بچپن میں میرے بابا ہمیشہ ایک بات کہا کرتے تھے:
"بیٹا! کبھی کسی کے گھر رات نہیں رکنا، میری اجازت نہیں ہے۔”
ہمیں اس وقت بابا کی یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی۔ ہم سوچتے تھے کہ آخر وہ ہم پر اتنی پابندیاں کیوں لگاتے ہیں؟ رشتہ داروں کے گھر بھی رات گزارنے کی اجازت نہیں، کہیں جانا ہو تو اکیلے نہیں جانا، اور اگر کوئی ہمیں اپنے گھر روکنے کی بات کرے تو بابا فوراً منع کر دیتے۔
اس وقت ہمیں لگتا تھا کہ شاید بابا ضرورت سے زیادہ سخت ہیں۔
وقت گزرا، ہم بڑے ہوئے، شادی ہوئی، بچے ہوئے اور پھر آہستہ آہستہ بابا کی وہ بات سمجھ آنے لگی۔
وہ پابندی نہیں تھی، حفاظت تھی۔
آج جب آئے روز بچوں کے ساتھ زیادتی اور جنسی استحصال کے واقعات سامنے آتے ہیں تو بابا کی احتیاط اور بھی سمجھ آتی ہے۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان واقعات میں ہمیشہ کوئی اجنبی شامل نہیں ہوتا۔ کئی مرتبہ الزام ایسے لوگوں پر لگتا ہے جو بچے اور خاندان کے لیے بالکل اجنبی نہیں ہوتے۔ جنہیں برسوں سے جانا جاتا ہے، جن پر اعتماد کیا جاتا ہے اور جن کے ساتھ بچے کو بے فکری سے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ہم اکثر یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ:
"یہ تو ہمارے بہت قریبی ہیں، ہمارے بچوں کو کچھ نہیں ہوگا۔”
اور یہی اندھا اعتماد کبھی کبھی بہت بڑی قیمت بن جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم ہر رشتہ دار یا ہر جاننے والے کو مشکوک سمجھیں۔ نہیں۔
بات صرف اتنی ہے کہ بچے کی حفاظت کے معاملے میں اعتماد کے ساتھ احتیاط بھی ضروری ہے۔
ایزل کا واقعہ پھر دل دہلا گیا
حال ہی میں 18 ماہ کی ننھی ایزل کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ زیادتی کے واقعے نے ایک بار پھر دل ہلا کر رکھ دیا۔
رپورٹس کے مطابق، بچی کو ایک قریبی رشتہ دار نوجوان باہر لے کر گیا تھا اور بعد میں اس کے ساتھ مبینہ طور پر انتہائی سنگین زیادتی کا انکشاف ہوا۔ بچی کی حالت تشویشناک ہوئی اور بالآخر وہ جانبر نہ ہو سکی۔
ایک ماں نے جس شخص پر اعتماد کیا تھا، اسی اعتماد نے اس کی دنیا ہمیشہ کے لیے اجاڑ دی۔
اگر تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔
لیکن اس واقعے کا ایک پہلو ہم سب والدین کے لیے بھی سوچنے کا مقام ہے:
کیا ہم اپنے بچوں کی حفاظت میں ضرورت سے زیادہ اعتماد تو نہیں کر رہے؟
"اپنے ہی تو ہیں” یہ جملہ دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے۔
ہم اپنے بچوں کو بہت سے لوگوں کے ساتھ اس لیے بے فکری سے چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ ہمارے جاننے والے ہیں، ہمارے قریبی ہیں، خاندان کا حصہ ہیں یا برسوں سے ہمارے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔
لیکن بچے کی حفاظت کا اصول صرف رشتے پر نہیں ہونا چاہیے۔
اگر بچہ کسی کے ساتھ اکیلا جا رہا ہے تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کہاں جا رہا ہے، کس کے ساتھ جا رہا ہے اور کتنی دیر کے لیے جا رہا ہے۔
اعتماد اپنی جگہ، نگرانی اپنی جگہ۔
اور یہ احتیاط صرف بچیوں کے لیے نہیں۔
آج چھوٹے لڑکے بھی جنسی استحصال سے محفوظ نہیں۔ اس لیے والدین کو اپنے بیٹوں کی حفاظت کے معاملے میں بھی اتنا ہی محتاط ہونا چاہیے جتنا بیٹیوں کے معاملے میں۔
بچوں کو صرف محفوظ نہیں، باخبر بھی بنائیں
ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ ان کے جسم کی حدود ہیں، کوئی انہیں غلط طریقے سے چھوئے تو وہ "نہیں” کہہ سکتے ہیں، اور اگر کوئی انہیں ڈرائے یا کسی بات کو چھپانے کے لیے کہے تو فوراً والدین کو بتائیں۔
سب سے اہم بات یہ کہ اگر کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ جائے تو بچے کو قصوروار نہ ٹھہرائیں۔
بچے کو یقین ہونا چاہیے کہ وہ اپنے والدین سے ہر بات کہہ سکتا ہے۔
اب بابا کی وہ بات یاد آتی ہے…
آج جب میں بابا کی وہ پرانی بات یاد کرتی ہوں تو دل کہتا ہے:
"بابا شاید ہم سے زیادہ دنیا کو سمجھتے تھے۔”
وہ ہمیں لوگوں سے بدظن نہیں کر رہے تھے۔
وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ ہم محفوظ رہیں۔
آج کے والدین کے لیے بھی شاید یہی سب سے اہم سبق ہے:
رشتے نبھائیں، لوگوں پر اعتماد کریں، بچوں کو خاندان سے جوڑیں، لیکن بچوں کی حفاظت کو کبھی اندھے اعتماد کے حوالے نہ کریں۔
اپنے بچوں کو کسی کے ساتھ بھی اکیلا چھوڑنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے ضرور سوچیں۔
ضروری نہیں کہ سامنے والا برا ہو، لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بچے کی حفاظت احتیاط مانگتی ہے، صرف اعتماد نہیں۔
کیونکہ ایک لمحے کی غفلت کسی بچے کی پوری زندگی بدل سکتی ہے، اور ایک ماں کی پوری دنیا اجڑ سکتی ہے۔
بابا کی وہ پابندی آج بھی یاد ہے۔
تب وہ پابندی لگتی تھی۔۔۔۔
آج سمجھ آتا ہے کہ وہ محبت تھی، فکر تھی اور حفاظت تھی۔