واشنگٹن (شازیہ نیئر) چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون نے کہا ہے کہ پاکستانی اور کشمیری یک جان و دو قالب ہیں، پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا محمد قاسم نون نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف واضح انداز میں عالمی برادری کے سامنے پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر او آئی سی کے رابطہ گروپ برائے کشمیر میں شامل ممالک نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی۔ 22 ستمبر کو او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں منعقد ہوا۔
رانا قاسم نون نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی معاملہ ہے اور اس کا حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و سلامتی کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ واشنگٹن کے دورے کا مقصد بھی عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کے دیرپا حل کی جانب مبذول کرانا ہے۔
اس موقع پر واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی حل طلب حیثیت بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تناظر میں اہم ہے۔ پاکستان کی جانب سے کشمیر کے معاملے پر بین الاقوامی قانون اور حقِ خودارادیت کے حوالے سے مؤقف پہلے بھی واشنگٹن میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت سے دستبردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششوں، سیاسی روابط اور معاشی تعاون پر مسلسل توجہ ضروری ہے۔