گزشتہ روز ہم اپنے ایک دوست کے گھر گئے تو اسکی کوٹھی کا مین گیٹ اندر سے مقفل تھا اور گھنٹی باہر نہیں ، اندر گیراج کی دیوار کے ساتھ تھی ۔ یہ مین گیٹ اتنا چھوٹا تھا کہ اسے آسانی سے پھلانگ کر گھنٹی تک رسائی حاصل کی جاسکتی تھی ۔ پہلے ہم نے سوچا کہ اپنے وسیع تجربے کو بروئے کار لائیں اور جب اس میں کامیاب ہوں تو یہ شعر پڑھیں :
گھر میں ترے کودا کوئی یوں دھم سے نہ ہوگا
جو ہم سے ہوا فعل وہ رستم سے سے نہ ہوگا
مگر پھر سوچا کہ ہر کام کیلئے ایک عمر ہوتی ہے۔ اس عمر میں اس قسم کے کاموں کا نتیجہ صرف ”چک“ کی صورت میں نکلتا ہے۔ لہٰذا سورج کی تیز کرنوں کا غصہ ؟ ہم لو ہے کے دروازے پر مکے کی صورت اُتارتے رہے ۔ حتیٰ کہ افلاک سے ہمارے نالوں کا جواب آیا یعنی اندر سے ہمارے دوست کے ایک عزیز دروازہ کھولنے کیلئے باہر تشریف لائے ۔ ہم ان سے پہلی دفعہ متعارف ہوئے تھے ۔ سو دروازہ کھلنے پر ہم نے اندر داخل ہو کر گفتگو شروع کرنے کی غرض سے کہا ” بڑی گرمی ہے”۔انہوں نے کہا "صحیح ہے”۔ہم نے عرض کی” تھوڑی دیر پہلے موسم بہت خوشگوار تھا” بولے "صحیح ہے۔”ہم نے کہا” بارش ہو جائے تو شاید موسم ایک بار پھر ٹھیک ہو جائے”بولے "صحیح ہے”۔گرمی نے ہمیں نروس کیا ہوا تھا۔ چنانچہ ڈرائنگ روم میں داخل ہونے کے بعد یہ کہنے کی بجائے کہ گرمی زیادہ ہے ذرا پنکھا تیز کر دیں ، ہم نے کہا گرمی زیادہ ہے ذرا پنکھا بند کر دیں۔ انہوں نے کہا "صحیح ہے” اور پنکھا بند کر دیا۔خیران محترم سے تو ہمارا تعارف نہیں تھا۔ چنانچہ ہم نے تخمینہ لگایا کہ یہ” صحیح ہے”در اصل انکا تکیہ کلام ہے۔ ورنہ کچھ لوگ عادتاًنہیں مجبوراً یا ضرورتاً بات بات پر” صحیح ہے ” کہتے ہیں اور من کی مرادیں پاتے ہیں۔
ایک دفعہ ایک صاحب ہمارے دفتر میں تشریف لائے ۔ انہوں نے ایک کاغذ کا ٹکڑا ہمارے ہاتھ میں تھمایا۔ ان کی وضع قطع سے ہم نے اندازہ لگایا کہ شاید انہوں نے کچھ اسی قسم کا رقعہ ہمیں تھمایا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے۔ برادرانِ اسلام میں گونگا بہرا مسکین و محتاج ہوں، میری مدد فرما کر عند الله ماجور ہوں ! چنانچہ ہم ان سے معذرت کرنے ہی کو تھے کہ کاغذ پر ہماری نظر پڑ گئی۔ دیکھا تو غزل تھی ۔ سو ہم نے ایک نظر غزل پر ڈالی تو پتہ چلا کہ اس غزل کے اوزان خطا ہیں ۔ چنانچہ ہم نے یہ غزل بصد معذرت واپس کی اور کہا” یہ صحیح نہیں ہے”بولے "صحیح ہے!”ہم نے کہا” صاحب” صحیح نہیں ہے”کہنے لگے "صحیح ہے”ہم نے چڑ کر کہا "جناب والا یہ بالکل صحیح نہیں ہے”انہوں نے پہلے جیسی فرمانبرداری ہی سے جواب دیا ” آپ بجا فرماتے ہیں جناب ، یہ صحیح نہیں ہے” تب ہم پر کھلا کہ وہ بچارے تو شروع ہی سے ہماری بات کی تصدیق کر رہے تھے ۔ سو اس دن سے انکی غزلیں مسلسل شائع ہو رہی ہیں۔ ایسے شریف النفس لوگ جو آپ سے اختلاف ہی نہ کریں انکی قدر افزائی کرنے کو کس کا جی نہیں چاہتا ؟ اور ہماری زندگی میں کون سا گوشہ ایسا ہے جہاں پہلے دن سے لیکر آج تک ایسے شریف النفس لوگوں کی قدر نہیں ہوئی ؟ یہ ہر ایک کے سامنے صحیح ہے، صحیح ہے کہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہزاروں لاکھوں سے” صحیح ہے صحیح ہے“ کہلواتے ہیں۔ یعنی :
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
مگر ہمارے ایک دوست ایسے بھی ہیں جنہیں اس طرح کے سوئیٹ لوگ بالکل پسند نہیں، چنانچہ ہم نے انہیں کئی دفعہ ایسے بلند اخلاق لوگوں کو جھاڑتے دیکھا ہے تاہم ایسے لوگوں سے ان کا اختلاف ذرا فروعی نوعیت کا ہے۔ یعنی ان کا مطالبہ ہے کہ میرے جملے کے درمیان میں نہیں ، جب میں جملہ مکمل کر لیا کروں اس وقت "یس سر”کہا کرو لیکن قصور ان شریف النفس لوگوں کا بھی کوئی نہیں وہ جانتے ہیں کہ عہدہ اور منصب آنی جانی چیزیں ہیں، ممکن ہے جملہ مکمل ہونے تک انہیں”یس سر” کہنے کا موقع محل ہی نہ رہے، لہٰذا وہ درمیان ہی میں یس سر کہہ دیتے ہیں۔ تاہم اس ضمن میں بات ہمارے دوست کی بھی درست ہے ، ان کا کہنا ہے کہ جملہ مکمل ہونے سے پہلے اس کی تصدیق کر دینے سے بسا اوقات کچھ نامناسب سی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ مثلاً ایک دفعہ انہوں نے کہا لعنت ہے مجھ پر… ” مگر پاس بیٹھے ہوئے ایک شریف النفس نے ان کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے کہا "صحیح ہے "جس پر وہ برافروختہ ہو گئے اور پھر ان کے منہ میں جو آیا انہوں نے کہا اور اس پر متذکرہ شریف النفس کو ہر بار "صحیح ہے، صحیح ہے جناب” کہنا پڑا۔
تاہم پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ۔ ہم نے کچھ لوگ اس کے بالکل برعکس بھی دیکھے ہیں ، مثلاً ایک روز ہم باغ جناح کی سیر کو گئے تو ہم نے ایک ویران گوشے میں ایک تنہا شخص کو دیکھا جو اکیلا کھڑا ہاتھ فضا میں بلند کر کے کہہ رہا تھا۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔ آپ بالکل غلط کہتے ہیں ، میں آپ کی بات ماننے کو تیار نہیں ، اس پر ہم اس کے قریب گئے مگر اس نے ہماری موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا اختلاف جاری رکھا ، یہ کیسے ہوسکتا ہے ، جناب آپ بھول جائیں ، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں غلط کہہ رہے ہیں ! اس پر ہم نے اسے کندھے سے جھنجھوڑا اور کہا "عزیزی کیا بات ہے، یہ تم کس سے جھگڑ رہے ہو”اس نے ایک نظر ہماری طرف دیکھا اور پھر بولا” کچھ نہیں صاحب ! آپ جائیں میں یس مین Yes Man ہوں اور آج چھٹی پر ہوں!”
اسے دیکھ کر ہمارا دل شاد ہوا کیوں کہ یہ پہلا یس مین تھا جو چھٹی پر تھا ورنہ یہ اتنے ڈیوٹی باؤنڈ ہوتے ہیں کہ چھٹی پر بھی نہیں جاتے اور اتنے تابع فرمان ہوتے ہیں کہ اگر شدید گرمی یا حبس میں غلطی سے منہ سے نکل جائے کہ” گرمی بہت ہے ذرا پنکھا بند کر دیں” تو یہ جواب میں” صحیح ہے کہتے ہیں اور پنکھا بھی بند کر دیتے ہیں۔”
بشکریہ جنگ