرجوش لگ رہے تھے۔ جیسے ایک جوان آدمی ہوتا ہے۔انھوں نے محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ ان کا ادبی دنیا میں کتنا بڑا مقام ہے اور میں نے بڑی سہولت سے ان کے ساتھ اپنی زندگی کا ایک بڑا انٹرویو کیا۔ تقریباً ایک گھنٹے کی نشست میں ان سے سیکھنے کو بہت کچھ ملا ۔ موقع پاکر میں نے اپنی دو غزلیں بھی ان کو سنادیں۔ ملازم سے کہ کر دو عدد فوٹو بھی بنوالیے اور میں ایک یادگار انٹرویو کرکے واپس آیا۔
ہمارے والد صاحب ایک قصہ سناتے ہیں۔کئ سال پرانی بات ہے۔ شہر حیدرآباد میں ایک مرتبہ والد صاحب اپنے دوست معروف افسانہ نگار اور ماہر تعلیم پروفیسر انوار احمد زئی سے ملنے ان کے گھر پر گئے اور بیٹھک میں جاکر بیٹھ گئے۔ وہاں پہلے ہی حمایت علی شاعر موجود تھے پروفیسر انوار کسی کام سے گئے ہوئے تھے۔ والد صاحب بتاتے ہیں کہ انوار صاحب جب تک آئے ان کی غیر موجودگی میں حمایت صاحب سے بہت دلچسپ گفتگو ہوتا۔ بڑے لوگ ایسی ہی گفتگو کرتے ہیں جو تادیر یاد رہتی ہے۔ان دنوں حمایت صاحب حیدرآباد میں رہتے تھے۔ دراز زلف باوقار انداز اور نفیس شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی شاعری ہی نہیں بلکہ ان کی شخصیت بھی خوبصورت تھی۔ وہ سندھ یونیورسٹی جام شورو میں شعبہ اردو سے بھی وابستہ رہے۔
والد صاحب نے بتایا کہ 65 کی جنگ میں فخر ماتری کی ادارت میں شائع ہونے والے اخبار حریت کے ایک مکمل صفحہ پر حمایت علی شاعر صاحب کی نظم شائع ہوئی تھی جسے بہت پسند کیا گیا تھا ۔اس کے چند بول یہ ہیں
لہو جو سرحد پہ بہ چکا ہے
لہو جو سرحد پہ بہ رہا ہے
ہم اس لہو کا خراج لیں گے
یہ خون سرمایہ وطن ہے
یہ خون رنگ رخ چمن ہے
یہ خون ہر ماں کے دل کی دھڑکن
یہ خون ہر باپ کا بدن ہے
لہو جو سرحد پہ بہ چکا ہے
لہو جو سر حد پہ بہ رہا ہے
ہم اس لہو کا خراج لیں گے
بعد ازاں میں نے سینئیر افسانہ نگار قدیر غوثی اور کئ اور ادبی شخصیات سے معرکہ حمایت علی شاعر اور قابل اجمیری کے بارے میں بھی سنا۔ اس پر بہت ساری باتیں اور قصے ہیں جو ادبی تاریخ میں محفوظ ہیں مگر میں یہاں اس بحث میں نہیں جانا چاہتا ہوں۔ بس یہی کہوں گا کہ وہ دور شہر حیدرآباد کا علمی و ادبی حوالے سے کامیاب ترین دور تھا۔ قابل اجمیری اور حمایت علی شاعر جیسے بڑے شعراء نے دنیائے ادب میں حیدرآباد کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کا نام بھی روشن کیا۔
حمایت صاحب بہت قابل آدمی تھے۔ ان کی شاعری کے تو لوگ دیوانے تھے۔ مگر وہ فلمی دنیا میں بھی بہت مقبول رہے۔ مجھ سے انٹرویو کے دوران کسی بات پر کہنے لگے کہ احمد رشدی کے بھائی سے ہماری بڑی دوستی تھی۔اس وقت احمد رشدی ہمارے سامنے بچے ہوا کرتے تھے۔کمال دیکھیے کہ حمایت صاحب اور احمد رشدی دونوں کا تعلق حیدرآباد دکن سے تھا اور دونوں نے بہت یادگار نغمے ساتھ میں کیے۔ فلم آنچل کے گانے تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم کے لیے حمایت صاحب کو نگار ایوارڈ سے نوازا گیا اور کسی چمن میں رہو تم بہار بن کے رہو سے احمد رشدی کو ایک الگ مقام ملا ۔ اسی فلم کا ایک گانا ہے جس میں حمایت صاحب نے اردو محاورے کو فلمی گانے میں استعمال کیا ہے۔
گانے کے بول ہیں۔
کھٹی کڑی میں مکھی پڑی ہائے موری اماں
حمایت صاحب کے اور بھی فلمیں گانے بہت مشہور ہوئے جیسے
خدا وندا یہ کسی آگ ہےجومیرے سینے میں
نا چھڑا سکو گے دامن نہ نظر بچا سکو گے
خاموش رہو محفل میں چلانا نہیں اچھا اور
ساتھیو مجاہدو جاگ اٹھا ہے سارا وطن
انھوں نے فلمیں بھی بنائیں اور ہدایت کاری بھی کی ان کی پہلی فلم لوری کا شمار پاکستانی کی کامیاب ترین فلموں میں ہوتا ہے۔ جس میں محمد علی زیبا اور سنتوش نے کام کیا تھا۔
انھوں نے پاکستان ٹیلیویژن سے ادب کے حوالے سےادبی اور تاریخی پروگرام بھی پیش کیے۔ ان میں نعت شاعری کے 700 سال۔ غزل اس نے چھیڑی کے عنوان سے اردو شاعری کے 700سال شامل ہیں۔
حمایت علی شاعر کا پہلا باقاعدہ شعری مجموعہ آگ میں پھول تھا ۔جس کے لیے انھیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
وہ اردو تاریخ کے واحد ایسے شاعر ہیں جنھوں نے اپنی خودنوشت نثر کے بجائے نظم میں بیان کی ہے۔
حمایت صاحب کو آدم جی ایوارڈ سمیت بے شمار ایوارڈ ملے۔ صدر پاکستان کی طرف سے پرائڈ آف پرفارمینس حسن کارکردگی سے نوازا گیا ۔ انھوں نے کئی لوگوں کا کام اکیلے کر دکھایا۔ ان کے کام کی تفصیل تو آپ گوگل میں بھی دیکھ سکتے ہیں لیکن میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میں نے حمایت صاحب کے ساتھ کچھ وقت گزارا۔انھوں نے ریڈیو کے لیے بھی ڈرامے لکھے اور صداکاری بھی کی۔
حمایت صاحب ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ ان پر مزید کام ہونا چاہیے۔ ان کے ادبی کارناموں پر نوجوانوں کو ریسرچ ورک کرنا چاہیے۔ ان کی یاد میں مشاعرے اور نشتیں ہونی چاہیئیں۔
ان کے بیٹے اوج کمال صاحب دنیائے ادب کے نام سے ایک رسالہ نکالتے تھے جو بڑا منفرد اور دلچسپ رسالہ تھا۔اس میں نئے اور پرانے شاعروں کو بہت اہمیت دی جاتی تھی اور رابطے کے لیے شعراء کے نمبر بھی لکھے ہوتے تھے۔ اب معلوم نہیں وہ رسالہ شائع ہو رہا ہے یا نہیں۔ بہرحال اوج کمال صاحب نے بھی اس رسالے کے ذریعے اپنے والد محترم کی طرح ادب کی خدمت کی ہے۔اس رسالے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کے پرانے پرچے بھی اگر آپ کو کہیں سے مل جائیں تو آپ ان کو ردی میں نہیں دیں گے بلکہ خوبصورت ٹائیٹل اور ادبی معلومات کی وجہ سے اپنی لائبریری میں رکھ لیں گے۔
پچھلے دنوں حمایت علی شاعر صاحب کے چھوٹے بیٹے معروف افسانہ نگار بلند اقبال کی فیس بک وال سے معلوم ہوا کہ 14 جولائی 2026 کوان کا 100 سواں جنم دن تھا۔
ان کا انتقال بھی جولائی کے مہینے میں ہوا۔ وہ 15 جولائی 2019 کو 93 سال کی عمر میں دار فانی سے کوچ کرگئے۔
وقت کتنی تیزی سے گرزتا ہے ابھی کل ہی بات ہےکہ میری ملاقات حمایت علی شاعر صاحب سے ہوئی تھی مگر اس ملاقات کو بھی تقریباً 16 سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ لیکن حمایت صاحب سے جو مختصر سی خوشگواری ملاقات ہوئی تھی وہ میری یاداشت میں محفوظ ہے اور ہمیشہ محفوظ رہے گی۔