ہر دور اپنی ایک نئی آزمائش لے کر آتا ہے۔ موجودہ دور میں ہمارے عہد کی آزمائش مصنوعی ذہانت ہے۔ یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جس نے ہر طرح کی معلومات، تخلیق اور ہمارے روزمرہ کام کی رفتار کو حیرت انگیز حد تک بدل دیا ہے۔ اللہ ہی اللہ، بس چند لمحوں میں ایک مضمون اور مکمل پی ایچ ڈی کی تھیسز تیار ہو جاتی ہے، سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ آپ جس طرح کی تصویر بنانا چاہتے ہیں، بن جاتی ہے، زبانوں کے درمیان ترجمہ ہو جاتا ہے اور مشکل و پیچیدہ سوالات کے جواب سامنے آ جاتے ہیں۔ سہولت کی یہ دنیا بلاشبہ بہت ہی دلکش ہے، مگر ہر سہولت اپنے ساتھ ایک انتہائی لازمی سوال بھی لاتی ہے: وہ یہ کہ ہم ٹیکنالوجی کو استعمال کر رہے ہیں یا کہیں ٹیکنالوجی ہمیں استعمال کرنا شروع تو نہیں کر رہی؟
اسی سوال کو یمنیٰ حسن نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک مباحثے میں موضوع بنایا۔ جنریٹو اے آئی کو اصل تخلیقی کام سونپنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر انہوں نے دلیل دی کہ تخلیقی صلاحیت ایک ایسے پٹھے کی مانند ہے جسے استعمال نہ کیا جائے تو وہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ ان کی گفتگو نے انہیں ’بہترین پروپوزیشن اسپیکر‘ کا اعزاز دلوایا اور آکسفورڈ کے لارڈ میئر نے انہیں یہ ایوارڈ پیش کیا۔ یہ کامیابی ایک نوجوان مقرر کا اعزاز نہیں ہے۔ اس کی اہمیت اس سوال میں ہے جسے یمنیٰ نے ایک عالمی علمی پلیٹ فارم پر اٹھایا: اگر انسان اپنی فکری اور تخلیقی مشقت بھی مشین کے سپرد کر دے تو اس کے پاس آخر بچتا کیا ہے؟
اے آئی سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہر نئی ٹیکنالوجی کی طرح اس کے بھی بے شمار مثبت پہلو ہیں۔ تعلیم، صحافت، تحقیق، طب، کاروبار اور روزمرہ زندگی میں یہ وقت بچا سکتی ہے، معلومات تک رسائی آسان بنا سکتی ہے اور ایسے کام ممکن کر سکتی ہے جو پہلے مشکل سمجھے جاتے تھے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، اس مقام سے شروع ہوتا ہے جہاں سہولت انسان کی اپنی صلاحیت کا نعم البدل بن جائے۔ یہ فرق بہت باریک ہے، مگر اہم بھی۔
ایک طالب علم اگر اے آئی سے کسی مشکل موضوع کو سمجھنے میں مدد لیتا ہے تو یہ ٹیکنالوجی کا درست استعمال ہے؛ لیکن اگر وہ ہر جواب، ہر اسائنمنٹ اور ہر خیال اسی سے حاصل کرے تو شاید اس کی تعلیمی کامیابی بڑھ جائے، مگر علم کا سفر وہیں رک جائے گا۔ ایک لکھاری اگر اے آئی سے اپنی تحریر کی اصلاح کرواتا ہے تو یہ معاونت ہے، لیکن اگر اس کی اپنی آواز ہی مشین کی آواز بن جائے تو پھر تحریر میں لفظ تو رہیں گے، لکھاری کہاں ہوگا؟ یہی وہ نکتہ ہے جہاں انسانی تخلیق اپنی اصل اہمیت ظاہر کرتی ہے۔
ایک شاعر کے لفظ اس کی زندگی سے آتے ہیں، ایک صحافی کا سوال اس کے مشاہدے سے پیدا ہوتا ہے اور ایک مصنف کا خیال اس کے تجربے، مطالعے اور احساس سے جنم لیتا ہے۔ مشین معلومات کو جوڑ سکتی ہے، مگر انسانی زندگی کو جینا اس کے بس کی بات نہیں۔ وہ لاکھوں الفاظ ترتیب دے سکتی ہے، مگر کسی ماں کی آنکھ میں اترے ہوئے انتظار، کسی مزدور کے ہاتھ کی سختی یا کسی بے گھر انسان کے خوف کو اپنی زندگی کا تجربہ نہیں بنا سکتی۔
شاید اسی لیے آنے والے زمانے میں اصل مقابلہ انسان اور مشین کے درمیان نہیں ہوگا؛ مقابلہ ان انسانوں کے درمیان ہوگا جو ٹیکنالوجی کو سمجھتے ہوئے بھی اپنی سوچ کو زندہ رکھیں گے اور ان کے درمیان جو سہولت کے عادی ہو کر سوچنے کی ذمہ داری ہی چھوڑ دیں گے۔ یمنیٰ حسن کا مؤقف اسی لیے قابلِ توجہ ہے۔ وہ نوجوانوں کو اے آئی ترک کرنے کا مشورہ نہیں دیتیں بلکہ علم، تجسس اور اصل سوچ کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے پر زور دیتی ہیں۔ یہ شاید اس دور کے لیے سب سے متوازن راستہ ہے۔ دنیا آگے بڑھ رہی ہے اور ہم اس سے الگ نہیں رہ سکتے، مگر ترقی کی دوڑ میں اپنی ذہنی آزادی کھونا بھی کوئی کامیابی نہیں۔
یمنیٰ حسن خود بھی ایک ایسے سفر کی مثال ہیں جس میں نوجوان صلاحیت نے عالمی سطح پر اپنی جگہ بنائی ہے۔ اقوام متحدہ کے چینج میکر ایوارڈ 2026ء، فیشن فیکٹر دبئی کے بہترین جین زی پوڈکاسٹ ایوارڈ 2026ء، ’انٹرپرینیور مڈل ایسٹ‘ کے بہترین جین زی ایوارڈ 2025ء، ’انڈیا انٹرنیشنل انفلوئنسر ایوارڈز 2025ء‘ کی سال کی بہترین جین زی مصنفہ اور ’گلف اچیورز ایوارڈز 2025ء‘ کے بہترین بین الاقوامی مصنفہ سمیت متعدد اعزازات ان کی صلاحیتوں کا اعتراف ہیں۔ ان کے کام کو عالمی میڈیا میں بھی نمایاں جگہ مل چکی ہے۔ لیکن شاید آکسفورڈ کا یہ اعزاز اس لیے زیادہ معنی خیز ہے کہ یہاں انہوں نے شہرت کے بجائے ایک خیال کا دفاع کیا: انسان کو اپنی تخلیقی قوت سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔
یہ خیال ہمارے تعلیمی نظام کے لیے بھی اہم ہے۔ ہمیں بچوں کو صرف اے آئی کے استعمال کی تربیت نہیں دینی بلکہ انہیں پڑھنے، سوال کرنے، تحقیق کرنے، اختلاف کرنے اور اپنے خیالات پیش کرنے کی عادت بھی ڈالنی ہوگی۔ ورنہ ممکن ہے ہمارے پاس ٹیکنالوجی سے واقف ایک ایسی نسل ہو جو ہر سوال کا جواب تو ڈھونڈ لے، مگر اپنا سوال خود پیدا نہ کر سکے۔ اور جس معاشرے میں سوال ختم ہو جائیں، وہاں ترقی کی رفتار خواہ کتنی ہی تیز کیوں نہ ہو، فکر کا سفر رک جاتا ہے۔
اے آئی ہماری تخلیقی دنیا کا خاتمہ نہیں ہے یہ ایک نیا باب ہے۔ اس باب میں کامیاب وہی انسان ہوگا جو مشین سے بہتر کام لینے کا ہنر بھی جانتا ہو اور ضرورت پڑنے پر مشین سے الگ ہو کر اپنے دماغ، اپنے تجربے اور اپنے تخیل سے سوچنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔