پاکستان کے 79 سال: ہم کہاں سے چلے تھے، کہاں پہنچے

الحمدللہ رب العالمین۔ آج ہم 79 سال کے ہو چکے ہیں اور پاکستان اپنے 80ویں آزادی کے سال میں داخل ہو رہا ہے۔ 79 سال کسی انسان کی زندگی میں بہت بڑا عرصہ ہوتا ہے، لیکن ایک ملک کی زندگی میں یہ ایسا وقت ہے جب اسے رک کر اپنے آپ سے ضرور پوچھنا چاہیے کہ ہم کہاں سے چلے تھے، کہاں پہنچے، راستے میں کیا کھویا، کیا پایا اور اب ہمیں کہاں جانا ہے۔ اگر آج کوئی مجھ سے پوچھے کہ پاکستان کیا ہے تو میرے خیال میں اس کا جواب صرف یہ نہیں کہ یہ 14 اگست 1947 کو وجود میں آنے والا ملک ہے۔ پاکستان تقریباً 25 کروڑ انسانوں کا ملک ہے، تقریباً 8 لاکھ 81 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ ہے، اس کے پاس پہاڑ ہیں، دریا ہیں، صحرا ہیں، سمندر ہے، معدنیات ہیں، زراعت ہے، ایک بڑی نوجوان آبادی ہے، دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستانی ہیں، ایٹمی طاقت ہے، اپنی دفاعی صنعت ہے اور ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ ساحل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہمیں وسائل کی کمی نہیں دی۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے ان وسائل کو اپنی طاقت میں کتنا تبدیل کیا؟

پاکستان کی کہانی کو سمجھنے کے لیے سیاسی سائنس کا ایک بہت سادہ اصول ہمارے کام آ سکتا ہے۔ ہر ریاست کے چار بنیادی ستون ہوتے ہیں: علاقہ، آبادی، حکومت اور خودمختاری۔ پاکستان کی 79 سالہ کہانی دراصل انہی چار ستونوں کی کہانی ہے۔ ہمارے علاقے نے 1971 کا زخم دیکھا، ہماری آبادی 1947 کے چند کروڑ سے بڑھ کر تقریباً 25 کروڑ تک پہنچ گئی، حکومت اور جمہوریت نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے اور خودمختاری کے میدان میں ہم نے دفاع کے حوالے سے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں، لیکن معیشت کے میدان میں آج بھی مکمل خود انحصاری حاصل نہیں کر سکے۔

1947 میں پاکستان کا جغرافیہ غیر معمولی تھا۔ مغربی اور مشرقی پاکستان ایک دوسرے سے تقریباً ایک ہزار میل دور تھے اور درمیان میں بھارت موجود تھا۔ یہ صورتِ حال شروع ہی سے ہمارے لیے ایک بڑا انتظامی، سیاسی اور دفاعی چیلنج تھی۔ پھر 1971 کا سانحہ آیا اور مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا۔ یہ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی اور جغرافیائی صدمہ تھا۔ ہم نے ملک کا ایک بڑا حصہ اور نصف سے کچھ کم آبادی کھو دی۔ لیکن اس سانحے کے بعد بھی پاکستان ختم نہیں ہوا۔ ہم نے خود کو دوبارہ منظم کیا، اپنا دفاع مضبوط کیا اور 1998 میں ایٹمی طاقت بن کر اپنی دفاعی صلاحیت میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا۔ آج پاکستان کے پاس تقریباً 170 جوہری ہتھیار ہونے کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ یہ ہماری بقا اور دفاع کی ایک بڑی کامیابی ہے، اگرچہ کوئی بھی ریاست یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اسے کبھی کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا۔

آج پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی آبادی ہے۔ 1947 میں ہماری آبادی تقریباً ساڑھے تین کروڑ تھی، آج یہ تقریباً 25 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ دنیا کے بڑے ممالک میں ہماری پانچویں پوزیشن ہے۔ ہماری آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ ایک بہت بڑی نعمت بھی ہے اور ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی۔ اگر نوجوان تعلیم، ہنر اور روزگار حاصل کریں تو یہی آبادی ہماری سب سے بڑی معاشی طاقت بن سکتی ہے، لیکن اگر انہیں تعلیم، صحت اور روزگار نہ ملے تو یہی آبادی ہمارے لیے سب سے بڑا بوجھ بھی بن سکتی ہے۔

یہاں ہمیں اپنے آپ سے ایک سخت سوال کرنا چاہیے: کیا ہم نے اپنی آبادی میں وہ سرمایہ کاری کی جو ہمیں کرنی چاہیے تھی؟ آج بھی لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں، شرح خواندگی تقریباً 63 فیصد کے آس پاس ہے اور اقوام متحدہ کے انسانی ترقی کے اشاریے میں پاکستان 193 ممالک میں 168ویں نمبر پر ہے۔ ہمارے ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور دوسرے ہنرمند دنیا بھر میں اپنی صلاحیت منوا رہے ہیں۔ بیرون ملک پاکستانی بھی ہر سال اربوں ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں۔ مالی سال 2025-26 میں ترسیلاتِ زر تقریباً 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یعنی ہمارے لوگ جہاں جاتے ہیں پاکستان کے لیے کردار ادا کرتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم پاکستان کے اندر ایسا ماحول کب پیدا کریں گے کہ ہمارے بہترین ذہن یہاں رہ کر بھی وہی کامیابی حاصل کر سکیں؟

پاکستان کے تیسرے ستون یعنی حکومت اور جمہوریت کی کہانی بھی اتار چڑھاؤ سے بھری ہوئی ہے۔ 1973 کا آئین ہماری قومی تاریخ کا ایک بڑا اتفاقِ رائے تھا، لیکن 79 سال میں تقریباً تین دہائیاں براہِ راست فوجی حکمرانی میں گزریں۔ باقی عرصے میں بھی سیاسی عدم استحکام، حکومتوں کی تبدیلی، اسمبلیوں کی تحلیل اور آئینی بحران ہمارے ساتھ چلتے رہے۔ تاہم 2008 کے بعد ایک مثبت تبدیلی بھی سامنے آئی۔ 2013 اور 2018 کی قومی اسمبلیوں نے اپنی آئینی مدت مکمل کی اور ایک منتخب حکومت سے دوسری منتخب حکومت کو اقتدار منتقل ہوا۔ یہ معمولی کامیابی نہیں تھی۔ لیکن جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ جمہوریت تب مضبوط ہوتی ہے جب قانون سب کے لیے برابر ہو، ادارے مضبوط ہوں اور عام آدمی کو ریاستی نظام پر اعتماد ہو۔

یہی وجہ ہے کہ کرپشن اور قانون کی حکمرانی کے اعداد و شمار ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ 2025 کی عالمی کرپشن فہرست میں پاکستان 182 ممالک میں 136ویں نمبر پر تھا، جبکہ عالمی قانون کی حکمرانی کے اشاریے میں پاکستان 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر رہا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں کچھ بھی درست نہیں، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ ہمارے پاس ادارے اور قوانین تو موجود ہیں لیکن ان اداروں کی کارکردگی، شفافیت اور عوامی اعتماد کو ابھی بہت بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

خودمختاری کے میدان میں بھی ہماری کہانی دو حصوں میں تقسیم ہے۔ دفاع کے اعتبار سے پاکستان نے ایک مضبوط مقام حاصل کیا ہے۔ ایٹمی صلاحیت، میزائل ٹیکنالوجی، جے ایف 17 طیاروں کی تیاری، دفاعی صنعت اور دوسری صلاحیتوں نے پاکستان کو اپنی سلامتی کے فیصلے خود کرنے کی قابلِ ذکر طاقت دی ہے۔ لیکن معاشی خودمختاری ابھی ہمارا بڑا سوال ہے۔ پاکستان 1958 سے اب تک 25 مرتبہ آئی ایم ایف کے پروگراموں میں جا چکا ہے۔ موجودہ دور میں بھی ہماری معیشت کو بیرونی مالی سہارا درکار رہا ہے۔ اس لیے حقیقی آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہماری سرحدوں پر کسی دوسرے ملک کا جھنڈا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہماری معیشت اتنی مضبوط ہو کہ ہمیں بار بار دوسروں سے قرض لینے کی ضرورت نہ پڑے۔

اب ذرا بھارت کی طرف دیکھتے ہیں۔ یہ موازنہ دشمنی کے لیے نہیں بلکہ اپنے آپ کو سمجھنے کے لیے ہے۔ 1947 میں دونوں ملک ایک ہی نوآبادیاتی نظام سے نکلے تھے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کی فی کس آمدنی بھارت سے زیادہ تھی۔ آج صورت حال بدل چکی ہے۔ عالمی بینک کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی مجموعی معیشت تقریباً 3.96 کھرب ڈالر جبکہ پاکستان کی تقریباً 407 ارب ڈالر ہے۔ انسانی ترقی میں بھی بھارت ہم سے آگے ہے۔ اس فرق کی وجوہات میں بڑے پیمانے کی صنعت، ٹیکنالوجی، ادویات، ڈیجیٹل نظام، خلائی پروگرام، سرمایہ کاری اور سب سے بڑھ کر پالیسیوں اور اداروں کا تسلسل شامل ہے۔ ہمیں بھارت سے ہر چیز نہیں سیکھنی، لیکن جہاں وہ ہم سے آگے نکل گیا ہے وہاں یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ اس نے کیا مختلف کیا۔

لیکن اگر موازنہ کرنا ہے تو دیانت داری سے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہم کن شعبوں میں آگے ہیں۔ پاکستان نے دفاع میں اپنی صلاحیت ثابت کی ہے۔ کھیلوں میں ہماری تاریخ شاندار ہے۔ ہاکی میں ہم تین مرتبہ اولمپک چیمپئن رہے، اسکواش میں جہانگیر خان اور جان شیر خان نے عالمی کھیل کی تاریخ بدل دی، کرکٹ میں 1992 کا عالمی کپ، 2009 کا ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ اور 2017 کی چیمپئنز ٹرافی ہمارے نام ہے۔ سیالکوٹ کے فٹ بال دنیا کے بڑے مقابلوں تک پہنچتے ہیں۔ ہمارے جراحی کے آلات دنیا بھر کے اسپتالوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ ہماری ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، چاول، چمڑے اور دوسری مصنوعات عالمی منڈیوں تک جاتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے اندر صلاحیت کی کمی نہیں۔ ہم بنانا جانتے ہیں، محنت کرنا جانتے ہیں اور دنیا کے معیار پر چیزیں پیدا بھی کر سکتے ہیں۔

پھر مسئلہ کہاں ہے؟ شاید ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم دوسروں کے لیے بہت کچھ بناتے ہیں لیکن اپنی معیشت کے لیے اس صلاحیت کو پوری طرح استعمال نہیں کر پاتے۔ ہم دنیا کے لیے فٹ بال بناتے ہیں مگر ہماری قومی فٹ بال ٹیم ابھی تک عالمی کپ کے آخری مرحلے تک نہیں پہنچ سکی۔ ہم دنیا کو جراحی کے آلات دیتے ہیں مگر اپنے عام شہری کو معیاری صحت کی سہولت ہر جگہ نہیں دے سکے۔ ہم ٹیکسٹائل برآمد کرتے ہیں مگر زیادہ قدر والی مصنوعات میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔ ہم زرعی پیداوار پیدا کرتے ہیں مگر اسے بڑے پیمانے پر خوراک کی صنعت اور برآمدی مصنوعات میں تبدیل نہیں کر سکے۔ ہمارے نوجوان دنیا بھر میں کامیاب ہیں مگر ہم اپنے ملک میں ان کے لیے وہ مواقع نہیں بنا سکے جن کی انہیں ضرورت ہے۔

پاکستان کے پاس صرف زمین اور آبادی ہی نہیں، جغرافیہ بھی ایک بڑی طاقت ہے۔ شمال میں دنیا کے بلند ترین پہاڑ، درمیان میں دریائے سندھ کا وسیع نظام، بلوچستان اور سندھ کے صحرا، تھر کے معدنی وسائل، ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ سمندری ساحل اور بحیرہ عرب تک رسائی ہمیں ایک غیر معمولی ملک بناتی ہے۔ ہمارے پاس پانی ہے مگر اس کا انتظام کمزور ہے، زراعت ہے مگر پیداوار اور قدر میں اضافہ محدود ہے، معدنیات ہیں مگر زیادہ تر خام مال کی صورت میں نکلتی ہیں، سمندر ہے مگر نیلی معیشت ابھی اپنی ابتدائی حالت میں ہے۔ یہی وہ شعبے ہیں جہاں اگلے بیس سال میں ہماری اصل توجہ ہونی چاہیے۔

پاکستان کے 79 سال کا حساب صرف یہ کہہ کر پورا نہیں کیا جا سکتا کہ ہم ناکام رہے۔ اگر ہم ناکام ریاست ہوتے تو ایٹمی طاقت نہ بنتے، دفاعی صنعت نہ بناتے، جے ایف 17 نہ بناتے، خلائی پروگرام نہ چلاتے، سیالکوٹ کو عالمی فٹ بال صنعت کا مرکز نہ بناتے، عالمی چیمپئن پیدا نہ کرتے اور دہشت گردی جیسے بڑے بحران سے نہ نکلتے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہم ابھی کامیاب اور خوشحال ریاست نہیں بن سکے۔ میرے نزدیک پاکستان ایک نامکمل کامیابی ہے۔ ہمارے پاس صلاحیت بہت ہے مگر اس صلاحیت کو ایک سمت دینے، اسے اداروں سے جوڑنے اور مسلسل محنت میں بدلنے کی ضرورت ہے۔

اب ہمارے سامنے 2047 ہے۔ آج سے صرف 21 سال بعد پاکستان اپنی آزادی کے سو سال مکمل کرے گا۔ یہ 21 سال بہت کم بھی ہیں اور بہت زیادہ بھی۔ کم اس لیے کہ 21 سال میں ایک نسل تیار ہو جاتی ہے، اور زیادہ اس لیے کہ اگر قومی سمت درست ہو تو دو دہائیوں میں ملک کی صورت بدل سکتی ہے۔ ہمیں تعلیم کو صرف ڈگری نہیں بلکہ ہنر بنانا ہوگا۔ زراعت کو صنعت سے جوڑنا ہوگا۔ معدنیات کو خام مال کے بجائے تیار مصنوعات میں تبدیل کرنا ہوگا۔ پانی کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھنا ہوگا۔ سمندر کو روزگار اور برآمدات کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ توانائی کو سستا اور قابلِ اعتماد بنانا ہوگا۔ خلائی پروگرام کو تجارتی مواقع سے جوڑنا ہوگا۔ سیاحت، ثقافت اور تاریخی ورثے کو معیشت کا حصہ بنانا ہوگا۔ خواتین اور نوجوانوں کو ملک کی معاشی قوت میں بھرپور حصہ دینا ہوگا۔ اور سب سے بڑھ کر قانون کی حکمرانی، اداروں کا تسلسل اور شفافیت کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔

ہمیں بھارت سے یہ نہیں سیکھنا کہ بھارت بننا ہے ہمیں دنیا سے یہ سیکھنا ہے کہ پاکستان کیسے بہتر پاکستان بن سکتا ہے۔ ہمیں اپنی خامیوں کا اعتراف کرنے میں شرمندگی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ جو قوم اپنی کمزوری کو پہچان لیتی ہے وہ اسے دور بھی کر سکتی ہے۔ 1947 میں ہمارے پاس وسائل محدود تھے مگر امید بہت بڑی تھی۔ 2026 میں ہمارے پاس وسائل بھی ہیں، انسانی طاقت بھی، تجربہ بھی اور 79 سال کا سبق بھی۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ ہم ان سب کو ایک سمت میں کب جمع کرتے ہیں۔

اگر کوئی آج پوچھے کہ پاکستان کیا ہے تو شاید جواب یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے مشکل حالات میں اپنی بقا ثابت کی، دفاع میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں، کھیل اور صنعت میں دنیا کو حیران کیا، مگر تعلیم، صحت، معیشت، قانون کی حکمرانی اور سیاسی تسلسل کے میدان میں ابھی بہت کچھ حاصل کرنا باقی ہے۔ ہم نہ مکمل ناکام ہیں نہ مکمل کامیاب۔ ہم ایک ایسا ملک ہیں جس میں امکانات بہت زیادہ ہیں اور منزل ابھی باقی ہے۔

الحمدللہ، ہم 79 سال کے ہو چکے ہیں اور اب 80ویں آزادی کے سال میں داخل ہو رہے ہیں۔ ہماری اگلی منزل 2047 ہے۔ ہمارے پاس صرف 21 سال ہیں۔ آج جو بچہ اسکول میں ہے، وہ 2047 میں پاکستان کی معیشت، پارلیمان، عدالت، صنعت، فوج، جامعات اور انتظامیہ کا حصہ ہوگا۔ اگر ہم آج درست فیصلے کرتے ہیں تو 2047 صرف آزادی کے سو سال مکمل ہونے کا سال نہیں ہوگا بلکہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ پاکستان نے اپنی پہلی صدی میں خود کو پہچان لیا۔ ہم نے 79 سال میں ثابت کیا ہے کہ ہم مشکل حالات میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ اب اگلے 21 سال میں ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم ترقی، خوشحالی اور خود انحصاری بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہی 2047 کا اصل سوال ہے، اور شاید یہی پاکستان کے اگلے 21 سال کا اصل امتحان بھی ہے۔

حوالہ جات

1۔ پاکستان بیورو آف شماریات، ساتویں مردم شماری 2023؛ آئی ایم ایف، پاکستان کنٹری پروفائل۔

2۔ اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام، انسانی ترقی رپورٹ 2025: پاکستان 193 ممالک میں 168ویں نمبر پر۔

3۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر؛ مالی سال 2025-26 میں تقریباً 41.6 ارب ڈالر۔

4۔ عالمی بینک، عالمی ترقیاتی اشاریے؛ 2025 میں بھارت اور پاکستان کی مجموعی معیشت اور فی کس آمدنی کے اعداد۔

5۔ شفافیت انٹرنیشنل، کرپشن تاثر اشاریہ 2025؛ پاکستان 182 ممالک میں 136ویں نمبر پر۔

6۔ عالمی انصاف منصوبہ، قانون کی حکمرانی اشاریہ 2025؛ پاکستان 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر۔

7۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، پاکستان اور آئی ایم ایف؛ 1958 سے اب تک 25 پروگرام/معاہدے۔

8۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، 2024 کا 37 ماہ کا توسیعی فنڈ سہولت پروگرام، تقریباً 7 ارب ڈالر۔

9۔ SIPRI اور 2026 کی دفاعی رپورٹس؛ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کا تخمینہ تقریباً 170۔

10۔ اولمپک ریکارڈ، آئی سی سی، پی سی بی اور عالمی کھیلوں کے ریکارڈ؛ پاکستان کی ہاکی، اسکواش اور کرکٹ کی کامیابیاں۔

11۔ پاکستان کی تجارتی و برآمدی دستاویزات؛ سیالکوٹ کے کھیلوں کے سامان، جراحی کے آلات، ٹیکسٹائل، چاول اور دیگر برآمدی شعبے۔

12۔ سپارکو اور سرکاری دستاویزات؛ پاکستان کے خلائی پروگرام اور سیٹلائٹ سرگرمیاں۔

13۔ پاکستان کے سرکاری جغرافیائی و معدنیاتی ذرائع؛ رقبہ، ساحلی پٹی، پانی، معدنیات اور قدرتی وسائل

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے