کئی دنوں سے یہ تماشا دیکھ رہا ہوں۔ کہیں پھول نچھاور ہو رہے ہیں، کہیں گالیاں دی جا رہی ہیں، اور کہیں فتوے لگ رہے ہیں۔ ایک طرف مسلمان کٹ رہے ہیں، مر رہے ہیں، ناحق شہید ہو رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ہم مناظروں پر جشن منا رہے ہیں کہ شیعہ غلط ہیں یا سنی۔
سوال بہت سادہ ہے۔ آپ سب کچھ بتا دیجیے، مگر یہ بتائیے کہ کیا آپ مسلمان بھی ہیں؟
اللہ کے نبیﷺ کیا اِس دن کے لیے روئے تھے؟ کیا وہ راتوں کو اس لیے کھڑے رہے کہ چودہ سو سال بعد اُن کی امت اِس بات پر بٹی ہوئی ہو کہ غلط کون ہے اور صحیح کون؟
ہم ایک امت کے طور پر آخر کب ابھریں گے؟ دوسرے مذاہب کے لوگ ایک ہی سوچ کے تحت ہمیں صرف "مسلمان” سمجھ کر نقصان پہنچا رہے ہیں، اور ہم آپس میں تقسیم ہیں۔ باہر والے کو ہمارا مسلک نہیں پوچھنا پڑتا وہ صرف نام دیکھتا ہے۔ اور ہم گھر کے اندر ایک دوسرے کا شجرہ ناپتے رہتے ہیں۔
یہ مناظرے، چاہے کوئی جیتے، ہماری ہار ہیں بحیثیت مسلمان، چاہے ہم شیعہ ہوں یا سنی۔
ذرا اپنا کیلنڈر دیکھیے۔ میلاد کے دن آتے ہیں تو بحث چڑھ جاتی ہے کہ یہ نیک کام ہے یا بدعت۔ محرم آتا ہے تو پرانی لڑائیاں تازہ ہو جاتی ہیں۔ رمضان اور عید کا چاند آتا ہے تو ایک صوبہ ایک طرف اور باقی صوبے دوسری طرف ہو جاتے ہیں۔ جس موقع پر ہمیں اکٹھا ہونا چاہیے، عین اُسی موقع پر ہمیں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ لگتا ہے مقصد ہی یہ ہے کہ کسی بات پر اکٹھے نہ ہوں۔
اور اس سب کا ایک بازار بن چکا ہے۔ ہر بندے نے اپنی دکان کھولی ہے۔ کوئی سمندر پار بیٹھ کر جو دل میں آتا ہے کہتا چلا جاتا ہے، کوئی یہاں بیٹھ کر وہی کام کرتا ہے۔ پھر دونوں طرف اپنی اپنی جیت کے ڈھنڈورے پیٹے جاتے ہیں۔ اور واللہ، امت کی پریشان حالی کا کوئی نہیں سوچ رہا۔
کچھ لوگوں نے بزرگوں کا مذاق اڑانے کو اپنا ایجنڈا بنا لیا ہے۔ کیمرے کے سامنے بیٹھ کر ہنستے ہیں، اور اسی کو علمی استدلال کا نام دیا جاتا ہے۔ علم کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ آدمی کو نرم کرتا ہے۔ جو "علم” آپ کو دوسروں پر ہنسنا سکھائے، وہ علم نہیں، کچھ اور ہے۔
اور یہ کمرشل میڈیا نہ جانے کیوں ہر اُس موقع پر اختلافات کی بات لے کر آ جاتا ہے جب ہم سب کو اکٹھا ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نفرت بکتی ہے، اتحاد نہیں بکتا۔ اور ہم مفت میں گاہک بن جاتے ہیں۔
نبی کریمﷺ نے امت کو ایک جسم قرار دیا تھا۔ آج اس جسم کے ہر عضو میں کینسر پھیلا ہوا ہے۔ فلسطین کے حالات دیکھ لیجیے۔ کشمیر دیکھ لیجیے۔ وزیرستان، افغانستان، برما، بھارت جہاں نظر ڈالیں، وہی مناظر ہیں۔ اور اس تکلیف کے عین بیچ ہم اہلِ حدیث اور دیوبندی میں، پنجابی اور پٹھان میں، شیعہ اور سنی میں تقسیم ہو کر بیٹھے ہیں۔
سچ یہ ہے کہ آج کوئی ایک مسلمان ملک ایسا نہیں جس کی طرف اطمینان سے اشارہ کر کے کہا جا سکے کہ ہاں، یہ لوگ واقعی نبیﷺ کے امتی بن کر رہ رہے ہیں۔ کہیں دولت نے اندھا کر دیا ہے، کہیں نقل نے، کہیں خوف نے۔ کہیں مسجد آباد ہے مگر معاملہ خراب ہے، کہیں معاملہ ٹھیک ہے مگر دل خالی ہے۔ دعویٰ ہر جگہ بڑا ہے، کردار ہر جگہ چھوٹا۔
لکھتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ کسی مقصد کے تحت لکھ رہا ہوں۔ مقصد کوئی نہیں۔ دل دکھتا ہے یہ حالت دیکھ کر۔
بحثوں میں پڑے ہوئے ہم۔
دلیلوں میں پڑے ہوئے ہم۔
جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہم۔
اخلاقی اقدار سے گرے ہوئے ہم۔
کب تک چلے گا ایسے؟ نہیں چلے گا ایسے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا کیا جائے۔ میرے پاس کوئی بڑا حل نہیں، مگر چند چھوٹی باتیں ہیں جو ہم میں سے ہر ایک آج کر سکتا ہے۔
پہلی بات: اختلاف کوئی نئی چیز نہیں۔ اختلاف ہمیشہ رہا ہے اور رہے گا۔ نئی چیز عداوت ہے۔ اختلاف علم کی نشانی ہے، عداوت جہالت کی۔ جو آپ کے مسلک پر نہیں، وہ آپ کا مخالف نہیں۔
دوسری بات: نفرت کا کاروبار ہماری توجہ سے چلتا ہے۔ جو شخص گالی دے کر مشہور ہو رہا ہے، اُسے ہم مشہور کر رہے ہیں۔ نہ سنیے، نہ آگے بھیجیے، نہ اُس کے تماشے کو بڑا کیجیے۔ ایک کلک روک لینا بھی امت کی خدمت ہے۔
تیسری بات: جب بھی کوئی بحث سامنے آئے، خود سے ایک سوال کر لیجیے کہ اس بحث سے امت کو کیا ملے گا؟ اگر جواب "کچھ نہیں” ہے، تو خاموشی بہتر ہے۔ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔
اور آخری بات یہ کہ شروعات اپنے گھر سے کیجیے۔ اپنے بچوں کے سامنے کسی دوسرے مسلک کا مذاق نہ اڑائیے۔ بچے دلائل نہیں سیکھتے، لہجے سیکھتے ہیں۔ جو نفرت آج ہماری زبان پر ہے، وہ کل اُن کے دل میں ہوگی۔
ہم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ ہم نے کتنے مناظرے جیتے۔ ہم سے یہ پوچھا جائے گا کہ ہم نے کتنے دل جوڑے۔ اور اگر ہمارے پاس اس سوال کا جواب نہیں، تو باقی ساری جیتیں بے کار ہیں۔ اللہ ہمیں ایک امت بننے کی توفیق دے، اور ہمارے دلوں سے یہ زہر نکال دے۔ آمین۔