تمہید: ذمہ داری سے فرار کی دیرینہ عادت
معاشرتی اور اخلاقی زوال کے اس دور میں ہمارا سب سے بڑا قومی و اجتماعی المیہ یہ بن چکا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں، کوتاہیوں، مالی و اخلاقی خرابیوں اور ناکام تربیتی نظام کی تمام تر ذمہ داری سے خود کو مبرا قرار دے دیتے ہیں۔ جب اپنے اعمال، غلط فیصلوں اور کوتاہیوں کے محاسبے کا وقت آتا ہے، تو ہم سارا ملبہ بلا جھجھک نئی نسل یعنی جنریشن زی (Gen Z) کے سر تھوپ دیتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو فصل آج کٹ رہی ہے، اس کا بیج کسی اور نے نہیں بلکہ ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے بویا تھا۔
انسان کا فکری اور اخلاقی زوال اس وقت انتہا کو پہنچتا ہے جب وہ اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے مظلوم ہی کو ظالم اور نتائج ہی کو سبب بنا کر پیش کرنے لگے۔ ہم نے ایک ایسا معاشرتی ماحول تشکیل دے دیا ہے جہاں بڑا طبقہ اپنی بدعنوانی، بدسلوکی اور ناانصافی کو "تجربہ اور حکمت” کا نام دیتا ہے، جبکہ ان غلطیوں پر سوال اٹھانے والی نسل کو "بدتمیز، بے راہ رو اور نالائق” قرار دے کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتا ہے۔
۱۔ تربیتی ناکامیاں اور دوہرا معیار
ہم نئی نسل کو بغاوت، بے صبری، نافرمانی اور روایات سے انحراف کا طعنہ دیتے ہیں، لیکن کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر یہ نہیں سوچتے کہ انہیں یہ خوراک کس نے فراہم کی؟
قول و فعل کا تضاد:
ہم نے نئی نسل کو کتابوں، منبروں اور باتوں میں تو اخلاق، حلال روزی اور سچائی کا درس دیا، لیکن عملی زندگی میں ان کے سامنے دھوکہ دہی، ناجائز ذرائع سے مال کمانا، خاندانی عداوتیں اور مظلوموں کا استحصال کر کے دکھایا۔ بچہ جب دیکھتا ہے کہ اس کا باپ گھر میں مذہبی اور اخلاقی باتیں کرتا ہے لیکن باہر کسی کا حق دباتا ہے یا رشوت لیتا ہے، تو اس کے ذہن میں اخلاقی اقدار کا عمود ڈھے جاتا ہے۔
مالی عیاشی اور آسائش کا نشہ:
جب والدین نے خود حلال و حرام کی تمیز بھول کر بچوں کو ناجائز ذرائع سے کمائی گئی آسائشیں، مہنگے فون اور بے جا سہولیات فراہم کیں، تو وہی بچے بڑے ہو کر ان کے لیے ناخلف بن گئے۔ ہم نے انہیں مادیت پرستی کے سمندر میں خود اتارا اور اب جب وہ اسی مادیت کے ترازو میں رشتوں کو تول رہے ہیں، تو ہم اس کا قصوروار ان کی "نسل” کو قرار دے رہے ہیں، نہ کہ اپنی غلط "تربیت” کو۔
۲۔ Gen Z: زوال کا سبب یا ہمارے رویوں کا ردِعمل؟
جس Generation Z کو ہم بے راہ روی، بے حسی اور بے سکونی کا طعنہ دیتے ہیں، وہ دراصل اس بیمار، منافقانہ اور گلے سڑے معاشرتی نظام کا قدرتی ردِعمل (Reaction) ہے جو ہم نے ان کے لیے ورثے میں چھوڑا ہے۔
اعتماد کا فقدان:
جب نئی نسل نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ بڑا طبقہ پیٹ بھر کر کھاتا ہے لیکن کسی غریب یا محنت کش کا حق وقت پر ادا نہیں کرتا، اور رشتوں میں خلوص کے بجائے محض مفاد پرستی اور دکھاوا ہے، تو ان کا پرانے نظام، روایات اور بظاہر مقدس دِکھنے والی اقدار سے اعتماد اٹھ گیا۔
سچائی کی تلاش اور سوال اٹھانے کی جرات:
جنریشن زی نے جب روایت پرستی کے نام پر پھیلی ہوئی منافقت کو دیکھا، تو انہوں نے اندھی تقلید سے انکار کر کے سوال اٹھانا شروع کیے۔ وہ یہ پوچھتے ہیں کہ اگر ایک کام غلط ہے تو بڑا کرنے والا قابلِ احترام کیوں ہے؟ ہم ان کے ان منطقی سوالات کے جواب دینے کے بجائے انہیں "بدتمیزی”، "سرکشی” اور "نافرمانی” کا نام دے کر اپنی جان چھڑانے اور اپنی انا کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
۳۔ اپنی کارگزاری سے نظریں چرانا
ہماری تاریخ اور موجودہ حالت اس بات کی گواہ ہے کہ ہم نے نئی نسل کو ایک ایسا ویران اور زہریلا معاشرہ منتقل کیا ہے جہاں:
حق کی تذلیل:
حق دار کو اس کا حق مانگنے پر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے اور اسے طرح طرح کے حیلے بہانوں سے ٹالا جاتا ہے۔
بددلی اور چالاکی:
مالی معاملات میں ایفائے عہد اور بروقت ادائیگی کو نادانی، جبکہ ٹال مٹول یا دھوکہ دہی کو "ہوشیاری” سمجھا جاتا ہے۔
احساسِ جرم کا خاتمہ:
اولاد کی بے جا خوشنودی کے لیے جائز و ناجائز اور حلال و حرام کا فرق ختم کر دیا گیا ہے۔
ان تمام بنیادوں کو اپنے ہاتھوں سے خراب کرنے کے بعد، جب پورا گھرانہ بے سکونی، تلخیوں اور خاندانی عداوتوں کی آگ میں جلنے لگتا ہے، تو ہم انتہائی آسانی کے ساتھ کہہ دیتے ہیں کہ "آج کل کے بچوں میں ہی وفا، لحاظ اور ادب نہیں رہا”۔ یہ دراصل اپنی نالائقی، بے حسی اور گناہوں کا بوجھ کسی دوسرے کے نازک کندھوں پر ڈالنے کا سب سے آسان، سستا اور بزدلانہ طریقہ ہے۔
۴۔ حقوق العباد کی پامالی اور الٰہی نظامِ عدل
ہم اس بنیادی حقیقت کو بالکل فراموش کر چکے ہیں کہ معاشرتی زوال اور خانگی بے سکونی کا اصل سبب ہماری وہ معصیتیں اور ناانصافیاں ہیں جو ہم روزمرہ کی زندگی میں کرتے ہیں۔ جب ہم کسی مظلوم کی آہ لیتے ہیں، کسی مزدور کی اجرت روکتے ہیں یا کسی کا حق مار کر اپنے بچوں کا پیٹ بھرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ کا نظامِ عدل حرکت میں آتا ہے۔
حرام رزق کا زہریلا اثر:
حرام کا لقمہ جب جسم کا حصہ بنتا ہے تو وہ طاعت اور ادب کے جذبات کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کی تمام تر ترغیبات کے باوجود اولاد نافرمان اور بدتمیز بن جاتی ہے۔
مکافاتِ عمل:
جو زہر ہم نے دوسروں کی زندگیوں میں گھولا ہوتا ہے، وہی زہر گھوم پھر کر ہماری اپنی اولاد اور گھر کے ماحول کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ اس کا علاج نئی نسل پر تنقید کرنا نہیں بلکہ اپنے رزق اور اعمال کی پاکیزگی میں ڈھونڈنا ہوگا۔
۵۔ نسلِ نو کا حقیقی چہرہ: الزام تراشی کے بجائے درک کی ضرورت
اگر تعصب کا چشمہ اتارا جائے تو معلوم ہوگا کہ Gen Z مکمل طور پر بگڑی ہوئی نسل نہیں ہے، بلکہ ان کے اندر چند ایسی مثبت اور روشن خصوصیات موجود ہیں جن سے پچھلی نسلیں محروم تھیں:
دکھاوے سے نفرت:
یہ نسل ظاہری بناوٹ، تصنع اور منافقت کو سخت ناپسند کرتی ہے۔ وہ رشتے میں خلوص اور بات میں سچائی کی طالب ہے۔
صحت مند حدود (Boundaries) کا تعین:
وہ بلاوجہ کی زہریلی رشتہ داریوں اور استحصالی رویوں کو برداشت کرنے کے بجائے ذہنی سکون (Mental Peace) کو ترجیح دیتے ہیں، جسے اکثر پچھلی نسلیں "بے حسی” سے تعبیر کرتی ہیں۔
انصاف اور انسانی حقوق کا شعور:
وہ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے میں زیادہ بے باک اور باضمیر ہیں۔
حاصلِ کلام: اصلاح کا راستہ خود سے شروع ہوتا ہے.
اگر ہم واقعی اس بڑھتے ہوئے معاشرتی زوال کو روکنا چاہتے ہیں اور اپنے گھروں میں سکون و برکت واپس لانا چاہتے ہیں، تو ہمیں نئی نسل کو کوسنے اور انہیں اپنی تمام ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے اپنے اعمال کا سخت ترین محاسبہ (Self-introspection) کرنا ہوگا۔
ذمہ داری کا قبول کرنا:
ہمیں کھلے دل سے یہ ماننا ہوگا کہ اگر آج نسلِ نو میں بے راہ روی، بے صبری یا تلخی ہے، تو اس کے بنیادی ذمہ دار وہ خود نہیں بلکہ ہمارا اپنا کردار، ہماری دی ہوئی ناقص تربیت اور ہمارا رزقِ حرام کا انتخاب ہے۔
عملی نمونہ (Role Model) بننا:
نئی نسل محض باتوں، نصائح اور تقریروں سے نہیں بلکہ عمل دیکھ کر سیکھتی ہے۔ اگر ہم اپنی عملی زندگیوں میں بروقت ادائیگی، رزقِ حلال کی پابندی، حقوق العباد کی پاسداری اور سچا اخلاق قائم کر لیں، تو نئی پود کو قصوروار ٹھہرانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی ،وہ خود بخود ایک صالح، متوازن اور باادب معاشرے کا حصہ بن جائیں گے۔
یاد رکھیے، اپنے بوئے ہوئے کانٹوں کی چبھن کا ذمہ دار دوسروں کے جوتوں کو ٹھہرانے سے نہ تو درد کم ہوتا ہے اور نہ ہی زخمی پاؤں ٹھیک ہوتے ہیں؛ اس کا واحد علاج یہ ہے کہ ہم اپنی اصلاح کریں اور آئندہ کے لیے پاکیزہ، حلال اور سچائی کے بیج بونا شروع کریں۔