تصور کریں کہ ایک شاطر جادوگر آپ کے ہاتھ سے لوہے کی وزنی زنجیریں کھول دے، آپ کے گلے سے غلامی کا پٹہ اتار پھینکے، اور مسکرا کر کہے: "مبارک ہو! آج سے تم بالکل آزاد ہو، جہاں چاہو جاؤ، جو چاہو کرو۔” لیکن جیسے ہی آپ خوشی سے قدم آگے بڑھاتے ہیں، آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ جس زمین پر آپ کھڑے ہیں، جس کنویں سے آپ پانی پیتے ہیں، اور جس درخت کی چھاؤں میں آپ سانس لیتے ہیں—ان سب کا مالک وہی جادوگر ہے۔ اب آپ آزاد تو ہیں، لیکن زندہ رہنے کے لیے آپ کو صبح سے شام تک اسی جادوگر کی بتائی ہوئی شرطوں پر کام کرنا پڑے گا۔ 18ویں اور 19ویں صدی کے انقلابات کے بعد دنیا کے کروڑوں انسانوں نے جب آنکھ کھولی، تو انہیں اندازہ ہوا کہ پرانے دور کی جاگیردارانہ غلامی ختم نہیں ہوئی تھی، بلکہ اس نے ایک نیا، چمکدار اور خوبصورت روپ دھار لیا تھا جسے ہم "سرمایہ داری” کہتے ہیں۔
تاریخ کا یہ موڑ اس وقت آیا جب یورپ میں بھاپ کے انجن اور تیز رفتار مشینوں نے جنم لیا۔ 1800ء کے ابتدائی دہائیوں میں برطانیہ اور یورپ کے شہروں میں دیہات سے لاکھوں کسان اس امید پر آئے کہ کارخانوں کی یہ نئی دنیا ان کی نسلوں کی تقدیر بدل دے گی۔ لیکن حقائق اتنے بھیانک تھے کہ سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ لندن اور مانچسٹر کی ملوں میں چھ چھ سال کے بچوں کو مشینوں کے نیچے گھس کر صفائی کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا کیونکہ ان کے چھوٹے ہاتھ باریک پرزوں تک پہنچ سکتے تھے۔ 1833ء کی برطانوی پارلیمانی رپورٹس کے مطابق، مزدوروں کے بچے صبح چار بجے سے رات آٹھ بجے تک، یعنی 16 گھنٹے روزانہ، بغیر کسی وقفے کے کارخانوں کے حبس اور گرد و غبار میں کام کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں تعلیم کا بجٹ کتنا ہے، کیا یہ ہماری ضرورت کے لیے کافی ہے؟
سرمایہ داری نے آزادی کا نعرہ تو لگایا، لیکن اس نے انسان سے اس کا بنیادی وجود اور انسانیت چھین لی۔ 19ویں صدی کے وسط میں اگر کوئی مزدور کام کرتے ہوئے معذور ہو جاتا، تو مل کا مالک اسے کوئی طبی سہولت یا معاوضہ دینے کے بجائے اسی وقت باہر پھینک دیتا تھا، کیونکہ دروازے پر سو اور بھوکے انسان اسی اجرت پر کام کرنے کے لیے قطار میں کھڑے ہوتے تھے۔ اس نظام نے انسان کو ایک زندہ وجود سے گھٹا کر صرف ایک "پیداواری پرزہ” بنا دیا۔ جب صنعتی مالکان کے منافعے آسمان کو چھونے لگے اور مزدوروں کی جھونپڑیاں بدبو، بیماریوں اور فاقہ کشی کا گڑھ بن گئیں، تب دنیا میں یہ شعور بیدار ہونا شروع ہوا کہ یہ نظام ترقی کا نہیں بلکہ نادیدہ استحصال کا دوسرا نام ہے۔
لوگ کیپٹلزم کے خلاف صرف کسی کتابی نظریے کی وجہ سے کھڑے نہیں ہوئے تھے، بلکہ وہ اس لیے سڑکوں پر آئے تھے کیونکہ اس نظام نے ان سے ان کی زندگی، صحت اور اپنے بچوں کا مستقبل چھین لیا تھا۔ 1886ء کا مشہور شیکاگو کا واقعہ ہو یا یورپ کی خونریز مزدور تحریکیں، آج ہم جو 8 گھنٹے کے کاری اوقات، ہفتہ وار چھٹی، اور ایمرجنسی طبی سہولیات دیکھتے ہیں، یہ سب سرمایہ داروں کی سخاوت کا نتیجہ نہیں ہیں۔ یہ ان لاکھوں انسانوں کے خون اور جدوجہد کی قیمت ہے جنہوں نے اس بے رحم نظام کے گلے میں قانون کی لگام ڈالی۔
سرمایہ داری نے دنیا کو شاندار تکنیک اور سامان تو دیا، لیکن اس نے انسان کو ایک ایسی دوڑ میں دھکیل دیا جہاں ہر چیز کی قیمت تو ہے مگر کسی چیز کی قدر نہیں۔ اگر اس نظام کو بغیر اخلاقی قواعد اور سخت قوانین کے کھلا چھوڑ دیا جائے، تو یہ ترقی کا سفر نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا خاموش انژدھا بن جاتا ہے جو محنت کرنے والے کے ہر قطرے کو نچوڑ کر چند تجوریوں میں بند کر دیتا ہے۔
آزادی صرف یہ نہیں کہ آپ کو اپنی مرضی کا مالک چننے کا حق ہو، حقیقی آزادی یہ ہے کہ آپ کو زندہ رہنے کے لیے کسی کی محتاجی اور استحصال کا شکار نہ ہونا پڑے۔