فدا حسین کی کہانی
مظفرآباد کے صحافی فدا حسین آزاد کشمیر کے اُن صحافیوں میں شامل ہیں جنہوں نے ڈیجیٹل سیکیورٹی کی سنگینی کو اپنے تجربے سے جانا۔
وہ بتاتے ہیں کہ اُن کے فیس بک پیج کے فالوورز پچاس ہزار سے زائد تھے۔ ایک دن انہیں فیس بک کے نام سے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ اُن کا پیج مونٹائزیشن کے قریب ہے اور انہیں اشتہارات کی پیشکش دی جا رہی ہے۔ لالچ میں آ کر انہوں نے لنک اوپن کیا، اپنا پیج لنک فراہم کیا اور رات کو سو گئے۔ صبح جب آنکھ کھلی تو پیج کا کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں تھا۔
فدا حسین نے فیس بک سے رابطہ کیا مگر انہوں نے صاف کہہ دیا کہ چونکہ آپ نے خود رسائی دی ہے، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔
ہیکر نے فدا حسین کے پیج کے ساتھ کیا کیا
اس کے بعد ہیکر نے پیج پر نامناسب مواد پوسٹ کرنا شروع کر دیا، جس کے باعث فدا حسین کو نہ صرف بدنامی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ دو مہینے تک لوگوں کو وضاحتیں دینی پڑیں۔
انہوں نے نیا پیج بنایا اور اب دوبارہ ایک لاکھ سے زائد فالوورز بنا چکے ہیں۔ فدا حسین کہتے ہیں:
اگر اُس وقت ہمیں کسی ادارے کی طرف سے ڈیجیٹل سیکیورٹی کی تربیت ملی ہوتی تو میں 24 گھنٹوں میں اپنا پیج واپس لے سکتا تھا۔ لیکن تربیت کی کمی کی وجہ سے سب کچھ ہاتھ سے چلا گیا۔
آزاد کشمیر میں بڑھتے ڈیجیٹل خطرات
فدا حسین کی کہانی کسی ایک فرد نہیں بلکہ ایک عمومی رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ آزاد کشمیر میں صحافیوں کی بڑی تعداد اپنی خبری سرگرمیوں، رپورٹنگ اور عوامی رابطوں کے لیے سوشل میڈیا پر انحصار کرتی ہے۔ تاہم، تربیت اور حفاظتی آگاہی کے فقدان نے انہیں ہیکنگ، فِشنگ، فیک اکاؤنٹس، اور ڈیجیٹل نگرانی جیسے خطرات کے سامنے کمزور کر دیا ہے۔
ڈیجیٹل انقلاب کی سست روی
آزاد کشمیر میں اس وقت مقامی رپورٹرز اور میڈیا ورکرز کی تعداد تقریباً 500 سے زائد ہے، جن میں سے زیادہ تر فیلڈ رپورٹنگ کے دوران موبائل فون یا لیپ ٹاپ کے ذریعے خبریں شیئر کرتے ہیں۔ لیکن ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے نہ کوئی تربیت یافتہ فورم موجود ہے، نہ ہی کوئی حکومتی پالیسی۔
ڈیجیٹل سیکیورٹی محض تکنیکی مسئلہ نہیں، بلکہ صحافتی بقا کا مسئلہ ہے۔
آج کی صحافت میں رپورٹنگ صرف قلم اور کیمرے تک محدود نہیں رہی۔
ای میل، سوشل میڈیا، کلاؤڈ اسٹوریج، اور آن لائن رابطے صحافیوں کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
لیکن آزاد جموں و کشمیر میں یہ ڈیجیٹل انقلاب اس رفتار سے محفوظ نہیں جس رفتار سے پھیل رہا ہے۔
نہ تو حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ تربیتی نظام موجود ہے، نہ پریس کلبوں نے ڈیجیٹل سیکیورٹی پر کوئی سنجیدہ پروگرام ترتیب دیا ہے۔
کتنے صحافی ڈیجیٹل سیکورٹی سے آگاہ ہیں
ینگ جرنلسٹ فورم (وائی جے ایف ) کے صدر سردار نعیم چغتائی کے مطابق تقریباً 80 فیصد صحافی ڈیجیٹل سیکیورٹی سے متعلق بنیادی معلومات نہیں رکھتے اور وہ اپنے بنیادی حقوق سے بھی لاعلم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو ڈیجیٹل سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے آگاہ کرنے اور انہیں یہ مسئلہ سمجھانے کے لیے بھی مؤثر کوشش نہیں کی گئی۔
نتیجتاً، صحافی اور ان کے ذرائع غیر محفوظ ہیں
ہیکنگ، فشنگ، بلیک میلنگ اور نگرانی جیسے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔
ڈیجیٹل سیکیورٹی کیا اور کیوں؟
ڈاکٹر واجد عزیز، یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر کے کمپیوٹر سائنس کے استاد، ڈیجیٹل سیکیورٹی کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ڈیجیٹل سیکیورٹی کا مطلب ہے اپنی معلومات اور آلات کو غیر مجاز رسائی، نقصان یا چوری سے محفوظ رکھنا۔
اس میں ڈیٹا پروٹیکشن، تصدیق (Authentication)، انکرپشن، اینٹی وائرس اور فائر والز جیسے اقدامات شامل ہیں۔
ان کے مطابق، آزاد کشمیر میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے ساتھ خطرات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
ڈاکٹر واجد نے بتایا کہ:
عوامی سطح پر ڈیجیٹل سیکیورٹی سے متعلق آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔
زیادہ تر ادارے پرانے سسٹمز اور کمزور اینٹی وائرس پر انحصار کرتے ہیں۔
صحافیوں کو فشنگ، سوشل انجینئرنگ اور ہیکنگ جیسے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔
وہ زور دیتے ہیں:
ایک صحافی کے لیے اپنی معلومات، ذرائع کی شناخت، اور تحقیقاتی ڈیٹا کی حفاظت کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا ایک ڈاکٹر کے لیے جراثیم سے پاک ماحول میں کام کرنا۔
موجودہ صورتحال: آگاہی کی کمی اور عملی کمزوریاں
نعیم عباسی نمائندہ جیو نیوز، مظفرآباد)کے مطابق، وہ مضبوط پاس ورڈ اور دوہری تصدیق ضرور استعمال کرتے ہیں، مگر ڈیجیٹل سیکیورٹی کی باضابطہ تربیت کبھی نہیں لی۔
وہ کہتے ہیں کہ عوامی وائی فائی پر رپورٹنگ کے دوران اکثر خطرہ محسوس ہوتا ہے، مگر وسائل اور رہنمائی کی کمی کے باعث اضافی اقدامات نہیں کر پاتے۔
خواجہ وقاص، سسٹم ایڈمن، انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اکثر صحافی بنیادی اصولوں پر تو عمل کرتے ہیں، لیکن سیکیورٹی اپڈیٹس، اینٹی وائرس، بیک اپ اور کلاؤڈ سیفٹی جیسے اہم پہلوؤں سے غافل رہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تربیت اور ادارہ جاتی سہولتوں کی کمی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔
تاہم آئی ٹی بورڈ کی ڈائریکٹر عائشہ بٹ کے مطابق سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے ادارہ کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای میل یا اکاؤنٹ ہیک ہونے کی صورت میں ڈیٹا ریکور کرنے میں مدد کی جا سکتی ہے۔
عائشہ بٹ کے مطابق صحافی برادری کی جانب سے اب تک اس حوالے سے کوئی باقاعدہ شکایت یا ڈیمانڈ سامنے نہیں آئی۔ تاہم اگر صحافیوں کو ڈیجیٹل سیکیورٹی سے متعلق کوئی مسئلہ یا خدشات درپیش ہوں تو اس معاملے پر میٹنگ کی جا سکتی ہے اور صحافیوں کے لیے ڈیجیٹل سیکیورٹی کی تربیت بھی دی جا سکتی ہے۔
ڈیجیٹل سیکورٹی اورخواتین صحافیوں کے مسائل
نسرین شیخ، مظفرآباد کی سینئر خاتون صحافی، کہتی ہیں:
اگر خاتون مضبوط اعصاب کی مالک ہو تو کوئی خطرہ زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتا۔
لیکن ہمارے ہاں ادارے خواتین کی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ پہلے آزاد کشمیر میں خواتین صحافیوں کی تعداد کم تھی، اس لیے ایسے واقعات چھپے رہتے تھے۔
اب جب خواتین زیادہ تعداد میں رپورٹنگ کر رہی ہیں، تو آن لائن ہراسانی اور غلط معلومات کے کیسز بڑھ رہے ہیں، مگر اکثر رپورٹ نہیں کیے جاتے۔
نسرین کے مطابق:
«“جہاں میرٹ نہیں، وہاں سفارش یا شکایت کرنا وقت ضائع کرنا ہے۔ ہمیں اپنی حفاظت خود کرنی ہوگی۔”»
مسئلہ حل کیے ہوگا؟
آزاد جموں و کشمیر میں صحافیوں کی ڈیجیٹل سیکیورٹی اب محض ایک “تکنیکی موضوع” نہیں بلکہ پیشہ ورانہ سلامتی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔
خواجہ وقاص کے مطابق، ڈیجیٹل سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے:
– 2FA (دوہری تصدیق) کا استعمال
– باقاعدہ ڈیٹا بیک اپ
– فشنگ ای میلز کی شناخت
– محفوظ نیٹ ورکس اور اینٹی وائرس اپڈیٹس
مگر وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ ریاستی سطح پر فنڈنگ، پالیسی اور تربیت کی رفتار بہت سست ہے۔
فدا حسین، نسرین شیخ اور دیگر مقامی صحافیوں کے تجربات سے واضح ہے کہ ڈیجیٹل سیکیورٹی صرف ایک ٹیکنیکل معاملہ نہیں یہ پیشہ ورانہ بقا اور اظہارِ رائے کی آزادی سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔
ڈاکٹر واجد کی سفارشات، فدا حسین کے تجربے، اور نسرین شیخ کی خود انحصاری اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف صحافی بلکہ اطلاعات تک عوام کی رسائی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پریس کلب، حکومت، آئی ٹی بورڈز اور میڈیا ادارے مل کر تربیت، آگاہی، اور تکنیکی تحفظ کو صحافت کے بنیادی اصولوں کا حصہ بنائیں۔