آوازوں کے میلے میں

آوازوں کے میلے میں، محمد حمید شاید کا بچوں کے لیے لکھا گیا ناول ہے جسے جون 2026 میں نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد نے شائع کیا۔ ادبی تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں کے لیے باقاعدہ لکھنے والا سب سے پہلا ادیب انگلستان کا رہائشی "بشپ ایلڈم” تھا جو ایک سکول میں معلم تھا۔ "بشپ ایلڈم” نے بچوں کے لیے نظموں اور گیتوں کی صورت میں پہلی دفعہ درسی کتب تیار کیں لیکن اس سے بہت پہلے تیسری صدی قبل از مسیح میں وشنو شرما نے سنسکرت میں "پنج تنتر” لکھی جو اخلاقی اور سماجی موضوعات پر مشتمل کہانیوں کا مجموعہ تھی۔

فارسی میں گلستان و بوستان (حکایات سعدی) بچوں کی تربیت کے لیے پڑھی پڑھائی جاتی رہیں۔ اردو ادب میں امیر خسرو کی مثنوی "خالق باری” کو تمام محققین بچوں کے لیے لکھی جانے والی پہلی باقاعدہ تحریر گردانتے ہیں۔ اردو زبان کے ابتدائی زمانے میں بچوں کی کہانیوں کے لیے شعری اصناف کا استعمال کیا گیا مگر 1803 میں انشاء اللہ خان نے "رانی کیتکی” لکھ کر اردو زبان میں بچوں کے نثری ادب کا آغاز کیا۔

جہاں تک بچوں کے لیے ناول نگاری کا تعلق ہے تو اردو ادب میں اس کا آغاز 1927 میں مرزا عظیم بیگ چغتائی کے ناول "قصر صحرا” سے ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ ایک صدی سے جاری ہے اور محمد حمید شاہد کا بچوں کے لیے لکھا جانے والا ناول "آوازوں کے میلے میں” اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

محمد حمید شاہد کا یہ ناول ایک ایسے بچے کے بارے میں ہے جو سماعت کی محرومی لے کر پیدا ہوا۔ سوائے اس کی ماں کی آواز کے ہر آواز اس بچے کے کانوں سے ٹکرا کر گزر جاتی۔ اس کے کان صرف اپنی ماں کی اواز سے شناسا تھے۔ وہ اپنی ماں کی ہر آواز پر رد عمل دیتا لیکن باقی آوازیں اس کے لیے حیرت و استعجاب کا در وا کرنے کے علاوہ کچھ نہ تھیں۔

کہانی میں بچے کا نام علی، اس کی والدہ کا نام عالیہ اور والد کا نام احمد ہے۔ عالیہ اور احمد اپنے بچے علی کی پیدائش پر جس کرب سے گزر رہے تھے اس کو محمد حمید شاہد نے اپنے مخصوص اسلوب سے نہایت پر اثر انداز میں تحریر کیا ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

"رات بھر عالیہ نے علی کو اپنی گود میں لیے رکھا یوں جیسے کسی ٹوٹی ہوئی دعا کو سینے سے لگایا جاتا ہے کہ شاید ممتا کی گرمی سے جڑ جائے٫ کبھی وہ مدہم سی آواز میں کوئی پرانی لوری گنگناتی جو خود اسے بھی یاد نہ رہا تھا کہ کہاں سے اس کی یادداشت کا حصہ ہوئی تھی ، کبھی اس کے حلقوم میں آنسو اترنے لگتے اور وہ بغیر کسی اواز کے رونے لگتی۔ کمرے میں بظاہر سکون تھا مگر درحقیقت وہ ایک ایسی جنگ کا میدان تھا جہاں ایک ماں اپنے بچے کی خاموشی سے لڑ رہی تھی۔ دوسری طرف احمد چپ چاپ کرسی پر بیٹھا رہا۔ وہ شاید وقت کی گرفت میں تھا یا پھر شاید اپنی بے بسی کی رسیوں میں بندھا اور جکڑا ہوا تھا”

ناول میں جزیات نگاری اور منظر نگاری کی اہمیت سے کون واقف نہیں۔ محمد حمید شاہد نے اس فن کو نہایت احسن درجے سے استعمال کیا ہے۔ لفظ جا بہ جا منظر تراشتے نظر آتے ہیں۔ کہانی میں لاہور شہر کا ذکر ملاحظہ ہو:

"اس رات لاہور شہر کی فضا میں بہت خنکی تھی، ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور شہر کی سڑکوں پر بہتا پانی انہیں چمکدار بنا رہا تھا۔ بارش کی موتیوں جیسی بوندیں درختوں کے پتوں اور شاخوں سے ٹپک رہی تھیں اور دور سے مینار پاکستان کی روشنیاں جگمگا رہی تھیں۔ عالیہ اور اس کے شوہر احمد اسی شہر میں رہتے تھے، ان کا گھر موری دروازے کے عقبی علاقے میں تھا۔ احمد کو اپنا محلہ بہت پسند تھا کیوں کہ یہ لوہاری اور بھاٹی دروازے کے درمیان شہر پناہ کی جنوبی جانب واقع تھا۔ اس کے بالکل سامنے سرکلر روڈ کے دوسری طرف اُردو بازار تھا جہاں سے وہ اکثر نئی کتابیں خرید لاتا”

ناول نگار جس موضوع پر قلم اٹھائے اسے اس پر مکمل دسترس ہونی چاہیے۔ اس ناول میں جا بہ جا میڈیکل اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر ناول کے مرکزی کردار علی پر اس کی پیدائش سے لے کر بڑا ہونے تک مختلف تجربات کرتے رہے۔ علی کے دماغ میں ایک الیکٹرک ڈیوائس "کو کلیئر امپلانٹ” نصب کیا گیا جس میں غلطی سے سپر ہیئرنگ والی سیٹنگ لگ گئی، اب علی دور کی آوازیں آسانی سے سن سکتا تھا مگر اس کے کان نزدیک کی آوازیں سننے سے ابھی بھی محروم تھے۔

اگر ان تمام میڈیکل اصطلاحات اور طریقہ علاج کا علم ناول نگار کو نہ ہو تو وہ کہانی آگے نہیں بڑھا سکتا۔ لگتا ہے ناول نگار نے کسی ڈاکٹر سے باقاعدہ ان اصطلاحات کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے بعد اس موضوع پر قلم اٹھایا۔

دور کی آوازیں سننا علی اور اہل محلہ کے لیے زحمت کی بجائے رحمت ثابت ہوا۔ کئی مواقع پر علی نے دور کی آوازیں سن کر لوگوں کو قبل از وقت آنے والے حادثات کی خبر دی۔ اس کی بظاہر جسمانی خامی خوبی میں بدل گئی اور یونیورسٹی کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد اس کی خدمات سے حکومت وقت نے استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ناول نگار محمد حمید شاہد کا ماننا ہے کہ یہ کہانی نہ صرف بچوں کے لیے ہے بلکہ بڑوں کے لیے بھی ہے۔ اس ناول کے مطالعے کے بعد میں بھی اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ ناول بڑوں کے لیے بھی اتنا ہی مفید ہے اور معلومات افزا ہے جتنا بچوں کے لیے۔

محمد حمید شاہد اس کہانی کے پیش نامے میں رقم طراز ہیں کہ بچوں کے لیے لکھنا ان پر قرض تھا جس نے ہمیشہ انہیں بے چین رکھا تاہم اس کی تحریک انہیں اپنے خاندان ہی کے ایک بچے عبدالقادر جیلانی کی مشکلات دیکھ کر ہوئی جو سماعت سے محرومی لے کر پیدا ہوا اور اپنے والدین کے لیے ایک کڑی آزمائش بن گیا۔

اس کہانی کے اخر میں بچوں کی بہتر تفہیم کے لیے فرہنگ بھی دی گئی ہے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھاوا دینے کے لیے عملی مشقیں بھی ترتیب دی گئی ہیں۔ 114 صفحات کی اس کتاب کی قیمت -/610 روپے مقرر کی گئی ہے جو نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد اور اس کی ذیلی شاخوں پر دستیاب ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے