امریکی محققین نے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ایسے نئے وائرس تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو قدرتی طور پر موجود نہیں تھے، اس دعوے کو سائنسی دنیا میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور ایم آئی ٹی و ہارورڈ کے براڈ انسٹی ٹیوٹ کے محققین نے ایک قدرتی طور پر پائے جانے والے فاج کو بنیاد بنا کر مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہزاروں جینیاتی ساختیں تیار کیں، فاج ایک ایسی قسم کا وائرس ہے جو بیکٹیریا کو متاثر کرتا ہے۔
محققین نے ان میں سے تقریباً 300 جینیاتی ساختوں کو کیمیائی طریقے سے تیار کر کے لیبارٹری میں آزمایا، جن میں سے 16 وائرس قابلِ عمل ثابت ہوئے۔
تحقیق کے مطابق مصنوعی وائرسز کے ایک مرکب نے ای کولی بیکٹیریا کو ختم کرنے میں قدرتی طور پر پائے جانے والے وائرسز کے مقابلے میں زیادہ مؤثر کارکردگی دکھائی۔
محققین نے کہا ہے کہ یہ طریقہ مصنوعی جینومکس کے دائرہ کار کو وسعت دیتا ہے اور تیزی سے تبدیل ہونے والے جراثیم کے خلاف زیادہ مؤثر فاج تھراپی تیار کرنے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
تاہم ماہرین نے اس پیش رفت کے طبی فوائد کے ساتھ ساتھ ممکنہ حیاتیاتی سلامتی کے خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یونیورسٹی آف ٹورنٹو اور ٹورنٹو جنرل اسپتال کے ماہر متعدی امراض آئزک بوگوچ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ وائرسز کے کچھ فوائد ہو سکتے ہیں، مثلاً ایسے مخصوص بیکٹیریو فاجز تیار کرنا جو اینٹی بایوٹک مزاحمت رکھنے والے انفیکشنز سے نمٹنے میں مدد دے سکیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مکمل اور فعال وائرسز ڈیزائن کرنے کی یہی صلاحیت اگر نقصان دہ جراثیم کے لیے استعمال کی جائے تو حیاتیاتی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے ٹیکنالوجی کے ساتھ مضبوط حفاظتی ضوابط، اسکریننگ اور نگرانی بھی ضروری ہے۔
سڈنی کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کی پروفیسر فاطمہ وفائی نے کہا ہے کہ موجودہ تحقیق سے انسانوں کو براہِ راست کوئی خطرہ نہیں کیونکہ فاج صرف بیکٹیریا کو متاثر کرتے ہیں، تاہم اس میں استعمال ہونے والے طریقوں کو نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امپیریل کالج لندن کے مصنوعی جینوم انجینئرنگ کے ماہر ٹام ایلس نے تحقیق کو متاثر کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیش رفت یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ پیچیدہ جینومز، خلیات اور بڑے وائرسز تیار کرنے کے معاملے میں مصنوعی ذہانت ابھی کافی دور ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیق میں استعمال ہونے والا فاج جینوم بہت چھوٹا اور نسبتاً آسان ہے، جبکہ کووڈ وائرس کا جینوم اس سے تقریباً 6 گنا بڑا ہے اور بڑے جینومز کو ڈیزائن کرنے کی پیچیدگی تیزی سے بڑھتی ہے۔
ایلس کے مطابق حیاتیاتی سلامتی کے حوالے سے اس تحقیق کے مضمرات ضرور ہیں، تاہم قدرتی طور پر موجود وائرسز میں تبدیلی کرنا مصنوعی ذہانت سے نئے جراثیم بنانے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ اور فوری خطرہ ہے۔
سنگاپور میں ایشیاء سینٹر فار ہیلتھ سیکیورٹی کے ڈائریکٹر ہسو لی یانگ نے بھی کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو وائرسز کو زیادہ مہلک بنانے کے لیے استعمال کرنا ممکن ہو سکتا ہے، تاہم تحقیق کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس تحقیق کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اب کوئی بھی شخص معمولی سائنسی یا لیبارٹری معلومات کے ساتھ گھر بیٹھے جان بچانے والے یا خطرناک وائرس تیار کرسکتا ہے، کیونکہ ڈیزائن کے بعد لیبارٹری میں عملی طور پر وائرس تیار کرنے کے لیے اب بھی خاصی پیچیدہ صلاحیت درکار ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تحقیق بیک وقت طبی اعتبار سے امید افزا اور حیاتیاتی سلامتی کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے، کیونکہ یہ ایسی ٹیکنالوجی کی مثال ہے جسے مفید اور نقصان دہ دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔