عطائیت کے پیچھے چھپا خلا

پہاڑوں پر زندگی آسان نہیں ہوتی ، یہاں راستے صرف راستے نہیں ہوتے، آزمائش ہوتے ہیں۔ کہیں پتھریلی ڈھلوان، کہیں تنگ پگڈنڈی، کہیں گہری کھائی، کہیں بارش سے پھسلتا راستہ اور کہیں برف کے نیچے چھپے ہوئے پتھر۔ دن کی روشنی میں بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کے لیے احتیاط ضروری ہوتی ہے، لیکن پہاڑ کی اصل مشکل اس وقت سامنے آتی ہے جب رات کے اندھیرے میں کسی گھر کا دروازہ طبی ایمرجنسی کے باعث کھلے ،درد کے باعث تڑپتا مریض مدد کا منتظر ہو۔

ذرا سوچیے، اپر سرن ویلی کے کسی پہاڑی گھر میں رات کے وقت ایک بچہ اچانک شدید بیمار ہو جائے، کسی بزرگ کو سانس لینے میں دشواری ہو، کسی شخص کا شدید خون بہنے لگے یا حاملہ خاتون کو اچانک پیچیدگی پیش آ جائے۔

گھر والے کیا کریں گے؟

ڈاکٹر کو بلائیں گے؟

لیکن ڈاکٹر کہاں ہے؟

ایمبولینس بلائیں گے؟

لیکن ایمبولینس سڑک کے اختتام کے بعد کہاں تک پہنچ سکتی ہے؟

مریض کو پہاڑ سے نیچے لائیں گے؟

لیکن رات کے اندھیرے میں پہاڑ کی چوٹی سے مریض کو سڑک تک کون اور کیسے لے کر آئے گا؟

یہی وہ سوال ہے جس پر ہماری صحت متعلق بحث آ کر رک جاتی ہے۔

اور یہی وہ سوال ہے جس کا جواب دئے بغیر صرف یہ کہنا کہ ’’عطائی کے پاس مت جائیں‘‘ شاید مسئلے کا حل نہیں ہے۔

ہمیں یہاں رک کر تسلیم کرنا پڑتا ہے ان دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں مسئلہ صرف ہانپتی ہوئی عطائیت نہیں بلکہ اصل مسئلہ مستند طبی سہولت تک رسائی ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے Mouza Census 2020 کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ جہاں کسی دیہی آبادی میں بنیادی سہولت موجود نہ ہو وہاں اس سہولت تک فاصلے کو بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا کے دیہی علاقوں میں BHU تک اوسط فاصلہ 15 کلومیٹر، RHC تک 21 کلومیٹر اور نجی MBBS ڈاکٹر تک اوسط فاصلہ 22 کلومیٹر تھا۔ یہ صوبائی اوسط ہے؛ پہاڑی علاقوں کے مخصوص گھروں اور بستیوں میں زمینی صورت حال اس سے مختلف اور بعض اوقات کہیں زیادہ مشکل اور پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

یہاں بنیادی فرق کو سمجھنے کی اشہد ضرورت ہے:

صحت کے مرکز کا موجود ہونا اور صحت کی سہولت تک بروقت رسائی ہونا دو مختلف باتیں ہیں۔ فرض کریں کسی پہاڑی علاقے میں سول ڈسپینسری موجود ہے لیکن رات کے وقت میں موسم کی صورتحال کے پیش نظر سول ڈسپنسری تک پہنچنا مشکل ہے تو کیا کیا جائے ؟

کاغذ پر BHU موجود ہو سکتا ہے۔

کسی مقام پر RHC کی عمارت موجود ہو سکتی ہے۔

کسی دیوار پر سرکاری بورڈ بھی لگا ہو سکتا ہے۔

لیکن جب رات کے دو بجے مریض تڑپ رہا ہو تو اسے عمارت نہیں چاہیے۔

اسے فعال ڈاکٹر، تربیت یافتہ عملہ، ضروری ادویات، فوری طبی امداد اور قابلِ اعتماد ریفرل میکانیزم چاہئے۔

ریاست نے عطائیت کو جرم قرار دیا ہے، درست ہے۔

غیر مستند شخص کو ڈاکٹر کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا ، یہ بھی درست لیکن مریض کی امید کون بنے گا ؟ یہ سوال سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کا قانونی مینڈیٹ ہی محفوظ اور معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی اور عطائیت کے خاتمے سے متعلق ہے۔ KP HCC کے مطابق quackery کے خلاف باقاعدہ قانونی و انتظامی نظام موجود ہے، جبکہ اس کے Anti-Quackery Regulations میں غیر اہل، غیر رجسٹرڈ یا اپنی رجسٹریشن کی حدود سے باہر طبی خدمات فراہم کرنے والوں کو عطائیت کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔

کمیشن کے مطابق عطائیت قابلِ سزا جرم ہے اور اس کے خلاف کارروائی کے لیے باقاعدہ Anti-Quackery Strategy موجود ہے۔

لہٰذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ پہاڑ پر عطائی دستیاب ہے، اس لیے اسے رہنے دیا جائے۔

نہیں۔

غیر مستند علاج مریض کے لیے خطرہ ہے، اور خطرے کو صرف اس بنیاد پر جائز نہیں بنایا جا سکتا کہ ریاستی طبی سہولیات دور ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ دوسرا سوال بھی اتنی ہی شدت سے پوچھا جانا چاہئے کہ ؛

اگر عطائی کو ختم کیا جا رہا ہے تو اس خلا کو کون پُر کرے گا؟

عطائی ڈاکٹر نہیں، خلا کی پیداوار ہے۔

یہ جملہ شاید اس پوری بحث کا مرکزی نکتہ ہے:

عطائی حل نہیں، ایک ناکام یا ناکافی رسائی کے خلا کی علامت ہے۔

یہ بات کسی عطائی کو معصوم ثابت نہیں کرتی۔

یہ بات اس کے غیر قانونی عمل کو جائز قرار نہیں دیتی۔

بلکہ یہ سوال ریاست، محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں سے کرتی ہے کہ اگر ایک پہاڑی آبادی میں مستند طبی سہولت تک رسائی مسلسل مشکل ہے تو اس خلا کو پر کرنے کے لیے ریاست نے کیا متبادل بنایا؟

کیونکہ انسان بیماری کا انتظار نہیں کرتا کہ دفتر کھلے گا، ڈاکٹر آئے گا یا سڑک بنے گی۔

بیماری کبھی رات کو بھی آ سکتی ہے۔

حادثہ کبھی بارش یا برف باری میں ہو سکتا ہے۔

حمل کی پیچیدگی کبھی برف باری دیکھ کر نہیں آتی۔

دل کا دورہ موسم کا انتظار نہیں کرتا۔

اور خون بہنے والا مریض یہ نہیں دیکھتا کہ قریب ترین RHC کتنے کلومیٹر دور ہے؟۔

1122 موجود ہے، مگر پہاڑی علاقوں میں یہ سوال پھر بھی باقی ہے۔

خیبر پختونخوا میں Rescue 1122 ایک باقاعدہ ایمرجنسی نظام ہے۔ یہ نظام طبی ایمرجنسی سمیت مختلف ہنگامی حالات میں رسپانس فراہم کرتا ہے۔

لیکن پہاڑی علاقوں کے لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ 1122 کا نمبر موجود ہے یا نہیں۔

اصل سوال یہ ہے:

1122 کی گاڑی سڑک کے اختتام کے بعد کہاں تک جائے گی؟

اگر گھر سڑک سے ایک گھنٹے کی پیدل مسافت پر ہو تو مریض کو گاڑی تک کون پہنچائے گا؟

اگر راستہ برف سے بند ہو تو متبادل کیا ہوگا؟

اگر بارش میں پگڈنڈی خطرناک ہو تو تربیت یافتہ امدادی ٹیم کہاں ہے؟

اگر مریض چلنے کے قابل نہ ہو تو stretcher team کون فراہم کرے گا؟

اگر موبائل سگنل دستیاب نہ ہو تو رابطے کا متبادل نظام کیا ہے؟

یہ سوال Rescue 1122 کی افادیت سے انکار نہیں بلکہ اس کے پہاڑی علاقوں میں عملی دائرۂ کار کے بارے میں ہیں۔

اور دستیاب سرکاری معلومات میں مجھے Upper Siran کے انتہائی دور افتادہ پہاڑی گھروں کے لیے ایسا مخصوص 24 گھنٹے کا mountain medical response mechanism نظر نہیں آیا جو سڑک ختم ہونے کے بعد گھر تک طبی ٹیم کی رسائی کو الگ نظام کے طور پر بیان کرتا ہو۔

یہی وہ خلا ہے جس پر پالیسی بننی چاہیے۔

عمارتیں نہیں، فعال نظام کا ہونا ضروری ہے۔

اپر سرن ویلی میں صحت کے مراکز اور ڈسپنسریاں موجود ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ صحت کا مسئلہ حل ہوگیا۔

ایک سرکاری عمارت عوام کو یہ یقین نہیں دلا سکتی کہ ایمرجنسی میں کوئی ضرور پہنچ سکے گا۔

ایک ڈسپنسری تب صحت کا مرکز بنتی ہے جب وہاں:

مقررہ عملہ موجود ہو؛

ضروری ادویات دستیاب ہوں؛

مریض کو بروقت ابتدائی طبی امداد ملے؛

ایمرجنسی کی صورت میں ریفرل کا نظام ہو؛

ایمبولینس یا مریض منتقلی کا قابلِ عمل انتظام ہو؛

اور سب سے اہم، یہ نظام رات کے وقت بھی قابلِ اعتماد ہو۔

ورنہ عمارت کی موجودگی کس کام کی جب مریض زندگی کی امید ہی کھو بیٹھے ۔

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ KP Health Care Commission اپنے مشن میں صرف عطائیت کے خاتمے کی بات نہیں کرتا بلکہ access، equity اور quality کو بھی صحت کے نظام کا حصہ قرار دیتا ہے۔ کمیشن کے مطابق اس کا مقصد خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے محفوظ اور معیاری صحت کی خدمات تک رسائی اور مساوات کو بہتر بنانا ہے۔

یعنی ریاستی پالیسی کے اصول میں خود یہ تسلیم شدہ ہے کہ صرف غیر مستند شخص کو ہٹانا کافی نہیں؛ محفوظ اور معیاری متبادل بھی ضروری ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں اپر سرن ویلی کا سوال صوبائی پالیسی سے جڑ جاتا ہے۔

ایک طرف کارروائیاں، دوسری طرف خالی جگہ

خیبر پختونخواہ ہلیتھ کیئر کمیشن نے عطائیت کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں۔ کمیشن کی 2025 کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق اکتوبر تا دسمبر 2025 کے دوران صوبے بھر میں 7,544 healthcare establishments کا معائنہ کیا گیا، 3,523 نوٹس جاری ہوئے اور 1,650 مراکز سیل کیے گئے۔ کمیشن کے مطابق 2022 سے اس عرصے تک مجموعی طور پر 34,125 HCEs کا معائنہ، 11,838 نوٹس اور 6,165 sealing actions کیے گئے۔

یہ اعداد بتاتے ہیں کہ عطائیت اور غیر معیاری طبی خدمات کے خلاف ریاستی کارروائی محض کاغذی بات نہیں۔

لیکن اسی کے ساتھ ایک دوسرا ڈیٹا بھی چاہیے:

جن علاقوں میں غیر مستند طبی مراکز بند کیے گئے، وہاں مستند اور قابلِ رسائی متبادل کتنی رفتار سے قائم ہوئے؟

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب عام آدمی جاننا چاہتا ہے۔

کیا پہاڑ کے مریض کے لیے نیا ماڈل نہیں بن سکتا؟

کیوں نہیں؟

دنیا کے مختلف دشوار گزار علاقوں میں صحت کے نظام کا بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر مریض کو لازماً بڑے ہسپتال تک پہنچنے کا انتظار نہ کروایا جائے بلکہ ابتدائی سطح پر تربیت یافتہ امدادی کارکن، کمیونٹی ہیلتھ ورکرز، telemedicine اور مناسب referral systems کو باہم جوڑا جائے۔

اپر سرن ویلی میں بھی ایک مقامی Mountain Emergency Health Network تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

ہر چند دیہات کے لیے تربیت یافتہ Community First Responders ہوں۔

ان کے پاس basic emergency kit ہو۔

1122 کے ساتھ ان کا براہ راست رابطہ ہو۔

قریبی RHC یا BHU سے انہیں clinical guidance مل سکے۔

ضرورت پڑنے پر مریض کو سڑک تک منتقل کرنے کے لیے trained stretcher teams موجود ہوں۔

اور جہاں موبائل نیٹ ورک کمزور ہو وہاں متبادل رابطے کا نظام قائم کیا جائے۔

یہ افراد ڈاکٹر نہیں ہوں گے۔

یہ عطائی بھی نہیں ہوں گے۔

یہ صرف ڈاکٹر تک پہنچنے تک زندگی بچانے والی ابتدائی مدد فراہم کرنے والے تربیت یافتہ افراد ہوں گے۔

یہ فرق انتہائی اہم ہے۔

عطائیت ختم کرنے کی سب سے مؤثر حکمت عملی کیا ہے؟

صرف چھاپہ نہیں۔

صرف سیل نہیں۔

صرف جرمانہ نہیں۔

صرف اخبار میں اشتہار بھی نہیں۔

عطائیت کا پائیدار خاتمہ اس وقت ہوگا جب مریض کے پاس مستند متبادل موجود ہوگا۔

جب ایک پہاڑی گھر کے خاندان کو یقین ہوگا کہ:

’’رات کو کچھ ہوا تو ہمارے پاس 1122 ہے۔‘‘

’’قریبی مرکز صحت فعال ہے۔‘‘

’’وہاں عملہ موجود ہے۔‘‘

’’مریض کو سڑک تک منتقل کرنے کے لیے مقامی امدادی ٹیم ہے۔‘‘

’’ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر سے فوری رابطہ ہو سکتا ہے۔‘‘

تب کوئی خاندان غیر مستند شخص کو اپنی آخری امید سمجھنے پر مجبور نہیں ہوگا۔

یہاں ایک اور سوال سر اٹھاتا ہے کہ یہ سب کون کرے گا اور کس کی ذمہ داری ہے؟

ہم اپنے منتخب نمائندوں سے یہ نہیں پوچھ رہے کہ پہاڑوں پر ایک رات میں ہسپتال بنا دیں۔

ہم یہ پوچھ رہے ہیں کہ:

کیا اپر سرن ویلی کے لیے کوئی باقاعدہ medical emergency access plan موجود ہے؟

اگر ہے تو اس کی تفصیل عوام کو بتائی جائے۔

اگر نہیں ہے تو بنایا کیوں نہیں گیا؟
آر ایچ سی نواز آباد کی عمارت موجود ہے تو اس کی 24/7 functionality کیا ہے؟

بی ایچ یو اور ڈسپنسریوں میں sanctioned posts کتنی ہیں؟

کتنی پوسٹوں پر عملہ تعینات ہے؟

ادویات کی دستیابی کا کیا نظام ہے؟

رات کے وقت emergency referral کیسے ہوگا؟

1122 سڑک سے آگے نہ جا سکے تو alternative patient transport کیا ہے؟

اور سب سے بڑھ کر:

پہاڑ کی چوٹی پر موجود گھر سے پہلے مستند طبی مدد تک پہنچنے کا سرکاری نقشہ کہاں ہے؟

یہ سوالات سیاسی الزام نہیں۔

یہ شہری کے بنیادی حق سے متعلق سوالات ہیں۔

ہمیں عطائی کا دفاع نہیں، مریض کا دفاع کرنا ہے

ہم نے عطائیت کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور اٹھاتے رہیں گے۔

ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایک غیر مستند شخص اس لیے درست ہے کہ وہ بارش میں مریض کے گھر پہنچ جاتا ہے۔

کسی انجیکشن، ڈرپ یا دوا کا درست ہونا صرف اس لیے ثابت نہیں ہو جاتا کہ مریض نے اسے استعمال کیا اور اس وقت اسے کچھ افاقہ محسوس ہوا۔

لیکن ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ مسئلہ صرف عطائی ہے۔

کیونکہ اگر ریاستی نظام مریض کے گھر تک بروقت نہیں پہنچتا، اگر قریبی مرکز صحت فعال اور قابلِ اعتماد نہیں، اگر ایمرجنسی میں مریض کی منتقلی کا راستہ نہیں، تو وہ خلا بہرحال موجود رہے گا۔

اور جب تک خلا موجود رہے گا، کوئی نہ کوئی اسے پُر کرنے کی کوشش کرے گا۔

آج وہ کوشش عطائی کر رہا ہے۔

کل کوئی اور کرے گا۔

لیکن ذمہ دار ریاست کا کام یہ نہیں کہ وہ خلا کسی غیر مستند شخص کے حوالے کر دے۔

ریاست کا کام یہ ہے کہ خلا خود پُر کرے۔

آخری سوال

اپر سرن ویلی کے لوگوں سے یہ کہنا آسان ہے:

’’عطائی کے پاس مت جاؤ۔‘‘

لیکن ایک پہاڑی ماں اگر رات کے دو بجے اپنے بچے کو گود میں اٹھا کر پوچھے:

’’اگر میں عطائی کے پاس بھی نہ جاؤں تو جاؤں کہاں؟‘‘

تو ہمارے پاس اس سوال کا عملی جواب ہونا چاہیے۔

کیونکہ صحت کا حق صرف اس شخص کا حق نہیں جس کا گھر ہسپتال کے سامنے ہو۔

پہاڑ کی چوٹی پر رہنے والا شہری بھی اسی ریاست کا شہری ہے۔

اس کا ووٹ بھی ریاست تک پہنچتا ہے۔

اس کا ٹیکس بھی ریاستی نظام کا حصہ بنتا ہے۔

اور جب رات کے اندھیرے میں اس کے گھر کا دروازہ کسی طبی ایمرجنسی کے باعث کھلے تو اس کی زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہونی چاہیے جتنی شہر کے کسی بڑے ہسپتال کے باہر کھڑے مریض کی۔

عطائیت کو ختم کرنا ہے تو صرف عطائی کو نہیں، اس خلا کو بھی ختم کرنا ہوگا جس نے اسے جگہ دے رکھی ہے۔

ورنہ ہم دن کو عطائیت کے خلاف مہم چلاتے رہیں گے، اور رات کو پہاڑ کی چوٹی پر کوئی خاندان یہی سوچتا رہے گا:

’’مریض کی جان بچانے کون آئے گا؟‘‘

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے