ہر روز پاکستان بھر میں لاکھوں خواتین تعلیم، ملازمت، کاروبار، علاج اور دیگر ضروری کاموں کے لیے گھروں سے نکلتی ہیں۔ ملکی ترقی میں ان کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے، مگر بدقسمتی سے عوامی ٹرانسپورٹ میں ان کا سفر آج بھی عدم تحفظ، بے چینی اور غیر مناسب رویوں سے خالی نہیں۔
چند روز قبل میرے ایک دوست نے ایک واقعہ سنایا۔ وہ پشاور سے واپس آ رہا تھا۔ جب اس نے گاڑی میں نشست حاصل کرنا چاہی تو معلوم ہوا کہ ایک نشست پر پہلے سے دو خواتین بیٹھی ہوئی تھیں۔ ڈرائیور نے خواتین سے کہا کہ یا تو ایک مرد مسافر کو اپنے ساتھ بٹھائیں یا پھر گاڑی سے اتر جائیں۔ مجبوری کے عالم میں خواتین نے خاموشی سے جگہ دے دی اور سفر جاری رکھا۔
یہ واقعہ بظاہر معمولی محسوس ہو سکتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ہمارے معاشرتی رویوں اور عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام میں موجود ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ روزانہ بے شمار خواتین اسی طرح کے حالات سے گزرتی ہیں۔ کہیں انہیں رش کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کہیں ان کی سہولت کو نظر انداز کیا جاتا ہے، اور کہیں انہیں غیر ضروری نظروں اور نامناسب رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکثر خواتین خاموش رہتی ہیں، کیونکہ ان کے لیے اپنی ملازمت، تعلیم یا دیگر ذمہ داریوں تک پہنچنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو قانون کے سامنے برابری اور انسانی وقار کا حق دیتا ہے۔ اسی طرح اسلام نے بھی عورت کو عزت، تحفظ اور احترام کا مقام عطا کیا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے خواتین کے ساتھ حسنِ سلوک کی بار بار تلقین فرمائی۔ اس لیے ایک اسلامی معاشرے میں یہ ہرگز مناسب نہیں کہ خواتین اپنے روزمرہ سفر کے دوران خود کو غیر محفوظ یا بے بس محسوس کریں۔
اس مسئلے کا حل صرف حکومت یا ٹرانسپورٹ انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوامی ٹرانسپورٹ میں خواتین کے لیے مختص نشستوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائے، ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کی اخلاقی تربیت کرے اور شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام قائم کرے۔ دوسری جانب، معاشرے کے ہر فرد کو اپنی سوچ اور رویے میں مثبت تبدیلی لانی ہوگی۔ خواتین کو احترام دینا صرف قانون کی پابندی نہیں بلکہ دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ بھی ہے۔
کسی بھی قوم کی ترقی صرف سڑکوں، عمارتوں یا معاشی اشاریوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس بات سے بھی جانچی جاتی ہے کہ وہ اپنی خواتین، بچوں اور کمزور طبقات کو کتنا محفوظ اور باعزت ماحول فراہم کرتی ہے۔ اگر ہم ایک حقیقی اسلامی اور مہذب معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہر خاتون بلا خوف و خطر اور مکمل وقار کے ساتھ سفر کر سکے۔ یہی ایک ذمہ دار، بااخلاق اور ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان ہے۔