پاکستان میں تعلیم کا بجٹ کتنا ہے، کیا یہ ہماری ضرورت کے لیے کافی ہے؟

2026-27 کے بجٹ میں وفاق اور صوبوں نے تعلیم کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 2 کھرب روپے سے زیادہ مختص کیے ہیں۔ رقم بڑی ہے، لیکن پاکستان کی تعلیمی ضرورت بھی بہت بڑی ہے۔ اس لیے اصل سوال رقم کا حجم نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ بجٹ موجودہ تعلیمی مسائل کے مقابلے میں کافی ہے؟

وفاقی حکومت نے تعلیم کے لیے تقریباً 194 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

صوبوں میں:پنجاب: تقریباً 750 ارب روپے،سندھ: تقریباً 551 ارب روپے،خیبرپختونخوا: تقریباً 398 ارب روپے،بلوچستان: تقریباً 144 ارب روپے۔

ان اعداد کو ملا کر وفاق اور چاروں صوبوں کا تعلیمی بجٹ تقریباً 2.04 کھرب روپے بنتا ہے۔ صوبائی بجٹ میں تعلیم کی مدات مختلف طریقے سے شامل کی جاتی ہیں، اس لیے یہ مجموعہ ایک سادہ تقابلی اندازہ ہے، باقاعدہ وفاقی قومی مجموعہ نہیں۔پنجاب کی 750 ارب روپے کی رقم صوبے کے مجموعی بجٹ کا تقریباً 15 فیصد ہے۔

ملک کی تعلیمی صورتحال کیا کہتی ہے؟

پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک کی خواندگی کی شرح 63 فیصد ہے۔اسکول سے باہر بچوں کی شرح 28 فیصد رہ گئی ہے، جو 2023 میں 38 فیصد تھی۔ یعنی اس عرصے میں بہتری آئی ہے، لیکن اب بھی اسکول جانے کی عمر کے تقریباً ہر 100 میں 28 بچے اسکول سے باہر ہیں۔

یہی اعداد بتاتے ہیں کہ تعلیم کے میدان میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، مگر مسئلہ ابھی بہت بڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مستحق بچوں کے لیے ڈیجیٹل تعلیم کا نیا آغاز

تعلیم پر قومی آمدن کا کتنا حصہ خرچ ہوتا ہے؟

پاکستان اکنامک سروے کے مطابق 2024-25 میں تعلیم پر سرکاری اخراجات جی ڈی پی کے تقریباً 0.8 فیصد کے برابر رہے۔

یعنی اربوں روپے کی بڑی رقم سنائی دیتی ہے، لیکن ملکی معیشت کے مجموعی حجم کے مقابلے میں تعلیم پر سرکاری خرچ کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم رہا۔

توکیا مختص رقم ہی اصل خرچ ہے؟

نہیں۔بجٹ میں رقم مختص ہونا اور اس رقم کا حقیقتاً خرچ ہونا الگ چیزیں ہیں۔ اسی طرح خرچ ہونا اور اس کے نتیجے میں تعلیمی معیار بہتر ہونا بھی الگ معاملہ ہے۔

اس لیے تعلیمی بجٹ کو جانچنے کے لیے تین باتیں اہم ہیں:کتنی رقم مختص,کتنی خرچ ہوئی؟اور اس خرچ کے بعد تعلیمی نتائج کیا رہے؟

موجودہ اعداد کی بنیاد پر یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان کی تعلیمی ضرورت پوری ہو رہی ہے۔

ایک طرف 2 کھرب روپے سے زیادہ کا وفاقی و صوبائی تعلیمی بجٹ ہے، خواندگی میں بہتری آئی ہے اور اسکول سے باہر بچوں کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد ہوئی ہے تودوسری طرف اب بھی تقریباً 28 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں اور تعلیم پر سرکاری خرچ ملکی پیداوار کے مقابلے میں 0.8 فیصد کے قریب ہے۔

اس لیے موجودہ تصویر کو ایک جملے میں یوں سمجھا جا سکتا ہے:

پاکستان تعلیم پر بڑی رقم خرچ کر رہا ہے، لیکن ملک کی تعلیمی ضرورت اس رقم سے کہیں بڑی دکھائی دیتی ہے!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے