ہم نے سوال کرنا کیوں چھوڑ دیا؟

بچپن میں ایک بچہ ہر چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے یہ کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ یہ کیسے ہوتا ہے؟ مگر جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا ہے، معاشرہ اسے سوال کرنے کے بجائے صرف جواب یاد کرنے کا عادی بنا دیتا ہے۔

پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان سوال کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم نے سوال کرنا کیوں چھوڑ دیا؟شاید اس کی ایک بڑی وجہ لوگوں کا خوف ہے۔ ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر ہم نے کسی بات پر سوال اٹھایا تو ہمیں بدتمیز، گستاخ یا اختلاف کرنے والا قرار دے دیا جائے گا۔ چنانچہ ہم اپنے سوالات اپنے اندر ہی دبا لیتے ہیں اور خاموشی کو زیادہ محفوظ راستہ سمجھنے لگتے ہیں۔

سوال نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ ہماری اپنی کمزوری اور غفلت بھی ہے۔ ہم اپنے حقوق اور مسائل کے بارے میں سوال تو کرنا چاہتے ہیں مگر ان سوالات کے جواب حاصل کرنے کے لیے جدوجہد نہیں کرنا چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی دوسرا ہمارے لیے آواز اٹھائے، سوال کرے اور تبدیلی لے آئے۔

ہم بھول جاتے ہیں کہ صرف سوال کر دینا کافی نہیں۔ اپنے جائز سوال کے جواب اور اپنے حق کے لیے شعور، مسلسل جدوجہد اور ثابت قدمی بھی ضروری ہے۔ جب ہم پہلی رکاوٹ پر خاموش ہو جائیں، پہلی مخالفت پر پیچھے ہٹ جائیں اور پہلی ناکامی کے بعد کوشش چھوڑ دیں تو آہستہ آہستہ سوال کرنے کی عادت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

ایک اور وجہ اندھی تقلید بھی ہے۔ ہم اکثر کسی شخصیت، ادارے یا معاشرتی روایت کو اس قدر حتمی سمجھ لیتے ہیں کہ اس کے بارے میں سوال کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔ ہمیں لگتا ہے کہ جو سب مانتے ہیں وہی درست ہے۔حالانکہ کسی بات کا عام ہونا اس کے درست ہونے کی ضمانت نہیں۔

باشعور انسان احترام کے ساتھ سوچتا ہے، دلیل سنتا ہے، تحقیق کرتا ہے اور پھر اپنی رائے قائم کرتا ہے۔احترام اپنی جگہ، مگر عقل و دلیل کو خاموش کر دینا شعور نہیں۔

اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کسی سوال کا جواب دلیل سے دینا مشکل ہو جائے تو سوال کا جواب دینے کے بجائے سوال کرنے والے ہی کو خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسے بدتمیز کہا جاتا ہے، اس کی نیت پر سوال اٹھایا جاتا ہے یا اسے بے جا بحث کرنے والا قرار دے دیا جاتا ہے۔

جہاں دلیل کمزور پڑ جائے، وہاں بعض لوگ سوال کا جواب دینے کے بجائے سوال کرنے والے کو خاموش کرنا آسان سمجھتے ہیں لیکن اگر سوال احترام کے ساتھ، حقیقت سمجھنے اور سیکھنے کی نیت سے کیا گیا ہو تو وہ بدتمیزی نہیں بلکہ شعور کی علامت ہے۔

سوال صرف جواب حاصل کرنے کے لیے نہیں ہوتا سوال سوچنے کا آغاز ہوتا ہے۔تعلیم کے میدان میں بھی سوال کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔ اگر ہم بچوں سے کہیں کہ خاموش رہو، جو بتایا گیا ہے اسے بس یاد کرو، جو لکھا ہے اسے تسلیم کرو تو ہم شاید ایسا طالب علم پیدا کر دیں جو امتحان میں جواب لکھ سکے مگر ضروری نہیں کہ وہ نئے سوال پیدا کرنا اور مسائل کے نئے حل تلاش کرنا بھی سیکھ سکیں۔

تعلیم کا مقصد صرف معلومات یاد کروانا نہیں بلکہ انسان کو سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے اور درست و غلط میں فرق کرنے کے قابل بنانا ہے۔

حکومت سے سوال کرنا کیوں ضروری ہے؟سوال کرنے کا تعلق صرف تعلیم یا اپنی ذات سے نہیں بلکہ حکومت اور ریاستی اداروں کی کارکردگی سے بھی ہے۔ ایک باشعور شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پوچھے کہ عوام کے لیے بنائے گئے منصوبوں پر کتنا کام ہوا، وسائل کہاں خرچ ہوئے، وعدوں پر کس حد تک عمل ہوا اور عوام کو بنیادی سہولیات کیوں میسر نہیں۔

اگر عوام حکومت سے سوال کرنا چھوڑ دے تو جواب دہی کا نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ حکومت سے سوال کرنا انتشار نہیں بلکہ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنا حق ادا کرنا ہے۔لیکن یہاں بھی صرف سوال کافی نہیں۔ اگر ہم اپنے حقوق کے بارے میں جانتے ہوئے بھی خاموش رہیں پہلی رکاوٹ پر پیچھے ہٹ جائیں اور اپنے جائز مطالبات کے لیے پُرامن اور آئینی جدوجہد نہ کریں تو پھر تبدیلی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر سوال بغاوت نہیں ہوتا، ہر اختلاف گستاخی نہیں ہوتا اور ہر تنقید دشمنی نہیں ہوتی بعض اوقات ایک سوال وہ دروازہ کھول دیتا ہے جس کے پیچھے ایک نئی حقیقت، ایک نیا علم اور ایک بہتر راستہ موجود ہوتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف صحیح جواب دینا نہیں، صحیح سوال کرنا بھی سکھائیں۔ انہیں یہ اعتماد دیں کہ وہ پوچھ سکتے ہیں، تحقیق کر سکتے ہیں، دلیل کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کر سکتے ہیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں اختلاف بھی کر سکتے ہیں۔کیونکہ جس معاشرے میں سوال مر جائیں، وہاں سوچ بھی آہستہ آہستہ دم توڑنے لگتی ہے۔ اور جہاں سوال زندہ رہیں، وہاں علم، شعور اور تبدیلی کے امکانات بھی زندہ رہتے ہیں۔

شاید ہمیں اپنے بچپن کی طرف دوبارہ لوٹنے کی ضرورت ہےوہی سادہ سے سوالات لے کر:
یہ کیا ہے؟

ایسا کیوں ہے؟یہ کیسے ہوتا ہے؟اور کیا اسے بہتر نہیں کیا جا سکتا؟

کیونکہ تبدیلی ہمیشہ کسی بڑے اعلان سے نہیں کبھی کبھی صرف ایک سچے سوال سے شروع ہوتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے