جہالت کا تھا دور دورہ زمیں پر
نبی آئے تو نور آیا زمیں پر
نبی کریم کی آمد سے پہلے عرب معاشرہ جہالت ظلم اور ناانصافی میں گھرا ہوا تھا بت پرستی عام تھی معمولی باتوں پر جنگیں ہوتیں اور طاقتور کمزوروں کے حقوق پامال کرتے تھے۔عورتوں کو عزت اور حقوق حاصل نہ تھے بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے جیسی ظالمانہ رسم بھی موجود تھی ایسے تاریکی دور میں نبی کریم رحمت بن کر تشریف لائے اور انسانیت کو عزت عدل رحم اور حسن سلوک کا راستہ دکھایا۔اس دور میں جہاں انسانیت بےبس تھی پھر آئے محمد مصطفی اور ہر سو رحمت کی کرن پھیل گئی آپ نے انسانیت کو عزت دی عدل سکھایا رحم کا درس دیا اور دلوں کو محبت سے جوڑ دیا بحیثیت مسلمان ہم سب کے لیے ربیع الاول کا مہینہ بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس مہینے میں ہمارے پیارے آقا کی ولادت ہوئی آپ کی ولادت 12 ربیع الاول بروز سوموار کو ہوئی آپ نے لوگوں کو جہالت کے اندھیرے سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کیا اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا.
یہ چاند تارے یہ پھول کلیاں یہ دن اور رات کا انا جانا یہ رشتے ناطے یہ دریا کے بہتے ہوئے صاف دھارے یہ اتش کی سوزش پہ اڑتے شرارے یہ بادشاہت یہ فقیری کچھ بھی نہیں ہوتے فلک پہ حسین کہکشاں بھی نہ ہوتی ہم بھی نہ ہوتے تم بھی نہ ہوتے یہ جہاں بھی نہ ہوتا اور وہ جہاں بھی اگر میرے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے یہ میں عشق میں بہہ کر نہیں کہہ رہی ہوں. حدیث قدسی میں خود رب ذوالجلال فرماتا ہے میری عزت و عظمت کی قسم اگر میں آپ کو پیدا نہ کرتا تو جنت کو بھی پیدا نہ کرتا اور اگر آپ کو پیدا نہ کرتا تو پھر دنیا کو بھی پیدا نہ کرتا اس بات پہ تو کوئی شک نہیں رہ جاتا ہے کہ اگر رسول خدا محبوب خدا نہ ہوتے تو کائنات بھی نہ ہوتی لیکن ایک اور اعلان ساڑھےچودہ سو سال پہلے ہی تمام جہانوں کے پالنے والے سورج اور چاند کی بنانے والے جن و انس کو پیدا کرنے والے کائنات کے خالق و مالک نے کر دیا تھا کہ:
سورۃ الأحزاب، آیت نمبر 40:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا
ترجمہ : محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہے لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے اور اللہ سب کچھ جاننے والا ہے.
سورۃ الأحزاب، 33:40
بہت سارے لوگ کہتے ہیں میلاد منانا کیا ہے؟ میلاد کا مطلب ہے خوشی منانا اس ہستی کی آمد کی خوشی جس کے صدقے ہمیں کلمہ ملا ربیع الاول کا چاند آتے ہی دل جھوم اٹھتا ہے گھر سجاتے ہیں درود پڑھتے ہیں سیرت سناتے ہیں کیونکہ نبی سے محبت ایمان کی جان ہے جس دل میں عشق مصطفی نہیں وہ دل ویران ہے.
نثار تیری چہل بہن پر ہزاروں عید ربیع الاول
سوائے ابلیس کے جہاں میں
سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں
اکثر پوچھا جانے والا سوال
میلاد کس کو منانا چاہیے ؟
ہر اس بیٹی کو منانا چاہیے میلاد جو زندہ ہوتی تھی تو دفن کر دیا جاتا تھا پر میرے رسول نے فرمایا اب جو بیٹی پالے گا میں اس کا بازو پکڑ کے جنت میں ساتھ لے کے جاؤں گا میلاد ہر اس ماں کو منانا چاہیے جس کا بیٹا گلے میں رسی ڈال کے ماں کو منڈی میں بیچ آتا تھا میرے مصطفی کریم نے فرمایا جنت سات آسمانوں کے اوپر سیدرۃ المنتہی کے پاس تھی اور میں نے ماں کے قدموں کے نیچے رکھ دیی میلاد ہر اس باپ کو منانا چاہیے جس کی اولاد ڈنڈوں سے مارتی تھی تو رسول کریم علیہ السلام نے فرمایا اب جس کا باپ راضی ہوگا اسی کا اللہ راضی ہوگا سبحان اللہ میں نے کہا میلاد اس غریب کو منانا چاہیے جو بھینس کی طرح بکری کی طرح منڈی میں بکتا تھا مگر مصطفی نے سب کو برابر کا رتبہ دیا کسی کو کسی پر فوقیت نہیں دی.
ہو تو حاک مگر عالم انوار سے نسبت ہے
میں کچھ بھی نہیں لیکن سرکار سے نسبت ہے
اس سب کے بعد بھی کچھ لوگوں کا یہ سوال ہوتا ہے کہ
قرآن سے کیسے سابت ہے کے میلاد منانا ضروری ہے؟
سورۃ یونس، آیت # 58
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا ۚ هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ ﴿٥٨﴾
ترجمہ:
کہہ دیجیے: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت ہی پر لوگوں کو خوش ہونا چاہیے یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔
سورۃ الأنبیاء آیت 107:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ١٠٧
ترجمہ:
"اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے”
لبوں پہ درود دل میں حضور کی محبت رہے
زندگی ہماری سیرتِ مصطفی کی صورت رہے
آپ نے ہمیں سکھایا کہ طاقت ہو تو معاف کرو اختیار ہو تو انصاف کرو اور کسی کے ساتھ برائی کا جواب برائی سے نہ دو آج کے دور میں جب نفرت خود غرضی اور بے حسی بڑھ رہی ہے ہمیں سیرتِ نبوی کے رحم صبر سچائی امانت اور حسن اخلاق کو اپنی زندگی میں واپس لانے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے.
وہ نبیوں میں اعلی لقب پانے والا
وہ رحمت کا پیکر وہ سب سے نرالا