مشہور عالمی رہنما نیلسن منڈیلا نے ایک بار کہا تھا، ”مجھے میری کامیابیوں سے مت پرکھو، بلکہ یہ دیکھو کہ میں کتنی بار گرا اور پھر سے اٹھ کھڑا ہوا“۔ تاریخ جب بھی پاکستان کے مقبول ترین سیاسی رہنما عمران خان کی داستان لکھے گی، تو اس کا عنوان ”اڈیالہ سے ہسپتال تک“‘ ہی تجویز کیا جائے گا۔ یہ ایک ایسی حیرت انگیز اور تاریخی داستان ہے جو کینسر کے غریب اور بے بس مریضوں کے لیے ”شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال“جیسے عظیم الشان ادارے کی تعمیر سے شروع ہوئی، اور آج اگست 2026 میں گرتی ہوئی صحت، ہائی بلڈ پریشر اور اینگزائٹی کے باعث سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے ”شفاءانٹرنیشنل ہسپتال“منتقلی پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ یہ طویل ترین سفر صرف ایک انسان کی جسمانی نقل و حرکت کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے سیاسی نظام، طویل سیاسی جدوجہد، مقبولیت کے عروج اور ہر حال میں اپنے ملک و عوام کے ساتھ جینے مرنے کے ایک پختہ عزم کی لازوال تصویر ہے۔
عمران خان کی زندگی میں ”ہسپتال“کا لفظ گہرے علامتی اور جذباتی معنی رکھتا ہے۔ نوے کی دہائی میں جب وہ سیاست کے خاردار راستوں پر قدم بھی نہیں رکھے تھے، انہوں نے اپنی والدہ کی کینسر کے باعث وفات کے بعد ایک عزم کیا۔ انہوں نے دنیا بھر سے چندہ اکٹھا کیا اور پاکستان کا پہلا ایسا ہسپتال بنایا جہاں غریبوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔ وہ ہسپتال ان کی عوامی خدمت، انسانیت سے محبت اور بے مثال عزم کا پہلا بڑا مظہر تھا۔
آج، تقریباً تین دہائیوں بعد، وہی عمران خان ایک قیدی کے طور پر گرتی ہوئی صحت کے علاج کے لیے ایک اور ہسپتال منتقل کیے جا رہے ہیں۔ لیکن ان دونوں ہسپتالوں کے درمیان کا فاصلہ اقتدار کے عروج، قید کی صعوبتوں اور عوام کی بے پناہ محبت سے بھرا ہوا ہے۔ شوکت خانم سے شفاءانٹرنیشنل تک کا یہ طویل سفر ایک عالمی کرکٹ اسٹار سے لے کر ملک کے مقبول ترین سیاسی قیدی بننے کی مکمل کہانی ہے۔
اگر ہم عمران خان کے سیاسی سفر پر نظر ڈالیں تو یہ کبھی بھی ہموار یا آسان نہیں رہا۔ 1996 میں جب انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی، تو اس وقت کے روایتی سیاست دانوں نے انہیں ایک غیر سنجیدہ عنصر قرار دے کر ان کا تمسخر اڑایا۔ لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی اور ملکی تاریخ کی طویل ترین 22 سالہ سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ یہ وہ دور تھا جب ان کے پاس نہ تو کوئی بڑا الیکٹیبل تھا اور نہ ہی دولت کی چمک دمک۔ وہ اکیلے گلیوں، شہروں اور دیہاتوں میں گھومے، ملک کے نوجوانوں کو بیدار کیا اور ملک میں انصاف، قانون کی حکمرانی اور کرپشن کے خاتمے کا علم بلند کیا۔ 2018 میں ان کی یہ انتھک محنت رنگ لائی اور وہ ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ تاہم، اقتدار کا یہ مرحلہ ان کی آزمائشوں کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک نئے اور کٹھن ترین دور کا آغاز ثابت ہوا۔
اپریل 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے انہیں اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا۔ مخالفین کا خیال تھا کہ اس اقدام سے عمران خان کی سیاست ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی، لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ یہ ان کی عوامی مقبولیت کی حقیقی معراج کا آغاز تھا۔ اقتدار چھیننے کے بعد جب وہ عوام کے پاس گئے تو ملک بھر میں جلسوں میں لاکھوں کا ہجوم امڈ آیا۔ عوام نے انہیں اپنا حقیقی اور بیباک لیڈر تسلیم کر لیا۔
فروری 2024 کے عام انتخابات نے اس عوامی مقبولیت پر آخری مہر ثبت کر دی۔ تمام تر سخت پابندیوں، انتخابی نشان چھیننے، پارٹی کے مرکزی رہنماوں کی گرفتاریوں اور قید و بند کے باوجود، عمران خان کے نام پر لڑنے والے آزاد امیدواروں نے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی انتخابی مزاحمت ریکارڈ کروائی اور سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ آج 2026 میں بھی، ایک طویل عرصے سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہونے کے باوجود، وہ بدستور پاکستان کے مقبول ترین رہنما کے طور پر قائم ہیں۔
عمران خان کو ان کے تمام ہم عصر سیاست دانوں سے جو چیز سب سے زیادہ ممتاز اور منفرد کرتی ہے، وہ ان کا ہر مشکل حالات میں اپنی مٹی اور اپنے عوام کے ساتھ جڑے رہنے کا غیر متزلزل فیصلہ ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک کے کسی بڑے روایتی سیاسی رہنما پر کوئی مشکل وقت آیا، اس نے بیرون ملک جلاوطنی، علاج کا بہانہ یا خفیہ ڈیلز کو ترجیح دی۔ لیکن عمران خان نے تمام تر دباو، آفرز اور قید کی صعوبتوں کے باوجود ملک چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا۔
لندن، نیویارک یا دبئی کے پرآسائش محلوں میں رہنے کے بجائے انہوں نے اڈیالہ جیل کی ایک تنگ اور تاریک کوٹھڑی میں تنہائی کاٹنے کو ترجیح دی۔ انہوں نے عملی طور پر یہ ثابت کیا کہ ان کا جینا مرنا صرف اور صرف پاکستان کے عوام کے ساتھ ہے۔ ان کا یہ قول کہ ”میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے“ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ ان کا وہ تاریخی عمل ہے جس کی قیمت وہ اپنی صحت اور آزادی کی شکل میں ادا کر رہے ہیں۔
آج جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان کی شدید علالت، ہائی بلڈ پریشر اور بڑھتی ہوئی اینگزائٹی کی رپورٹس کے بعد انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کا تحریری حکم جاری کیا ہے، تو یہ لمحہ پورے ملک کے لیے ایک گہرا فکری پیغام رکھتا ہے۔ ایک ایسا رہنما جس نے اپنے دورِ اقتدار میں غریب عوام کو ”صحت کارڈ“جیسی تاریخی سہولت فراہم کی، تاکہ کوئی غریب علاج سے محروم نہ رہے، وہ شخص آج اپنے بنیادی انسانی اور طبی حقوق کے لیے عدالتی احکامات کا محتاج بنا ہوا ہے۔
لیکن ہسپتال کے بستر پر لیٹا ہوا یہ نحیف شخص آج بھی اپنے سیاسی حریفوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ تاریخ ہمیشہ ان رہنماوں کو دلوں میں زندہ رکھتی ہے جو کڑے وقت میں اپنی عوام کو تنہا چھوڑ کر نہیں جاتے۔ عمران خان کا شوکت خانم سے شفاءانٹرنیشنل ہسپتال تک کا یہ سفر دراصل پاکستان کے عوام کے حقوق، قانون کی بالادستی اور حقیقی آزادی کی وہ عظیم جنگ ہے جو اب کسی ایک شخص کی ذات سے نکل کر ایک قومی نظریہ بن چکی ہے، اور تاریخ کا حتمی فیصلہ ہمیشہ مٹی سے وفاداری کرنے والوں کے حق میں ہی آتا ہے.