انسان کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو شاید یہ کہنا کافی ہوگا کہ وہ "خواہش کا مسافر” ہے۔ اس کی زندگی خواہشوں سے شروع ہوتی ہے اور امیدوں پر ختم ہوتی ہے۔ ہر صبح ایک نئی آرزو جنم لیتی ہے اور ہر شام کوئی نہ کوئی خواب آنکھوں میں اتر آتا ہے۔ کچھ تمنائیں حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں اور کچھ عمر بھر دل کے دریچوں میں چراغ کی مانند روشن رہتی ہیں۔ شاید زندگی کی اصل خوب صورتی بھی انہی ادھوری خواہشوں میں پوشیدہ ہے، کیوں کہ اگر ہر خواب اپنی تعبیر پا لے تو نہ انتظار باقی رہے، نہ جستجو اور نہ آگے بڑھنے کی کوئی امنگ۔
مرزا غالب نے انسانی فطرت کی اس دائمی پیاس کو اپنے لازوال شعر میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے:
؎ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
یہ شعر صرف غالب کی ذات کی کہانی نہیں بلکہ ہر انسان کی باطنی کیفیت کا آئینہ ہے۔ خواہشیں ختم نہیں ہوتیں، وہ صرف اپنا روپ بدلتی رہتی ہیں۔ ایک خواب پورا ہوتا ہے تو دوسرا دل کے افق پر طلوع ہو جاتا ہے۔ شاید اسی مسلسل طلب کا نام زندگی ہے۔
زندگی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انسان کبھی حقیقت سے زیادہ امید کے سہارے جیتا ہے۔ بعض اوقات ایک وعدہ، چاہے پورا نہ بھی ہو، دل کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ چراغ حسن حسرت نے اسی کیفیت کو نہایت لطیف انداز میں بیان کیا ہے:
؎ ناکام تمنا دل اس سوچ میں رہتا ہے
یوں ہوتا تو کیا ہوتا، یوں ہوتا تو کیا ہوتا
؎ امید تو بندھ جاتی، تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے، وعدہ تو کیا ہوتا
یہ اشعار اس حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں کہ امید، انسان کی سب سے بڑی متاع ہے۔ بعض اوقات زندگی حقیقت کے سہارے نہیں بلکہ ایک خوش گمان انتظار کے سہارے بھی آگے بڑھتی رہتی ہے۔ یہی امید انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتی اور نئے دن کا استقبال کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔
جلیل مانک پوری نے زندگی کے فلسفے کو ایک شعر میں سمو دیا ہے:
؎ زندگی کیا جو بسر ہو چین سے
دل میں تھوڑی سی تمنا چاہیے
یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواہش زندگی کی دھڑکن ہے۔ اگر دل ہر تمنا سے خالی ہو جائے تو زندگی محض وقت گزارنے کا نام رہ جاتی ہے۔ تھوڑی سی بے قراری، تھوڑی سی آرزو اور تھوڑی سی جستجو ہی انسان کو زندہ رکھتی ہے۔ سکون اپنی جگہ نعمت ہے، مگر مسلسل سکون انسان کو ساکت بھی کر دیتا ہے۔
لیکن خواہشوں کا ایک رخ اذیت بھی ہے۔ جب انسان خواہش کرنا چھوڑ دے تو یہ کیفیت کسی بھی ناکامی سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔ جون ایلیا نے اس باطنی کرب کو یوں بیان کیا ہے:
؎ خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں
یہ اذیت بڑی اذیت ہے
یہ شعر اس روحانی تھکن کا اظہار ہے جب انسان خواب دیکھنے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھتا ہے۔ دراصل خواہشوں کا ختم ہو جانا زندگی کے رنگوں کا مدھم پڑ جانا ہے۔ زندہ دل وہی ہے جس کے سینے میں ابھی کسی خواب کی دھڑکن باقی ہو۔
جون ایلیا ہی کا ایک اور شعر انسانی نفسیات کی ایک بڑی حقیقت بیان کرتا ہے:
؎ ہم نے دیکھا تو ہم نے یہ دیکھا
جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے
یہ انسانی فطرت کا ایک عجیب مگر سچا پہلو ہے کہ جو چیز ہماری دسترس میں نہیں ہوتی، وہی ہمیں سب سے زیادہ دلکش محسوس ہوتی ہے۔ فاصلے محبت کو گہرا کر دیتے ہیں، محرومیاں یادوں کو خوش رنگ بنا دیتی ہیں اور ادھورے خواب اکثر تعبیر پانے والے خوابوں سے زیادہ حسین لگتے ہیں۔
محبت بھی خواہش ہی کی ایک لطیف صورت ہے۔ بعض محبتیں وصال سے زیادہ انتظار میں نکھرتی ہیں۔ ناصر کاظمی نے اس جذبے کو یوں بیان کیا ہے:
؎ آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں
یہ شعر صرف محبوب کی آرزو نہیں بلکہ ہر اس خواب کی علامت ہے جسے انسان اپنی زندگی سے کبھی جدا نہیں کرنا چاہتا۔ انسان کا اصل سرمایہ وہ خواب ہیں جو ابھی باقی ہیں، وہ دعائیں ہیں جو ابھی مانگی جانی ہیں اور وہ منزلیں ہیں جن تک پہنچنے کا سفر ابھی جاری ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ اگر انسان کی ہر خواہش پوری ہو جائے تو زندگی میں حرکت باقی نہیں رہتی۔ ادھورے خواب انسان کو محنت پر آمادہ رکھتے ہیں، نامکمل تمنائیں دعا کا سلیقہ سکھاتی ہیں اور مسلسل جستجو شخصیت کو نکھارتی رہتی ہے۔ یہی احساس انسان کو ہر روز پہلے سے بہتر بننے کی دعوت دیتا ہے۔ تکمیل اکثر سفر کو ختم کر دیتی ہے، مگر ادھورا پن نئے راستے پیدا کرتا ہے۔ شاید اسی لیے اسحاق وردگ اپنی شاعری میں انسان کے اسی مسلسل ارتقائی سفر کو ایک نہایت بامعنی انداز میں یوں بیان کرتے ہیں:
؎ میری تکمیل ہو نہ جائے کہیں
روز خود میں کمی بناتا ہوں