زمین مبارک ہو!

ٹالسٹائی کی ایک بہت مشہور کہانی ’’How Much Land Does a Man Require‘‘ (ایک انسان کو کتنی زمین کی ضرورت ہوتی ہے) کچھ دن سے مجھے بہت یاد آ رہی ہے۔ یہ بہت عجیب و غریب کہانی ہے۔ بات تو اس میں وہی کہی گئی ہے جو ہم برسوں سے سنتے چلے آ رہے ہیں، لیکن ٹالسٹائی نے کہانی کو جو ٹریٹمنٹ دی ہے، اس سے یہ کہانی دنیا کے افسانوی ادب کی بہترین کہانیوں میں شمار ہوتی ہے۔

گاؤں کے ایک غریب کسان کو خبر ملتی ہے کہ دور دراز کے ایک گاؤں کے زمیندار نے اعلان کیا ہے کہ وہ کسانوں میں اپنی زمین مفت بانٹے گا۔ خبر کان میں پڑتے ہی یہ کسان اس گاؤں کا رخ کرتا ہے اور حیران رہ جاتا ہے کہ جو خبر اس نے سنی تھی، وہ واقعی درست ہے۔ ایک سر پھرا زمیندار کسانوں میں اپنی زمین واقعی مفت بانٹنا چاہتا ہے، لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ فجر سے لے کر سورج غروب ہونے تک جو جتنی زمین چاہے، اتنی زمین پر نشان لگا کر وہ زمین لے لے، لیکن اسے بہرحال سورج غروب ہونے سے پہلے اس پوائنٹ پر واپس پہنچنا ہوگا جہاں سے اس نے زمین پر نشان لگانا شروع کیا تھا۔ بصورتِ دیگر نہ صرف یہ کہ وہ معمولی رقم ضبط کر لی جائے گی جو زرضمانت کے طور پر زمیندار نے اپنے پاس رکھوائی ہے، بلکہ اس شخص کی ساری محنت بھی اکارت جائے گی، کیونکہ سورج غروب ہونے سے پہلے واپس نہ آنے کی صورت میں اسے زمین کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ملے گا۔

یہ غریب کسان اگلے روز فجر کے وقت کدال ہاتھ میں لیے اس پوائنٹ پر پہنچتا ہے جہاں سے زمین اس نے شروع کرنا تھی اور پورے جوش و خروش سے زمین پر نشان لگاتا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ پانچ چھ میل کا رقبہ نشان زد کرنے کے بعد وہ سانس لینے کے لیے رکتا ہے۔ وہ نشان زدہ زمین پر نظر دوڑاتا ہے تو یہ دیکھ کر اس کی خوشی کی حد نہیں رہتی کہ وہ ایک وسیع علاقے کا مالک بن چکا ہے۔ وہ واپسی کے سفر کا ارادہ کرتا ہے، مگر پھر اسے خیال آتا ہے کہ تھوڑے سے فاصلے پر پھلوں کا جو ایک بڑا باغ ہے، اسے بھی اپنے رقبے میں شامل کر لے تو پورے علاقے میں اس کی امارت کی دھاک بیٹھ جائے گی۔ چنانچہ وہ دوبارہ کدال ہاتھ میں پکڑ کر اپنا سفر شروع کر دیتا ہے۔

اس دوران دوپہر ہو جاتی ہے۔ گرمی کی شدت اسے بے حال کر دیتی ہے، پیاس سے اس کی زبان سوکھ کر کانٹا بن جاتی ہے، لیکن زمین کی ہوس میں وہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اب اس کا جسم جواب دینے لگتا ہے، چنانچہ وہ واپسی کا ارادہ کرتا ہے۔

مگر اسے یہ دیکھ کر سخت پریشانی ہوتی ہے کہ سورج ڈوبنے میں صرف دو تین گھنٹے رہ گئے ہیں اور اس کا واپسی کا سفر اس سے کہیں زیادہ لمبا ہے۔ اس کے جسم میں بھی سکت نہیں اور پیاس نے بھی اس کا برا حال کیا ہوا ہے، تاہم وہ گھسٹتا گھسٹتا واپسی کا سفر شروع کرتا ہے اور کدال سے نشان لگاتا چلا جاتا ہے۔

جب منزل اس سے صرف ایک فرلانگ کے فاصلے پر رہ جاتی ہے تو وہ گر پڑتا ہے، مگر پھر وہ اپنے جسم کی ساری طاقتیں بحال کرکے کھڑا ہوتا ہے اور چلنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کی سانس دھونکنی کی طرح چل رہی ہوتی ہے، اس کے قدم لڑکھڑا رہے ہوتے ہیں اور اس کی زبان میں سوئیاں سی چبھ رہی ہیں۔ سورج غروب ہونے میں چند لمحے باقی ہیں، تاہم وہ ادھ موئے جسم کو تیزی سے گھسیٹتا ہوا، سورج غروب ہونے سے پہلے اس پوائنٹ تک پہنچ جاتا ہے جہاں سے اس نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اور جہاں زمیندار اور گاؤں کے دوسرے لوگ اس کے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔

کسان اس پوائنٹ پر پہنچتے ہی گر جاتا ہے۔ لوگ اس کے قریب جاتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ وہ مر چکا ہے۔ زمیندار اس کے ہاتھ سے کدال کھینچ کر اپنے ایک مزارع کی طرف اچھالتا ہے اور کہتا ہے: ’’اس کی قبر کھودو، اسے صرف دو گز زمین درکار تھی!‘‘

آئے روز زمین پر قبضے کے لیے ہونے والے لڑائی جھگڑوں اور قتل و غارت کی خبروں سے یہ کہانی بار بار یاد آ رہی تھی، سوچا آپ سے بھی شیئر کر لوں۔

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے