ہمیں ’’حادثے کے بعد‘‘ نہیں، ’’حادثے سے پہلے‘‘ جاگنا ہوگا

اتوار کو میرے بیٹے نے کہا، ’’ماما! مجھے پارک لے جائیے، میرا باہر جانے کو دل کر رہا ہے۔‘‘

میں اسے اسلام آباد کے سب سے بڑے پارک، فاطمہ جناح پارک لے گئی۔ اتوار کا دن تھا، موسم خوشگوار تھا اور پارک میں بہت سے بچے اپنے والدین کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ جیسے ہی ہم اندر داخل ہوئے، میرے بیٹے نے ایک جھولے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’ماما! میں نے اس جھولے پر بیٹھنا ہے۔‘‘

میں اس کا ہاتھ پکڑ کر جھولوں کی طرف جانے لگی تو اچانک ایک چھ سال کا بچہ ہمارے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

میں نے اس سے پوچھا، ’’آپ کی ماما کہاں ہیں؟‘‘

بچے نے بڑی معصومیت سے جواب دیا، ’’وہ دور کہیں واک کر رہی ہیں۔‘‘

میں نے کہا، ’’آپ کو اپنی ماما کے ساتھ ہونا چاہیے، اکیلے نہیں گھومنا چاہیے۔‘‘

وہ بولا، ’’نہیں، نہیں، ہم بس یہاں کھیلیں گے۔ میں جھولا جھولوں گا، وہ اپنی واک کریں گی۔‘‘

میں نے اردگرد دیکھا۔ واقعی اس کی والدہ کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔

میں نے دوبارہ کہا، ’’مجھے تو آپ کی ماما نظر ہی نہیں آ رہیں۔‘‘

بچے نے جواب دیا، ’’وہ بہت دور ہیں۔‘‘

میں نے پوچھا، ’’پھر آپ ہمارے ساتھ کیوں چل رہے ہیں؟ آپ تو ہمیں جانتے بھی نہیں ہیں۔‘‘

اس نے میرے بیٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’میں اس بچے کے ساتھ کھیلوں گا۔‘‘

میں نے اسے سمجھایا، ’’یہ میرا بچہ ہے، لیکن ہم آپ کے لیے اجنبی ہیں۔ آپ کو کسی اجنبی کے ساتھ نہیں جانا چاہیے۔ آپ کو اپنی ماما کے ساتھ ہونا چاہیے۔ آج کل کے حالات اچھے نہیں ہیں۔‘‘

لیکن بچے کے چہرے پر کوئی خوف نہیں تھا۔ اس نے بڑی معصومیت سے کہا، ’’نہیں، نہیں، کچھ بھی نہیں ہوتا، میں بس کھیلوں گا۔‘‘

میں نے صرف بچے کو یہ سمجھانے کے لیے، قدرے مذاق کے انداز میں پوچھا، ’’اگر میں آپ کو اپنے گھر لے جاؤں تو چلو گے؟‘‘

بچے نے فوراً کہا، ’’نہیں !‘‘

میں نے کہا، ’’اچھا، میں آپ کو چاکلیٹ اور تحفہ بھی دوں گی۔‘‘

اس نے فوراً جواب دیا، ’’ہاں ہاں، چلوں گا!‘‘

بس یہی وہ لمحہ تھا جس نے مجھے اندر سے ہلا دیا۔

ایک اجنبی شخص، ایک چھوٹے سے بچے کو صرف ’’چاکلیٹ‘‘ اور ’’تحفے‘‘ کا لالچ دے کر اپنے ساتھ لے جانے پر آمادہ کر سکتا ہے۔

یہ کسی ایک بچے کی کہانی نہیں۔ یہ ہمارے اجتماعی رویے کا سوال ہے۔

اسی دن میری دوست بھی پارک میں موجود تھی۔ وہ واک کر رہی تھی کہ اس نے دیکھا، ایک نسبتاً ویران جگہ پر دو بچے کھیل رہے ہیں۔ ایک تقریباً چھ سال کا اور دوسرا آٹھ سال کا تھا۔ شام ہونے والی تھی، سورج ڈھل رہا تھا، اور اردگرد زیادہ لوگ بھی نہیں تھے۔

میری دوست نے ان سے پوچھا، ’’آپ یہاں اکیلے کیا کر رہے ہیں؟ آپ کے ماما پاپا کہاں ہیں؟‘‘

بچوں نے بتایا، ’’وہ واک کر رہے ہیں، ہم یہاں کھیل رہے ہیں۔‘‘

میری دوست نے پوچھا، ’’اتنی ویران جگہ پر آپ کو ڈر نہیں لگتا؟‘‘

جواب ملا، ’’نہیں، ہمیں ڈر نہیں لگتا۔ ہم ماما پاپا کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘

میری دوست وہیں رک گئی اور ان کے والدین کا انتظار کیا۔ جب وہ آئے تو اس نے ان سے کہا، ’’آپ کو بچوں کو اس طرح اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ آج کل کے حالات اچھے نہیں ہیں۔‘‘

یہ دونوں واقعات بظاہر معمولی ہیں، مگر میرے لیے یہ بہت بڑا سوال چھوڑ گئے۔

ہم اپنے بچوں کو خطرات سے بچانے کے لیے آخر کتنا ذمہ دار ہیں؟

جب کوئی بچہ گم ہو جاتا ہے، اغوا ہو جاتا ہے یا کسی حادثے کا شکار ہوتا ہے تو ہم فوراً شور مچاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مہم شروع ہو جاتی ہے۔ دعائیں، اپیلیں، ویڈیوز اور پوسٹس سامنے آتی ہیں۔ پھر کبھی پولیس کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، کبھی معاشرے کو، کبھی حکومت کو اور کبھی پورے نظام کو۔

یقیناً ریاست، پولیس اور معاشرے کی ذمہ داری اپنی جگہ موجود ہے۔ بچوں کے خلاف جرائم کرنے والے افراد کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ لیکن اس سب کے ساتھ ہمیں ایک تلخ سوال خود سے بھی پوچھنا ہوگا:

کیا ہم نے اپنے بچے کی حفاظت میں اپنی ذمہ داری پوری کی تھی؟

ہم بچے کو پارک لے جاتے ہیں، مگر خود موبائل فون میں مصروف ہوتے ہیں۔

ہم بچے کو کھیلنے دیتے ہیں، مگر یہ نہیں دیکھتے کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ پارک محفوظ ہے، اس لیے بچہ جہاں چاہے کھیل سکتا ہے۔

ہم چند قدم کے فاصلے کو ’’قریب‘‘ سمجھتے ہیں، حالانکہ چند لمحے کسی بڑے نقصان کے لیے کافی ہوتے ہیں۔

اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو یہ سکھاتے ہی نہیں کہ :

اجنبی سے بات کیسے کرنی ہے، کس کے ساتھ نہیں جانا، کیا چیز قبول نہیں کرنی اور خطرے کی صورت میں کس سے مدد مانگنی ہے۔

بچوں کی حفاظت صرف خوف پیدا کرنے سے نہیں ہوگی

بچوں کو ہر وقت ڈرانا بھی حل نہیں۔ انہیں یہ سکھانا ضروری ہے کہ دنیا میں اچھے لوگ بھی ہیں اور برے ارادے رکھنے والے لوگ بھی ہو سکتے ہیں۔

بچے کو عمر کے مطابق واضح طور پر بتایا جائے:

* کسی اجنبی کے ساتھ کہیں نہیں جانا۔
* کسی اجنبی سے چاکلیٹ، کھلونا، تحفہ یا کوئی اور چیز نہیں لینی۔
* اگر کوئی کہے کہ ’’تمہاری ماما نے مجھے بھیجا ہے‘‘ تو فوراً یقین نہیں کرنا۔
* کسی کے ساتھ اکیلے ایسی جگہ نہیں جانا جہاں دوسرے لوگ موجود نہ ہوں۔
* اگر کوئی زبردستی کرے تو زور سے چیخنا اور قریب موجود لوگوں سے مدد مانگنا ہے۔
* والدین سے دور ہو جائیں تو وہیں کھڑے رہیں، کسی محفوظ جگہ یا ذمہ دار سیکیورٹی اہلکار سے مدد لیں۔
* اپنا نام، والدین کا نام اور کم از کم ایک فون نمبر یاد ہونا چاہیے۔

والدین کے لیے چند ضروری باتیں

بچے کی حفاظت کا پہلا حصار والدین ہیں۔

پارک، اسکول، شادی، بازار یا کسی بھی عوامی جگہ پر بچے کو صرف ’’قریب‘‘ سمجھ کر چھوڑ دینا کافی نہیں۔

نگرانی کا مطلب بچے کو دیکھتے رہنا ہے، صرف اس کی موجودگی کا اندازہ ہونا نہیں۔

خاص طور پر چھوٹے بچوں کو عوامی مقامات پر اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔

والدین کو چاہیے کہ:

1۔ بچے کی نگرانی باری باری کریں۔

اگر ایک والد یا والدہ واک کرنا چاہتے ہیں تو دوسرا بچے کے ساتھ رہے۔

2۔ موبائل فون سے زیادہ بچے پر توجہ دیں۔

چند منٹ کی بے توجہی بھی بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔

3۔ بچے کو خطرناک یا ویران جگہوں پر نہ جانے دیں۔

4۔ بچے کو ’’گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ‘‘ اور اجنبیوں سے متعلق بنیادی حفاظتی اصول عمر کے مطابق سمجھائیں۔

5۔ بچے کو یہ اعتماد دیں کہ اگر کوئی اسے ڈرائے یا غلط طریقے سے چھونے کی کوشش کرے تو وہ فوراً والدین کو بتا سکتا ہے۔

6۔ بچے کی تصویر اور شناختی معلومات ہر جگہ عوامی طور پر شیئر کرنے سے پہلے بھی احتیاط کریں۔

گمشدگی کی صورت میں سوشل میڈیا مددگار ہو سکتا ہے، مگر بچے کی نجی معلومات کا بے دریغ پھیلاؤ بھی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

ہمارے بچےاور معاشرے کی ذمہ داری؟

ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ’’یہ میرا بچہ نہیں ہے۔‘‘

اگر ہمیں کوئی پانچ یا چھ سال کا بچہ کسی عوامی جگہ پر اکیلا نظر آئے تو نظرانداز نہ کریں۔ اس سے مناسب انداز میں پوچھیں کہ والدین کہاں ہیں۔ اگر بچہ واقعی تنہا ہے تو پارک انتظامیہ، سیکیورٹی یا متعلقہ ذمہ دار فرد کو اطلاع دیں۔

لیکن یہاں ایک اور توازن بھی ضروری ہے۔

بچے کی حفاظت کے نام پر خود کسی اجنبی بچے کو اپنے ساتھ لے جانا درست طریقہ نہیں۔

اگر کوئی بچہ اکیلا ملے تو اسے محفوظ مقام پر رکھتے ہوئے والدین یا سیکیورٹی عملے تک پہنچانے کی کوشش ہونی چاہیے۔ بچوں کی حفاظت میں جذبات کے ساتھ ساتھ درست طریقۂ کار بھی ضروری ہے۔

ہمیں ’’حادثے کے بعد‘‘ نہیں، ’’حادثے سے پہلے‘‘ جاگنا ہوگا

ہم اکثر اس وقت جاگتے ہیں جب کچھ ہو چکا ہوتا ہے۔

بچہ گم ہو جائے تو ہم تلاش شروع کرتے ہیں۔

اغوا ہو جائے تو ہم مہم چلاتے ہیں۔

کوئی سانحہ ہو جائے تو ہم افسوس کرتے ہیں۔

لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم اس سے پہلے احتیاط کریں۔

بچے کی حفاظت صرف پولیس، ریاست، اسکول یا معاشرے کی ذمہ داری نہیں؛ سب سے پہلی ذمہ داری والدین کی ہے۔

اپنے بچے کو دنیا سے چھپا کر نہیں رکھا جا سکتا، لیکن اسے دنیا کے خطرات سے نمٹنا ضرور سکھایا جا سکتا ہے۔

اور والدین کے لیے شاید سب سے اہم بات یہی ہے:

بچے پیدا کرنا ذمہ داری کا آغاز ہے، اختتام نہیں۔

جب ہم نے انہیں اس دنیا میں لانے کا فیصلہ کیا ہے تو ان کی حفاظت، تربیت اور نگرانی بھی ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔

ہم ہر اجنبی کو برا نہیں کہہ سکتے، ہر جگہ کو خطرناک نہیں بنا سکتے اور ہر لمحے پولیس کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے۔

لیکن ہم اپنے بچے کو یہ ضرور سکھا سکتے ہیں کہ وہ کس پر اعتماد کرے، کہاں رکے، کب ’’نہیں‘‘ کہے اور خطرے میں کس سے مدد مانگے۔

اور خود بھی یہ عہد کر سکتے ہیں کہ:

ہم اپنے بچوں کو کسی موقع کا شکار بننے کا موقع نہیں دیں گے۔

کیونکہ جرم کرنے والے کو روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے،

لیکن اپنے بچے کو غیر ضروری خطرے میں نہ ڈالنا والدین کی پہلی ذمہ داری ہے۔

بچے ہماری سب سے قیمتی امانت ہیں۔

ان کی حفاظت کے لیے صرف محبت کافی نہیں،

محبت کے ساتھ شعور، نگرانی اور ذمہ داری بھی ضروری ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے