اللہ کے بابرکت نام سے آغاز کرتا ہوں، جو بڑی عظمت والا ہے اور جس کی شانِ کریمی کا کیا ہی کہنا۔ اور اُس ربِ کریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے جنابِ رسولِ خدا، خاتم الانبیاء، عالی نسب، ہاشمی و سیّد، محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدا فرما کر کائنات کو حُسن عطا فرمایا، اور انبیا کی اُس عمارت میں جس ایک اینٹ کی کمی تھی، اُسے پورا فرما دیا۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّد۔
کل یمن کی ایک تصویر آنکھوں سے گزری، جو سبز روشنیوں سے بھر چکی تھی۔ پورا شہر رات کے سینے پر سبز رنگ کی ایک خوبصورت چادر اوڑھے ہوئے تھا۔ اور کیوں نہ ہوتا؟ بارہ ربیع الاول کا دن تھا اور اُس کی نسبت تھی۔
وہ نسبت، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس دن دنیا میں تشریف لائے تو زمین کو شرفِ عظمت حاصل ہو گیا اور زمین کے کنکر آسمانی ستاروں پر فخر کرنے لگے۔
آپ فخرِ عجم، آپ شانِ عرب، آپ فضلِ اتم، آپ رحمت لقب، سرورِ ذی حشم، شاہِ والا نسب۔ مرتضیٰ، مجتبیٰ، خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
اور کیوں نہ ہو، جب اعلان خود ربِ کائنات کی زبانِ وحی سے ہوا:
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ
"اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔” (سورۃ الانبیاء: ۱۰۷)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنی آمد کا نقشہ کچھ یوں کھینچا۔ بخاری و مسلم کی روایت ہے، ارشاد فرمایا:
مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَآءِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بَیْتًا فَاَحْسَنَہٗ وَاَجْمَلَہٗ اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِّنْ زَاوِیَۃٍ… فَاَنَا اللَّبِنَۃُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔
"میری اور مجھ سے پہلے انبیا کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جس نے ایک نہایت حسین و جمیل عمارت بنائی، مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی… پس وہ اینٹ میں ہوں اور میں ہی خاتم النبیّین ہوں۔”
سوچیے! ایک اینٹ کی کمی سے پوری عمارت ادھوری تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے نبوت کا محل مکمل ہوا۔ یہ صرف عمارت مکمل نہیں ہوئی تھی، یہ انسانیت کی تقدیر مکمل ہوئی تھی۔
اور یہ اینٹ جہاں رکھی گئی، وہاں سے ایک ذمہ داری شروع ہوئی۔ جب جب نبی کریم محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوتی تو مضمون یہی ہوتا کہ آپ کا کام لوگوں تک پیغام پہنچانا ہے، دین کے حوالے سے ہر بات کو تکمیل تک لے جانا ہے۔ آپ کا کام خبردار کرنا ہے۔ یہ آپ کی ذمہ داری نہیں کہ اُنہیں ہدایت نصیب ہو:
لَیْسَ عَلَیْکَ ھُدٰھُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ
"اُن کا ہدایت پر آ جانا آپ کے ذمے نہیں، لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔” (سورۃ البقرہ: ۲۷۲)
فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابُ
"آپ کے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہے، اور حساب لینا ہمارے ذمے ہے۔” (سورۃ الرعد: ۴۰)
ذرا ٹھہر کر غور کیجیے کہ یہ آیتیں کیا کر رہی تھیں۔ یہ بوجھ اتار رہی تھیں۔ اللہ اپنے حبیب کے کندھوں سے وزن ہلکا کر رہا تھا۔ آپ منوانے کے ذمہ دار نہیں، صرف پہنچا دینے کے ذمہ دار ہیں۔ حساب ہمارا کام ہے۔
مگر اصل بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بوجھ اترنے نہ دیا۔
جہاں فرض کی حد ختم ہوتی تھی، وہیں سے آپ کی محبت شروع ہو جاتی تھی۔ شریعت نے کہا: اِن کے نہ ماننے کا حساب آپ سے نہ ہوگا۔ اور رحمتِ عالم نے اُسی لمحے ہاتھ اٹھا دیے۔ اے اللہ! میری امت کو بخش دے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے حکمتِ عملی بدلی۔ جو دروازہ دلیل سے نہ کھلتا تھا، اُسے اب دعا سے کھٹکھٹایا جانے لگا۔
آپ نے وہ "دعا والی طاقت” امت کے لیے بروئے کار لے آئے۔ کبھی اونٹنی پر بیٹھے بیٹھے دعا فرماتے، کبھی اُس سے اُتر کر، اور کبھی بیٹھے ہوئے۔ زندگی بھر دعا فرماتے رہے کن کے لیے؟ ہمارے لیے۔
بخاری و مسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
لِکُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَۃٌ مُّسْتَجَابَۃٌ… وَاِنِّی اخْتَبَاْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃً لِّاُمَّتِیْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ
"ہر نبی کے لیے ایک دعا مقبول ہوتی ہے… اور میں نے اپنی وہ دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا رکھی ہے۔”
ہر نبی کو ایک مقبول دعا ملی۔ کسی نے وہ اپنی قوم پر عذاب کے لیے خرچ کی، کسی نے اپنی مشکل کے لیے۔ اور ہمارے آقا نے وہ اکلوتی دعا جیب میں رکھ لی اُس دن کے لیے، جس دن ہمارے پاس کچھ نہ ہوگا۔
اور مسلم شریف کی وہ روایت تو دل چیر دیتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعائیں تلاوت فرمائیں، پھر ہاتھ اٹھا کر روتے ہوئے فرمایا: "اَللّٰھُمَّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ” اے اللہ! میری امت، میری امت۔ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا کہ جا کر پوچھو، محمد کیوں روتے ہیں؟ اور پھر پیغام بھیجا: ہم آپ کو آپ کی امت کے معاملے میں راضی کر دیں گے اور آپ کو رنجیدہ نہیں کریں گے۔
شفاعت کا جو اختیار اللہ نے اپنے نبی کو عطا فرمایا ہے، وہ اُسی دن بروئے کار لائیں گے۔
اور یہ سب اُس امت کے لیے، جس کی خاطر طائف میں ایک باغ اور ایک پتھر کے نیچے پناہ لینی پڑی۔ کیونکہ بدبخت لوگ پتھروں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لہولہان کر رہے تھے۔
جبرئیل امین علیہ السلام پہاڑوں کے فرشتے کو ساتھ لے کر حاضر ہوئے کہ حکم ہو تو دونوں پہاڑ ملا کر اس بستی کو پیس دیا جائے۔ اور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا جواب دیا؟ بخاری و مسلم کے الفاظ ہیں:
بَلْ اَرْجُوْ اَنْ یُّخْرِجَ اللّٰہُ مِنْ اَصْلَابِھِمْ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ وَحْدَہٗ لَا یُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا
"نہیں، بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ اِن کی پشتوں سے ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔”
یعنی کوئی بات نہیں۔ کل اِن کی اولاد میں سے کوئی مسلمان ہو جائے گا۔ لہو بہہ رہا تھا اور نظر، نظر آنے والوں پر نہیں، بلکہ بعد میں آنے والوں پر تھی۔ ہم اُنہی "آنے والوں” میں سے ہیں۔
اب سوال اٹھتا ہے کہ ہمارا حق کیا ہے؟ زندگی گزارنے کا، عشق کرنے کا، محبت کرنے کا، وفا کرنے کا؟
اس سوال کو ایک لمحے کے لیے تھام لیجیے، اور یمن چلتے ہیں۔
عشق ہو تو اویسِ قرنی رحمۃ اللہ علیہ جیسا۔ وہ شخص جس نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تک نہیں، مگر آقا نے اُسے دیکھ لیا۔ صحیح مسلم میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن سے آنے والے اِس گمنام آدمی کی نشانیاں بتائیں اور فرمایا:
فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ یَّسْتَغْفِرَ لَکَ فَافْعَلْ
"اگر تم اُس سے اپنے لیے دعائے مغفرت کرا سکو تو ضرور کرا لینا۔”
غور کیجیے کہ یہ حکم کن کو ہو رہا تھا۔ امیر المومنین کو، صحابیت کے منصب پر فائز ہستیوں کو کہ اُس گڈریے سے دعا کروا لینا۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعد کے لیے بھی امت کے حق میں دعا کا بندوبست کر کے جا رہے تھے۔
اہلِ محبت کے ہاں یہ واقعہ بھی مشہور ہے کہ جب اویس کو خبر ملی کہ اُحد کے مقام پر دندانِ مبارک شہید ہوئے ہیں، تو اپنے دانتوں میں سے ایک ایک کر کے سب توڑ ڈالے — کہ ممکن ہے یہ والا دانت ہو، یا شاید یہ والا۔ یہ روایت کتبِ صحاح میں نہیں ملتی، عاشقوں کی زبانی چلی آتی ہے۔ اور شاید اسی لیے چلی آتی ہے کہ عشق کی زبان دلیل نہیں، حال ہوا کرتی ہے۔
ہم ایسے کریم نبی کی امت ہیں۔ اس سے بڑا فخر، اعزاز اور اللہ کا رحم اور کیا ہو سکتا ہے؟
اب لوٹتے ہیں اُس سوال کی طرف جو ہم راستے میں چھوڑ آئے تھے: ہمارا حق کیا ہے؟
سچ یہ ہے کہ ہمارا کوئی حق نہیں تھا۔ ہم اُس وقت مانگے گئے تھے جب ہم تھے ہی نہیں۔ طائف کے پتھروں تلے ہماری سفارش ہوئی، اور شفاعت کی اکلوتی دعا ہمارے نام لکھ دی گئی۔ سو یہ حق نہیں، قرض ہے۔ اور اس قرض کی صرف تین قسطیں ہیں۔
پہلی قسط زبان کی ہے یعنی درود و سلام کا اہتمام۔ جو رات دن ہمارے لیے پکارتے رہے، ہم دن میں چند بار اُن کے لیے پکار لیں۔
دوسری قسط عمل کی ہے یعنی اتباع رسول۔ کیونکہ محبت کا دعویٰ ہمیشہ پیروی مانگتا ہے:
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ
"کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔”* (سورۃ آلِ عمران: ۳۱)
تیسری قسط معاملے کی ہے کہ جس نبی کا لقب ہی رحمت ہے، اُس کے نام لیوا کا رویہ بھی سختی والا نہ ہو۔
سو ذرا سوچیے، اور ہر روز اللہ کے نبی کی سنتوں پر عمل کرتے ہوئے جشنِ عید میلاد منائیے۔ خوشی منانے کا سلیقہ بھی قرآن ہی نے سکھایا:
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا
"کہہ دیجیے: یہ اللہ کے فضل اور اُس کی رحمت سے ہے، پس اسی پر انہیں خوش ہونا چاہیے۔” (سورۃ یونس: ۵۸)
اور یہیں تیسری قسط ادا ہوتی ہے: جو منا رہے ہیں، اُنہیں دعا دیجیے۔ جو اجتناب فرما رہے ہیں، اُن سے بغض نہ رکھیے۔ جس ہستی نے پتھر مارنے والوں کے لیے بددعا سے انکار کر دیا، اُس کی محبت کو اپنے ہی بھائیوں پر تلوار بنا لینا محبت کی توہین ہے۔ محبت کا راستہ کشادہ ہوتا ہے، تنگ نہیں۔
عشقِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جو جتنا دیوانہ ہوگا، اتنا ہی کامیاب ہوگا۔ اس عشق میں کبھی ناکامی نہیں۔ یہ صرف اور صرف ازلی و ابدی کامیابی کا عشق ہے۔ منائیے، اور جھومتے جائیے۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔