وزیر کو نہیں، نظام کو جوابدہ بنائیں!

پمز میں 14 معصوم نومولود بچوں کا المناک سانحہ صرف ایک خبر نہیں، یہ پوری قوم کے دل پر لگا ہوا ایک زخم ہے۔ ان ماؤں کا دکھ، جنہوں نے اپنے بچوں کو ہسپتال کے حوالے کیا اور پھر ان کی میتیں وصول کیں، شاید الفاظ میں کبھی بیان نہیں کیا جا سکتا۔

اس سانحے کے ذمہ دار اگر کسی بھی سطح پر موجود ہیں تو ان کا احتساب ہونا چاہیے، سخت ہونا چاہیے اور بلاامتیاز ہونا چاہیے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال بھی ضرور پوچھنا چاہیے، کیا کسی ایک ہسپتال میں ہونے والے ہر انتظامی واقعے کی براہ راست ذمہ داری وزیر صحت پر ڈال دینا انصاف ہے؟ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی بڑے سے بڑے ہسپتالوں میں حادثات رونما ہوتے ہیں۔

وہاں وزیرِ صحت کا کام ہر ہسپتال کی روزمرہ انتظامی نگرانی کرنا نہیں ہوتا۔ وزیر پالیسی بناتا ہے، صحت کے مجموعی نظام کی نگرانی کرتا ہے، معیار اور قوانین طے کرتا ہے اور اداروں کو جوابدہ بنانے کا نظام قائم کرتا ہے۔ کسی ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجود عملہ، انتظامیہ، سیفٹی پروٹوکول، فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور انتظامی فیصلوں کی ذمہ داری متعلقہ اداروں اور افسران پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو کہ وزیر صحت کی براہ راست غفلت، غلط فیصلہ یا مجرمانہ کوتاہی اس سانحے کا سبب بنی ہے تو یقینا وزیر سمیت ہر ذمہ دار شخص کا احتساب ہونا چاہیے۔ عہدہ کسی کو قانون سے بالاتر نہیں کرتا۔

لیکن اگر تحقیقات یہ ثابت کر رہی ہوں کہ بنیادی کوتاہیاں ہسپتال کی انتظامیہ، متعلقہ افسران یا فائر سیفٹی کے نظام میں تھیں، تو پھر صرف سیاسی غصے کی بنیاد پر وزیر صحت کو قربانی کا بکرا بنانا بھی انصاف نہیں۔ احتساب ضرور کریں، مگر تحقیق اور ثبوت کی بنیاد پر۔ سید مصطفیٰ کمال کو جتنا میں جانتا ہوں۔ ان سے میری جو ملاقاتیں رہی ہیں اور میرے ذاتی مشاہدے میں وہ ایک ایسے انسان ہیں جو جذباتی ضرور ہیں، مگر دل میں درد رکھتے ہیں، انسانوں سے محبت کرتے ہیں اور لوگوں کے مسائل کو محسوس کرنے والے انسان ہیں۔

ان کے دور نظامت کراچی میں بھی ہم نے انہیں کام کرتے دیکھا ہے۔ اختلاف رائے اپنی جگہ، سیاسی وابستگی اپنی جگہ، لیکن کسی شخص کے بارے میں رائے قائم کرتے ہوئے اس کی پوری شخصیت اور ماضی کی کارکردگی کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ پمز کا واقعہ یقینا سوالات اٹھاتا ہے، اور ان سوالات کے جواب ملنے چاہئیں۔ مگر ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمارا مقصد کسی ایک شخص کو ہٹانا ہے یا پورے نظام کو درست کرنا؟

اگر آج ایک وزیر کو اس لیے ذمہ دار قرار دے دیا جائے کہ اس کی وزارت کے ماتحت ایک ادارے میں کوئی سانحہ پیش آیا، تو کل یہی اصول تعلیم، داخلہ، ریلوے، بجلی، بلدیات اور ہر دوسرے شعبے پر لاگو ہوگا۔ دنیا کے بہتر نظام اس لیے بہتر نہیں کہ وہاں حادثات نہیں ہوتے،وہ اس لیے بہتر ہیں کہ حادثے کے بعد ذمہ داری درست جگہ طے کی جاتی ہے، نظام کی خامی تلاش کی جاتی ہے اور دوبارہ ایسے سانحے کو روکنے کے لیے اصلاحات کی جاتی ہیں۔

ہمیں بھی یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ 14 بچوں کی جانیں واپس نہیں آ سکتیں۔ ان کے والدین کا غم کم نہیں ہو سکتا، لیکن اگر اس سانحے کے بعد ہم نے ذمہ داروں کا حقیقی احتساب کیا، فائر سیفٹی کے نظام کو بہتر بنایا، ہسپتالوں کے ایمرجنسی پروٹوکولز درست کیے اور ایسا نظام بنایا کہ آئندہ کسی ماں کو اپنے بچے کی لاش نہ اٹھانی پڑے، تو شاید یہ قوم ان معصوم بچوں کے ساتھ ایک حقیقی انصاف کر سکے۔

مصطفیٰ کمال کا دفاع کسی شخصیت پرستی کے لیے نہیں، بلکہ انصاف کے اصول کے لیے ہے۔ اور اصول بہت سادہ ہے:

جو ذمہ دار ہے، اسے سزا ملنی چاہیے، جو بے قصور ہے، اسے صرف عوامی غصے کی بنیاد پر مجرم نہیں بنانا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ان معصوم بچوں کے درجات بلند فرمائے، ان کے والدین کو صبر عطا فرمائے اور ہمارے ملک کے صحت کے نظام کو ایسا بنائے کہ آئندہ کوئی گھر اس طرح نہ اجڑے۔ آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے