پاکستان اور چین کے درمیان موسمیاتی تعاون

پاکستان کا محکمہ موسمیات ہر سال مون سون کے سیزن سے قبل قومی ادارہ برائے آفات (این ڈی ایم اے) کے تعاون سے قومی سطح کا مون سون ہنگامی منصوبہ تیار کرتا ہے، جو چار بنیادی خطرناک منظرناموں پر مبنی ہوتا ہے: دریائے سندھ میں پہاڑی بارشوں کے باعث پانی کا ریلا، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کی پہاڑی وادیوں میں اچانک سیلاب، کراچی جیسے شہری مراکز میں نکاسیِ آب کا بحران، اور گلیشیئرز کے پگھلاؤ سے پیدا ہونے والے خطرات۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق، 2025 کے مون سون سیزن کی ریکارڈ بارشوں، گلیشیئر پگھلاؤ اور شہری سیلابوں نے پاکستان کی موسمیاتی کمزوری کو نمایاں طور پر ظاہر کر گیا، جس نے موسمیاتی لحاظ سے مضبوط بنیادی ڈھانچے، پانی کے ذخائر اور آفات کی فعال تیاری میں فوری سرمایہ کاری کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ ایسے حالات میں چین کے تعاون سے تیار کردہ ذہین موسمیاتی نظام "ما زو” کا کردار مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔

"ما زو” سسٹم دراصل چینی محکمہ موسمیات (سی ایم اے) کا تیار کردہ ایک کلاؤڈ بیسڈ ذہین موسمیاتی سروس پلیٹ فارم ہے، جو مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ نگرانی اور مشاہداتی نیٹ ورکس کو یکجا کر کے کثیر الجہتی آفات کی ابتدائی وارننگ فراہم کرتا ہے۔ بیجنگ میں چینی ریاستی کونسل کے دفتر برائے اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ سرکاری رپورٹ کے مطابق، یہ نظام اقوام متحدہ کے "سب کے لیے ابتدائی انتباہ” اقدام کے تحت تیار کیا گیا، اور اس کا مخفف کثیرالخطرہ، انتباہ، خلا سے پاک اور آفاقی رسائی جیسے تصورات کی نمائندگی کرتا ہے۔ سی ایم اے کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے شدید موسمی واقعات میں شدت پیدا کی ہے جس سے غذائی و توانائی تحفظ کے ساتھ ساتھ عالمی انڈسٹریل اینڈ لاجسٹک چین کو بھی بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے، اور ابتدائی وارننگ کے نظام جانی و مالی تحفظ کے لیے ایک کم لاگت اور مؤثر ذریعہ ہیں۔

2024 سے اب تک ایک سو سے زائد ترقی پذیر ممالک کے تقریباً ایک ہزار افراد نے چین کے زیرِ اہتمام ابتدائی وارننگ ٹیکنالوجیز کی تربیت میں حصہ لیا ہے، جبکہ چالیس سے زائد قومی موسمیاتی ادارے کلاؤڈ پلیٹ فارم کے ذریعے "ما زو” کی خدمات استعمال کر رہے ہیں اور پاکستان، ایتھوپیا اور منگولیا سمیت سات ممالک میں اس کے مخصوص طور پر تیار کردہ ورژن نصب کیے جا چکے ہیں۔ اس نظام کے پاکستان کے لیے تیار کردہ ورژن کو خاص طور پر برفانی جھیلوں سے اچانک پانی کے اخراج، مون سون کے شدید ریلوں اور موسلا دھار بارشوں جیسے مخصوص موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے چینی محکمہ موسمیات اور پاکستانی اداروں نے مشترکہ طور پر تیار کیا۔

پاکستانی محکمہ موسمیات کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار بھی اس نظام کی افادیت کی گواہی دیتے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کو دیے گئے انٹرویو میں محکمہ موسمیات کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے ماہرین نے بتایا کہ 2025 کے سیلابی سیزن میں محکمہ موسمیات نے کلاؤڈ بیسڈ ابتدائی وارننگ نظام کی بنیاد پر پندرہ سے سولہ موسمیاتی انتباہات جاری کیے، اور جن مخصوص وادیوں میں یہ آلات اور پیش گوئی کے نظام نصب تھے، وہاں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ اسی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے لیے تیار کردہ ورژن کا محور گرمی کی شدید لہریں، موسلا دھار بارشیں، سیلاب اور زرعی موسمیاتی خطرات جیسے مسائل رہے، جبکہ چینی ماہرین کو مقامی حالات کے مطابق الگورتھم کو نئے سرے سے تربیت دینے جیسے تکنیکی چیلنجز کا سامنا رہا۔

یہ تعاون محض موسمیاتی وارننگ تک محدود نہیں۔ 2023 میں چینی اکادمی برائے سائنس اور پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اشتراک سے چین پاکستان مشترکہ ارضیاتی تحقیقی مرکز قائم کیا گیا، جو قدرتی آفات، ماحولیاتی تحفظ اور وسائل کی پائیدار ترقی جیسے شعبوں پر کام کر رہا ہے۔ اسی طرح 2024 میں پاکستان کا سیٹلائٹ آئی کیوب-کیو، جو پاکستان کے انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی اور چین کی شنگھائی جیاؤ تانگ یونیورسٹی کے تعاون سے تیار ہوا، چاند مشن چانگ عہ-6 کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا اور چاند کی تصاویر کامیابی سے حاصل کر کے پاکستان کا پہلا قمری مشن بنا۔

بین الاقوامی سطح پر بھی اس اقدام کو پذیرائی مل رہی ہے۔ چینی سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، عالمی ادارہ موسمیات کی سیکرٹری جنرل نے کہا ہےکہ چین نے ابتدائی وارننگ کے شعبے میں مضبوط قائدانہ کردار ادا کیا ہے، اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مل کر عالمی ادارہ موسمیات کی معاونت سے یہ بالکل وہی نوعیت کی شراکت داری ہے جس کی آج دنیا کو ضرورت ہے۔ اسی موقع پر چینی محکمہ موسمیات کے بین الاقوامی تعاون کے شعبے کے سربراہ نے واضح کیا کہ چین انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کا عزم رکھتا ہے اور عالمی جنوب، خصوصاً ترقی پذیر ممالک کو عالمی ابتدائی وارننگ نظام سے زیادہ سے زیادہ مستفید کرنا چاہتا ہے۔

مجموعی طور پر "ما زو” سسٹم پاکستان کے سب سے حساس اور موسمیاتی طور پر کمزور علاقوں میں عملی طور پر جانیں بچا رہا ہے۔ یہ تعاون کسی سیاسی شرط کے بغیر، براہِ راست عام شہریوں کے تحفظ اور معاش سے جڑا ہوا ہے، اور اسے چین-پاکستان تعلقات میں سائنسی و تکنیکی اشتراک کی ایک ایسی مثال قرار دیا جا سکتا ہے جو محض کاغذی معاہدوں سے آگے بڑھ کر عملی نتائج پیدا کر رہی ہے۔ ایسے وقت میں جب موسمیاتی تباہ کاریوں کی شدت اور تعدد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ جدید موسمیاتی ٹیکنالوجیز اکثر چند ترقی یافتہ ممالک تک محدود رہتی ہیں، پاکستان اور چین کا یہ اشتراک اس بات کا ثبوت ہے کہ باہمی اعتماد پر مبنی تکنیکی تعاون ترقی پذیر ممالک کے لیے حقیقی معنوں میں فرق پیدا کر سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے