پنجاب اسمبلی میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور استعمال کو قانونی طور پر محدود کرنے سے متعلق قرارداد پیش کی گئی ہے، جس میں وفاقی حکومت سے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے جامع قانون سازی اور مؤثر عمر کی تصدیق کا نظام وضع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قرارداد پنجاب اسمبلی کی رکن سارہ احمد کی جانب سے پیش کی گئی۔ اس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال سے بچوں کو سائبر بُلنگ، آن لائن ہراسانی، جنسی استحصال، نامناسب مواد، ڈیجیٹل لت اور ذہنی دباؤ جیسے خطرات کا سامنا ہے۔
قرارداد میں تجویز دی گئی ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کو والدین یا قانونی سرپرست کی رضامندی کے بغیر سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے یا برقرار رکھنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس مقصد کے لیے قابلِ اعتماد عمر کی تصدیق کا نظام بھی متعارف کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت سے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو منظم کرنے کے لیے جامع قانون سازی جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عمر کی تصدیق کے مؤثر نظام کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قرارداد میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مربوط نظام، بچوں، والدین اور اساتذہ کے لیے ڈیجیٹل سیفٹی پروگرامز اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو کم عمر صارفین کے تحفظ کا پابند بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ قرارداد جولائی 2026 میں پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی تھی، تاہم اس کی منظوری سے متعلق حتمی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی زیرِ سماعت ہے، جہاں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال، عمر کی تصدیق اور آن لائن تحفظ سے متعلق درخواست پر وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے جواب طلب کیا گیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق پنجاب اسمبلی کی قرارداد خود بخود پورے ملک میں سوشل میڈیا پابندی نافذ نہیں کر سکتی۔ ملک بھر میں ایسی پابندی کے لیے وفاقی سطح پر قانون سازی اور مؤثر عملی نظام درکار ہوگا۔
دنیا کے مختلف ممالک میں بھی کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود یا محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں عمر کی تصدیق، والدین کی رضامندی اور نقصان دہ مواد سے تحفظ شامل ہیں۔
پاکستان میں یہ معاملہ بچوں کے آن لائن تحفظ، پرائیویسی، آزادیِ اظہار، والدین کی ذمہ داری اور سوشل میڈیا کمپنیوں کے کردار سے متعلق ایک اہم قانونی اور پالیسی بحث کو جنم دے رہا ہے۔