30 اگست کو اکادمی ادبیات حیات آباد پشاور میں خویندې ادبي لښکر ’’خال‘‘ کے زیرِ اہتمام ایک روزہ شاندار اور بامقصد کثیرالثقافتی ادبی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ پروگرام منفرد تھا، جس میں ادب، بچوں کا ادب، خواتین کی صحت، گندھارا تہذیب، سیاست، ہندکو و پشتو ادب، کتابوں کی رونمائی اور کثیرالسانی مشاعرے سمیت مختلف اہم موضوعات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر زیرِ بحث لایا گیا۔
کانفرنس تین نشستوں پر مشتمل تھی، جن میں ادیبوں، شاعروں، خواتین اہلِ قلم، سیاسی کارکنوں، آثارِ قدیمہ کے ماہرین اور طبی ماہرین نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز محترمہ نور ضیاء کی تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ ایک خوبصورت روایت کے طور پر اسٹیج کو کسی صدرِ محفل یا مہمانِ خصوصی کے لیے مخصوص نہیں کیا گیا، بلکہ تمام شرکاء کو یکساں اہمیت دی گئی۔
ادب، صحت، گندھارا اور سیاست
پہلی نشست کی نظامت محترمہ سدرالمنتہیٰ نے کی۔ ادبی لشکر کی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر فرزانہ رسول صنم نے تنظیم کی سالانہ کارکردگی اور ادبی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی، جبکہ بانی و صدر محترمہ کلثوم زیب نے مہمانوں اور شرکاء کو خوش آمدید کہا۔
پہلی نشست میں بچوں کے ادب کی اہمیت، موجودہ صورتِ حال اور نئی نسل میں مطالعے کے فروغ پر گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد خواتین کی صحت اور پوشیدہ بیماریوں کے حوالے سے سوال و جواب پر مشتمل معلوماتی نشست ہوئی، جس میں حاضرین نے بھرپور دلچسپی لی۔
گندھارا تہذیب اور گندھارا آرٹ کے موضوع پر آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے ڈاکٹر ریاض کے ہمراہ تاریخی پس منظر اور ثقافتی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اسی نشست میں ’’سیاست میں خواتین کا کردار‘‘ کے موضوع پر معروف سیاسی کارکن زیبا آفریدی نے خواتین کی سیاسی شرکت اور انہیں درپیش سماجی و سیاسی چیلنجز پر گفتگو کی۔
ہندکو اور پشتو ادب کے حوالے سے گفتگو نے کانفرنس کو مزید کثیرالسانی اور ثقافتی رنگ عطا کیا۔ نشست کے اختتام پر مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے خواتین و حضرات میں اسناد اور ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔
خواتین اہلِ قلم کی کتب کی رونمائی
دوسری نشست میں ادبی لشکر سے وابستہ خواتین لکھاریوں کی کتب کی رونمائی ہوئی۔ ان میں محترمہ کلثوم زیب کی ’’بورہ جینئی‘‘، محترمہ گل ارباب کی ’’ناگفتہ بہ‘‘ اور ’’چلبلی وادی‘‘، محترمہ نگہت رسول نایاب کی ’’ازمیختونہ افسانے‘‘، ’’غنچہ د ګلو‘‘ اور ’’ما و پېژنئ زه سه یم‘‘، محترمہ ساجدہ مقبول تنہا کی ’’د زړہ درد‘‘ اور ڈاکٹر صبا خان کی ’’بعد مدت کے زندگی سے ملی‘‘ شامل تھیں۔
اس موقع پر خواتین اہلِ قلم کی ادبی خدمات کو سراہا گیا اور انہیں شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔ یہ نشست خواتین لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتی تھی۔
کثیرالسانی مشاعرہ
نماز اور کھانے کے وقفے کے بعد سہ پہر تین بجے تیسری نشست کا آغاز شاندار کثیرالسانی مشاعرے سے ہوا۔ مشاعرے میں تقریباً چالیس شعراء و شاعرات نے شرکت کی، جن میں خواتین کی تعداد نمایاں تھی۔ مختلف زبانوں میں پیش کیے گئے کلام نے محفل کو خوبصورت ادبی اور ثقافتی رنگ عطا کیا۔ سامعین نے شعراء و شاعرات کو بھرپور داد دی۔
مشاعرے کے اختتام پر تمام شریک شعراء و شاعرات میں اسناد تقسیم کی گئیں اور پروگرام شام چھ بجے اختتام پذیر ہوا۔
کلثوم زیب کی ادبی خدمات
محترمہ کلثوم زیب خویندې ادبي لښکر ’’خال‘‘ کی بانی و صدر ہونے کے ساتھ ساتھ خواتین کو ادبی میدان میں آگے لانے کے لیے بھی مسلسل سرگرمِ عمل رہی ہیں۔ انہوں نے خواتین اہلِ قلم کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور انہیں اپنی آواز مؤثر انداز میں پیش کرنے کے مواقع دیے۔
ان کی یہ کاوش قابلِ تحسین ہے کہ وہ ادب کو صرف کتابوں اور مشاعروں تک محدود رکھنے کے بجائے خواتین، بچوں، صحت، تاریخ، ثقافت اور سماجی مسائل جیسے موضوعات کو بھی ادبی سرگرمیوں کا حصہ بناتی ہیں۔ حالیہ کانفرنس بھی ان کے وسیع ادبی وژن، محنت اور تنظیمی صلاحیتوں کا خوبصورت اظہار تھی۔
ایک ادبی سوال
میں خود اس پروگرام میں شرکت نہ کرسکی کیونکہ بعض ناگزیر مصروفیات کے باعث تقریب میں موجود نہ تھی۔ تاہم، ایک سوال گزشتہ کچھ عرصے سے مجھ سے مسلسل کیا جا رہا ہے، جس کا ذکر ضروری سمجھتی ہوں۔
محترمہ کلثوم زیب کی جانب سے ’’پشتني ملغلري‘‘ کے نام سے دو تحقیقی و تنقیدی کتب شائع ہوچکی ہیں۔ بعض احباب مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ میری ادبی و صحافتی خدمات ان کتب میں کیوں شامل نہیں کی گئیں؟
میرا سادہ سا جواب یہی ہے کہ یہ سوال مجھ سے کرنے کے بجائے محترمہ کلثوم زیب سے کیا جانا چاہیے، کیونکہ کسی تحقیقی کتاب میں کسی شخصیت کو شامل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ مرتب یا مصنف ہی بہتر طور پر واضح کرسکتا ہے۔
تاہم، ایک لکھاری کی حیثیت سے اپنے احساسات بیان کرنا میرا حق ہے۔ ادب ایک طویل سفر، مسلسل جدوجہد اور تخلیقی کاوش کا نام ہے۔ اس لیے جب کسی تحقیقی حوالے میں بعض بعد میں آنے والے شعراء و لکھاریوں کا ذکر موجود ہو اور میری ادبی و صحافتی خدمات شامل نہ ہوں تو فطری طور پر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ انتخاب کا معیار کیا رہا ہوگا؟
میرا مقصد کسی کی دل آزاری یا ادبی خدمات کو کم تر ثابت کرنا نہیں، بلکہ صرف اس سوال کی وضاحت چاہتی ہوں جو مجھ سے بار بار پوچھا جا رہا ہے۔ تحقیقی کام میں انتخاب کے معیار اور وجوہات واضح ہوں تو علمی و ادبی اعتبار سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
خویندې ادبي لښکر ’’خال‘‘ کی یہ کانفرنس ایک کامیاب، منفرد اور بامقصد ادبی سرگرمی تھی، جس نے ادب کے ساتھ خواتین، بچوں، صحت، تاریخ، گندھارا تہذیب، سیاست اور معاشرتی مسائل کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔
محترمہ کلثوم زیب کی قیادت میں یہ کاوش خواتین کے لیے ایک مؤثر ادبی پلیٹ فارم کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ امید ہے کہ وہ اسی خلوص، محنت اور ادبی جذبے کے ساتھ مستقبل میں بھی اہلِ قلم اور ادب کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گی۔
میں نے خاص طور پر **اسپیسنگ، ’’شعراء و شاعرات‘‘، ’’بانی و صدر‘‘، ’’زیرِ بحث‘‘، ’’آثارِ قدیمہ کے ماہرین‘‘، رموزِ اوقاف** اور جملوں کی روانی درست کی ہے۔