ثقافت کسی قوم کا صرف لباس، خوراک، موسیقی، رقص یا رہن سہن کا نام نہیں۔ ثقافت دراصل کسی معاشرے کی اجتماعی زندگی، زبان، تاریخ، ادب، عقائد، اقدار، رسم و رواج، فنون، اجتماعی رویوں اور فکری تجربات کا مجموعہ ہوتی ہے۔ کسی قوم کو سمجھنے کے لیے اس کی ثقافت کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ ثقافت ہی وہ آئینہ ہے جس میں ایک قوم اپنی اجتماعی شخصیت کو پہچانتی ہے۔
پشتون ثقافت بھی ایک وسیع اور قدیم تہذیبی روایت ہے۔ اس کی تشکیل کسی ایک دور، ایک حکمران یا ایک واقعے سے نہیں ہوئی، بلکہ صدیوں کے تاریخی تجربات، مختلف تہذیبوں سے میل جول، مذہبی اثرات، جغرافیہ، زبان، ادب اور اجتماعی زندگی نے اسے تشکیل دیا ہے۔
پشتو زبان کی تاریخی اور تہذیبی جڑوں کے مطالعے میں قدیم ایرانی اور ہند آریائی لسانی و تہذیبی روایتوں کا ذکر اہم ہے۔ رِگ وید اور اوستا جیسے قدیم متون برصغیر اور ایرانی خطے کی قدیم لسانی و فکری تاریخ کو سمجھنے میں اہم ماخذ ہیں۔ تاہم پشتو کو براہِ راست ان متون کی زبان قرار دینے کے بجائے اسے ہند یورپی زبانوں کے مشرقی ایرانی شاخ سے تعلق رکھنے والی زبان کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہے۔
کلچر ڈے منانے کا بنیادی مقصد بھی یہی ہونا چاہیے کہ کسی قوم کے افراد اپنی ثقافتی شناخت کو صرف ظاہری علامتوں تک محدود نہ کریں، بلکہ اپنی زبان، تاریخ، ادب، اجتماعی اقدار اور تہذیبی ورثے کو سمجھیں اور آنے والی نسلوں تک منتقل کریں۔
پشتون ثقافت کے تاریخی پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے گندھارا کا ذکر ناگزیر ہے۔ قدیم گندھارا موجودہ خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں، افغانستان کے مشرقی و شمال مشرقی حصوں اور تاریخی طور پر اس سے ملحقہ علاقوں پر مشتمل ایک اہم خطہ تھا۔ پشکلاوتی، یعنی موجودہ چارسدہ کے علاقے، ہنڈ، سوات، چکدرہ، چترال اور ٹیکسلا اس وسیع تہذیبی دنیا کے اہم مراکز رہے ہیں۔ ٹیکسلا کے آثار اس خطے کی قدامت اور اس کے تجارتی، علمی اور تہذیبی روابط کی گواہی دیتے ہیں۔
گندھارا ایک ایسی تہذیبی سرزمین تھی جہاں مختلف ادوار میں ہندوستانی، ایرانی، وسطی ایشیائی اور بدھ تہذیبی اثرات ایک دوسرے سے ملتے رہے۔ خصوصاً بدھ مت کے دور میں گندھارا فن نے ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ مجسمہ سازی، فنِ تعمیر، تعلیم اور تجارت کے میدان میں اس خطے نے نمایاں کردار ادا کیا۔
معروف دانشور جناب افراسیاب خٹک کا یہ کہنا ہے کہ یورپ میں علامت نگاری ایک باقاعدہ ادبی تحریک کی صورت میں انیسویں صدی میں سامنے آئی، جبکہ گندھارا تہذیب میں علامتی اظہار اور علامتی فنون کی روایت اس سے کئی صدیوں پہلے موجود تھی اور مختلف ادوار میں جاری رہی۔ اس رائے کو گندھارا کے فنون اور تہذیبی اظہار کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ماہرینِ لسانیات کے مطابق پشتو ہند یورپی زبانوں کے خاندان کی مشرقی ایرانی شاخ سے تعلق رکھتی ہے۔ تاہم جغرافیائی قربت اور صدیوں پر محیط تاریخی میل جول کے باعث پشتو اور ہند آریائی زبانوں اور ثقافتوں میں بہت سے مشترکات پیدا ہوئے ہیں۔ پختون قوم کی موجودہ شناخت بھی ایک طویل تاریخی اور ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ اس خطے میں مختلف اقوام، قبائل اور تہذیبی گروہ مختلف زمانوں میں آئے، آباد ہوئے اور مقامی معاشروں کے ساتھ تعلقات قائم کرتے رہے۔
پشتو زبان نے مختلف تاریخی ادوار میں دوسری زبانوں سے الفاظ اور اثرات قبول کیے، مگر اس کے باوجود اس کی اپنی لسانی شناخت اور ادبی روایت قائم
پشتون شناخت کے اہم عناصر میں پشتو زبان اور پشتونولي کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ سماجی، معاشرتی، خاندانی اور قبائلی تعلقات، مشترکہ تاریخی حافظہ، جغرافیہ، روایتی اقدار اور اجتماعی رسم و رواج کسی نہ کسی صورت میں پشتونولي کے اصولوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی فرد پشتونولي کی ان روایتی اقدار سے روگردانی کرے تو پشتون معاشرے میں اسے ملامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات یہ بھی کہا جاتا ہے کہ:
’’تم تو سرے سے پشتون ہی نہیں ہو۔‘‘
دنیا کی بہت سی زبانیں اپنی اپنی قوموں کی شناخت اور ثقافت کا اہم ذریعہ ہیں، لیکن پشتو کے ساتھ پشتونولي کا ایک مخصوص روایتی ضابطۂ حیات بھی وابستہ ہے، جو پشتون معاشرے کے سماجی، اخلاقی اور معاشرتی رویوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
پاکستان کی دیگر اقوام کے ثقافتی رنگوں کے ساتھ پختون ثقافت کا اپنا ایک رنگ اور ڈھنگ ہے۔ ثقافت کا ایک عنصر مادی اور دوسرا غیر مادی یا روحانی ہوتا ہے۔ مادی ثقافت میں وقت کے ساتھ تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے، مثلاً رہن سہن، لباس، کھانے کے برتن اور روزمرہ استعمال کی اشیا۔ ہمارے گھروں، حجروں، فنون، کھیتی باڑی کے اوزار اور کھانے پینے کی اشیا میں بھی وقت کے ساتھ تبدیلی آئی ہے۔
اسی طرح بعض کمزور یا فرسودہ روایات سماج میں علم و شعور کے فروغ کے ساتھ آہستہ آہستہ ختم ہو جاتی ہیں، مثلاً بعض علاقوں میں سورہ، ولور اور تربورولي جیسی روایات کی مخصوص شکلیں کمزور یا متروک ہوئی ہیں۔ اس کے برعکس مضبوط اور مثبت روایات نسل در نسل زندہ رہتی ہیں، جن میں ننگ، پت، پشتو، وفا، قومی خودداری، حمیت، شجاعت، محبت، غریب پروری، انسان دوستی، مہمان نوازی، جرگہ، مرکہ اور ننواتې وغیرہ شامل ہیں۔
کسی قوم کی اجتماعی دانش اور نفسیات اس کی لوک داستانوں، لوریوں، بچوں کی کہانیوں، ضرب الامثال، کہاوتوں، لنډیو، ٹپوں، لوک گیتوں، رزمیہ روایات اور شاعری میں بھی محفوظ رہتی ہے۔ یہ سب چیزیں پشتون معاشرے کی اجتماعی یادداشت کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
پختون ثقافت کی تشکیل اور تفہیم میں پشتو ادب کا کردار بنیادی ہے۔ اگر ہم پختون معاشرے کے جذبات، اخلاقی تصورات، محبت، تصوف، آزادی، مزاحمت، سماجی مسائل اور انسانی احساسات کو سمجھنا چاہتے ہیں تو پشتو ادب کا مطالعہ ضروری ہے۔
خوشحال خان خٹک پختون ادبی اور فکری تاریخ کی اہم شخصیت ہیں۔ ان کی شاعری اور نثر میں فرد کی شخصیت، اخلاق، علم، بہادری، سیاست اور اجتماعی زندگی کے مختلف پہلو زیرِ بحث آتے ہیں۔ ان کی اہمیت صرف اس وجہ سے نہیں کہ وہ ایک بڑے شاعر تھے، بلکہ اس لیے بھی ہے کہ انہوں نے پختون معاشرے کے مسائل اور اجتماعی زندگی پر گہرا غور کیا۔ ان کے ہاں علم، کردار اور عمل کی اہمیت بار بار سامنے آتی ہے۔ اسی لیے پختون ثقافت کے مطالعے میں خوشحال خان کا مطالعہ محض ادبی مطالعہ نہیں بلکہ فکری اور سماجی مطالعہ بھی ہے۔
رحمان بابا پشتو شاعری کا روشن مینار ہیں۔ رحمان بابا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کی شاعری خواص و عام میں یکساں مقبول رہی ہے۔ پختونوں کے حجرے ہوں یا جومات، گفتگو اور مکالمے کے دوران رحمان بابا کے اشعار دلیل یا مثال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں انسان دوستی، اخلاق، محبت اور روحانی تجربہ نمایاں ہے۔
عبدالحمید ماشوخېل، علی خان اور کاظم خان شیدا پشتو کلاسیکی دور کے سبکِ ہندی کے معروف اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔
جدید دور میں امیر حمزہ شینواری، غني خان، اجمل خٹک، قلندر مومند اور دوسرے شعرا و ادبا نے پختون معاشرے کے بدلتے ہوئے حالات کو اپنے اپنے انداز میں بیان کیا۔
یوں پشتو ادب صرف ادبی اظہار نہیں بلکہ پختون سماج کی فکری تاریخ اور اجتماعی احساسات کا بھی ایک اہم ریکارڈ ہے۔
جرگہ پختون معاشرتی زندگی کی ایک معروف روایت ہے۔ اس میں عمائدین یا متعلقہ افراد کسی مسئلے پر اجتماعی گفتگو اور مشاورت کرتے ہیں۔ تاریخی طور پر جرگہ مختلف نوعیت کے سماجی تنازعات اور اجتماعی معاملات کے حل میں استعمال ہوتا رہا ہے۔
جرگے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اسے اس کے تاریخی اور سماجی ماحول میں دیکھنا چاہیے۔ آج کے جدید ریاستی قانونی نظام اور روایتی جرگے کی نوعیت ایک جیسی نہیں؛ تاہم اجتماعی مشاورت کا تصور اب بھی پختون سماجی حافظے کا اہم حصہ ہے۔
روایتی معاشرے میں خاندان، قبیلے اور وسیع تر اجتماعی سطح پر جرگے منعقد ہوتے رہے ہیں۔ افغانستان کی سیاسی تاریخ میں ’’لویہ جرگہ‘‘ ایک مخصوص قومی مشاورتی ادارے اور روایت کے طور پر بھی سامنے آتا ہے، اس لیے ہر قومی جرگے کو لازماً ’’لویہ جرگہ‘‘ کہنا درست نہیں۔
پشتون سماج میں حجرہ اجتماعی زندگی کا ایک اہم ادارہ رہا ہے۔ حجرہ اور جومات عموماً ایک دوسرے کے قریب ہوتے تھے۔ حجرے میں لوگ بیٹھتے، گفتگو کرتے، مہمانوں کا استقبال کرتے اور اجتماعی معاملات پر تبادلۂ خیال کرتے۔ طنز و مزاح، شعر و شاعری اور موسیقی کی محافل بھی حجرے کی زندگی کا حصہ رہی ہیں۔ ستار، رباب، منگے اور دیگر روایتی سازوں کی آوازیں بھی ان محفلوں میں سنائی دیتی تھیں، جبکہ نماز کے وقت لوگ جومات میں نماز ادا کرنے کے لیے چلے جاتے تھے۔
حجرے کے اپنے آداب بھی ہوتے تھے۔ مشران اور بزرگ چارپائیوں پر بیٹھتے، جبکہ نوجوان باادب انداز میں بیٹھتے یا کھڑے رہتے۔ بعض روایتی حجروں میں پہاڑی پتھر بھی نشست کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ نوجوانوں سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ بزرگوں کے سامنے ادب و احترام کا مظاہرہ کریں اور محفل کے آداب ملحوظ رکھیں۔
اگر کوئی شخص زیادہ پڑھا لکھا نہ بھی ہو، لیکن اسے حجرے اور جومات میں باقاعدگی سے بیٹھنے اور بزرگوں کی صحبت سے سیکھنے کا موقع ملا ہو تو اسے بعض علاقوں میں ’’حجره جومات پاس‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس اصطلاح میں رسمی تعلیم کے بجائے سماجی تجربے، مشاہدے اور روایتی آداب سے حاصل ہونے والی دانائی کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
پختون ثقافت میں مہمان نوازی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اجنبی یا مہمان کے ساتھ حسنِ سلوک، اسے کھانا پیش کرنا اور اس کی عزت و حفاظت کا خیال رکھنا روایتی معاشرتی اقدار میں شامل رہا ہے۔
’’پنا‘‘ یعنی تحفظ بھی پشتون روایتی معاشرت کا ایک اہم تصور ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کے حجرے یا گھر میں پناہ لے تو روایتی طور پر پناہ دینے والا اس کے تحفظ کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص پنا لینے والے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو اسے پنا دینے والے کی بے حرمتی اور دشمنی تصور کیا جاتا ہے۔ اس روایت کی مختلف علاقوں میں مختلف صورتیں رہی ہیں۔
’’ننواتې‘‘ بھی پشتون روایتی معاشرت کا ایک معروف تصور ہے۔ اگر کسی شخص سے کوئی سنگین غلطی یا جرم سرزد ہو جائے اور وہ اس پر پشیمان ہو تو وہ اپنے خاندان یا معتبر افراد کے ساتھ متاثرہ خاندان کے پاس جا کر معافی اور صلح کی درخواست کرتا ہے۔ بعض علاقوں میں اس موقع پر متاثرہ خاندان کے حجرے میں جا کر بیٹھنے اور مرکہ یعنی بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی روایت رہی ہے۔
ننواتې کی مختلف شکلیں مختلف علاقوں میں پائی جاتی رہی ہیں۔ بعض روایات میں انتہائی عاجزی اور پشیمانی کے اظہار کے لیے مخصوص طریقے اختیار کیے جاتے تھے۔ اسی طرح بعض علاقوں میں خون کے بدلے ’’سورہ‘‘ کی رسم بھی موجود رہی، جس میں مقتول خاندان کو لڑکی دینا شامل تھا۔ یہ ایک سخت اور نقصان دہ روایت تھی اور وقت کے ساتھ بہت سے علاقوں میں اس کے خلاف شعور پیدا ہوا اور یہ روایت کمزور یا متروک ہوئی۔
موسیقی بھی پختون ثقافت کا نمایاں حصہ ہے۔ رباب، منگے، شپېلۍ اور دیگر سازوں کے ساتھ گائی جانے والی موسیقی نے پختون معاشرے کے جذبات، خوشیوں اور اجتماعی احساسات کے اظہار میں کردار ادا کیا ہے۔
اتڼ پختون ثقافت کی معروف اجتماعی روایات میں سے ایک ہے۔ اسے مختلف علاقوں میں مختلف انداز سے پیش کیا جاتا ہے اور اس کی کئی صورتیں موجود ہیں۔ شادی بیاہ، خوشی اور اجتماعی تقریبات میں اس کا اظہار آج بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
تاہم ثقافت کو صرف اتڼ اور موسیقی تک محدود کر دینا پختون ثقافت کی وسعت کو کم کر دیتا ہے۔ یہ اس کے وسیع تہذیبی نظام کا صرف ایک حصہ ہیں۔
پختون لباس بھی ثقافتی شناخت کی ایک نمایاں علامت ہے۔ شلوار قمیص، واسکٹ، پگڑی، چادر اور مختلف علاقوں کے مخصوص ملبوسات پختون معاشرے کے روایتی لباس کا حصہ رہے ہیں۔ خواتین کے لباس میں بھی علاقے، قبیلے اور مقامی روایت کے لحاظ سے رنگ، کڑھائی اور ڈیزائن میں نمایاں تنوع پایا جاتا ہے۔
لباس ثقافت کی ظاہری علامت ضرور ہے، لیکن ثقافت کی اصل قوت اس کے اندر موجود زبان، اقدار، ادب، اجتماعی شعور اور طرزِ زندگی میں ہوتی ہے۔
پختون ثقافت کے مطالعے میں خواتین کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ گھر، خاندان، لوک ادب، دستکاری، کڑھائی، لوک گیت اور روایتی علم کی منتقلی میں خواتین کا اہم کردار رہا ہے۔ بہت سا لوک ادب خواتین کی آواز کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوا۔
خصوصاً لنډۍ میں عورت کے جذبات، محبت، جدائی، سماجی حالات اور زندگی کے تجربات کی بھرپور ترجمانی ملتی ہے۔ اس لیے پختون ثقافت کا مکمل مطالعہ مرد اور عورت دونوں کے تجربات کو شامل کیے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔
اسلام نے پختون معاشرے کی تہذیبی اور اخلاقی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ اسلام سے پہلے موجود بعض مقامی روایات نے وقت کے ساتھ اسلامی اخلاق اور مذہبی تصورات کے ساتھ تعامل کیا۔
اسی لیے موجودہ پختون ثقافت میں مذہبی اقدار اور مقامی روایات دونوں کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔
یہاں ایک علمی اصول بھی ضروری ہے: پختونولي اور اسلامی شریعت کو ایک ہی چیز قرار نہیں دینا چاہیے۔ دونوں کے تاریخی پس منظر مختلف ہیں، اگرچہ صدیوں کے سماجی تعامل کے نتیجے میں پختون معاشرے میں ان کے اثرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ثقافت کوئی منجمد چیز نہیں۔ معاشرے کے بدلنے کے ساتھ ثقافت بھی بدلتی رہتی ہے۔ شہری زندگی، تعلیم، جدید ذرائع ابلاغ، ہجرت، روزگار، عالمی رابطے اور سوشل میڈیا نے پختون معاشرے کی زندگی میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔
آج ایک طرف پختون نوجوان جدید دنیا کے علوم، ٹیکنالوجی اور عالمی ثقافت سے جڑ رہا ہے، دوسری طرف اپنی زبان اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کا سوال بھی زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
یہاں اصل مسئلہ تبدیلی نہیں بلکہ یہ ہے کہ تبدیلی کے دوران اپنی بنیادی شناخت کو کس طرح محفوظ رکھا جائے۔
پختون ثقافت کے مستقبل کا سب سے اہم سوال پشتو زبان کے مستقبل سے بھی وابستہ ہے۔ اگر نئی نسل اپنی مادری زبان میں پڑھنے، لکھنے اور علمی اظہار کے مواقع سے محروم ہو جائے تو صرف روایتی لباس یا ثقافتی تقریبات کسی زبان کو زندہ نہیں رکھ سکتیں۔
اس لیے پشتو کے فروغ کے لیے معیاری تعلیم میں پشتو کے مواقع بڑھانا، جدید علمی اصطلاحات اور مواد تیار کرنا، پشتو کتابوں کی اشاعت، تحقیق اور تنقید کو فروغ دینا، ڈیجیٹل دنیا میں پشتو مواد میں اضافہ کرنا، بچوں کے لیے معیاری پشتو ادب پیدا کرنا اور مادری زبان کے احترام کو معاشرتی قدر بنانا ضروری ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ثقافت کا تعلق محض ماضی سے نہیں بلکہ مستقبل سے بھی قائم ہوتا ہے۔