آج مجھے ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ویڈیو میں ایک آدمی آرتھوڈوکس یہودی کمیونٹی کے چند افراد سے گفتگو کرتا ہے۔ اس گفتگو سے مجھے کیا کیا معلومات حاصل ہوئیں۔ آئیے میں آپ کو اپنے الفاظ میں بتاتا ہوں۔
ویڈیو میں ہونے والی گفتگو کے مطابق اس کمیونٹی کے لوگ انٹرنیٹ سوشل میڈیا ٹی وی فلموں اور عام اسمارٹ فونز سے خود کو دور رکھتے ہیں۔ یہودی کمیونٹی کے بعض افراد نے بتایا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی انٹرنیٹ استعمال نہیں کیا۔ یہاں تک کہ وہ مائیکل جیکسن کرسٹیانو رونالڈو ایلون مسک اور ٹام کروز جیسے عالمی سطح پر معروف لوگوں سے بھی واقف نہیں تھے۔ ان کے نزدیک انٹرنیٹ انسان کو غیر ضروری چیزوں میں مصروف کرتا ہے۔ اس کی توجہ بٹاتا ہے اور اس کا وقت ضائع کرتا ہے۔
اسی وجہ سے وہاں عام اسمارٹ فون کے بجائے “کوشر فون” استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں بنیادی طور پر صرف فون کال کی سہولت ہوتی ہے جبکہ سوشل میڈیا ایپس واٹس ایپ عام انٹرنیٹ اور میسجنگ کی سہولت دستیاب نہیں ہوتی۔ اگر کسی کو اپنے کام کے لیے کمپیوٹر استعمال کرنا ضروری ہو تو اس میں فلٹر شدہ انٹرنیٹ دیا جاتا ہے اور صرف مخصوص ضروری ویب سائٹس تک رسائی ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایسے فون اور کمپیوٹر بھی تیار یا تبدیل کیے جاتے ہیں جن میں عام انٹرنیٹ تک رسائی محدود یا مکمل طور پر بند ہوتی ہے۔
ویڈیو کے حوالے سے بھی ان کا رویہ بہت محتاط ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ایک ویڈیو انسان کو دوسری ویڈیو دیکھنے کی طرف لے جاتی ہے اور یوں آہستہ آہستہ یہ عادت بن جاتی ہے اور وقت زیادہ خرچ ہونے لگتا ہے۔ اسی لیے بعض لوگ ایسے کیمرے بھی استعمال کرتے ہیں جن سے صرف تصاویر بنائی جا سکتی ہیں۔ ویڈیو نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کمیونٹی میں معلومات مذہبی گفتگو اور کہانیوں کے تبادلے کے لیے ایک ایسا نظام بھی موجود ہے جو کسی حد تک سوشل میڈیا کا متبادل معلوم ہوتا ہے لیکن انٹرنیٹ کے بجائے فون کال کے ذریعے چلتا ہے۔ صارف ایک نمبر ڈائل کرتا ہے اور اپنی پسند کے مطابق کسی ربی کی گفتگو کہانی یا دوسری آڈیو معلومات سن سکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ طرزِ عمل اُن افراد کا ذاتی فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ یہودی کمیونٹیز میں انٹرنیٹ اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق باقاعدہ ہدایات مذہبی قیادت ربیوں اور کمیونٹی کے ذمہ دار اداروں کی طرف سے دی جاتی ہیں جن پر یہ لوگ سختی سے عمل کرتے ہیں۔ عام اسمارٹ فون کی حوصلہ شکنی اور پابندی کوشر فون کے استعمال اور ضرورت کی صورت میں صرف فلٹر شدہ انٹرنیٹ کی اجازت اِن کے اجتماعی مذہبی اور سماجی اصولوں کا حصہ ہے۔
کیا آپ کو یہ بات سمجھ آ رہی ہے کہ یہ لوگ اسمارٹ فونز سوشل میڈیا اور غیر محدود انٹرنیٹ کے استعمال کے بغیر بھی دنیا میں ترقی کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں؟ ان کو تو اس وجہ سے کسی ایسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہوا جس نے ان کی تعلیم کاروبار تحقیق یا اجتماعی ترقی کو روک دیا ہو۔ وہ اپنی مذہبی اور سماجی حدود کے ساتھ رہتے ہوئے بھی مختلف شعبوں میں اثر و رسوخ اور نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس پہلو پر غور کرنا ضروری ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ہر پہلو کو بے روک ٹوک اختیار کیے بغیر بھی کوئی کمیونٹی اپنی ترقی تنظیم اور اجتماعی قوت برقرار رکھ سکتی ہے۔
اس پہلو کو مزید دلچسپ بلکہ دلچسپ ترین بنانے والی بات یہ ہے کہ جدید انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا جیسی ان ٹیکنالوجیز کی تخلیق اور ابتدائی ترقی میں اہم کردار بھی یہودیوں کا ہی ہے۔ کیسا لگا یہ پڑھ کر۔۔؟؟؟؟؟؟
رابرٹ “باب” کاہن ایک یہودی تھا اور یہودی خاندانی پس منظر رکھتا تھا جس نے ونٹ سرف کے ساتھ مل کر TCP/IP کی تیاری میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اسے جدید انٹرنیٹ کی بنیادی ٹیکنالوجیز میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیونارڈ کلائن راک ایک یہودی مہاجر خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور ابتدائی کمپیوٹر نیٹ ورکنگ اور ARPANET کے اہم محققین میں شامل تھا۔ پال باران بھی ایک یہودی ہی تھا اور distributed networking اور packet-based communication کے بنیادی تصورات پر کام کرنے والا ایک نمایاں سائنس دان تھا۔
گوگل کا شریک بانی اور گوگل کی تشکیل اور عالمی توسیع میں مرکزی کردار ادا کرنے والا سرگئی برِن بھی یہودی تھا۔ فیس بک کا شریک بانی مارک زکربرگ یہودی گھرانے میں پلا بڑھا۔ اس کا شریک بانی ایڈورڈو سیورین بھی یہودی خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ واٹس ایپ کا شریک بانی جان کوم یوکرینی یہودی تھا جس نے اس پلیٹ فارم کی تخلیق اور ابتدائی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح Twitter جو اب X کہلاتا ہے اس کی بنیاد رکھنے والوں میں بِز اسٹون شامل تھا جس کا یہودی پس منظر دستاویزی طور پر موجود ہے۔
یعنی آرتھوڈوکس یہودی کمیونٹیز جدید انٹرنیٹ سوشل میڈیا اور اسمارٹ فون کے استعمال کو تقریباً حرام ہی سمجھتی ہیں اور سختی سے منع کرتی ہیں لیکن بنا بنا کر باقی پوری دنیا میں پھیلا رہی ہیں۔ واہ بھئی واہ۔۔۔
اے میرے پڑھنے والے عقلمندو دانشورو۔۔ کچھ آیا آپ کی سمجھ شریف میں۔۔؟؟؟؟
ذرا غور کیجیے۔ جن لوگوں نے یہ ٹیکنالوجیز بنائیں اُنہیں یہ بناتے وقت اچھی طرح معلوم تھا کہ ان کے نتائج کیا ہوں گے۔ یہ معاشرے پر کس طرح اثر انداز ہوں گی اور ان کے بے قابو استعمال سے کون کون سی خرابیاں اور برائیاں جنم لیں گی۔ اسی لیے یہ چیزیں بنیادی طور پر بنائی ہی باقی دنیا کے لیے گئیں۔ بنا کر پھیلا کر اپنے لیے ان کے استعمال پر ان کے مذہبی اور روایتی حلقوں نے سخت پابندیاں اور حدود قائم کر لیں۔ یہ بھی کوئی نئی بات نہیں کہ یہودیوں کے اقدامات کا ہدف بالواسطہ یا بلاواسطہ ہمیشہ مسلمان ہی رہے ہیں۔ وہ ان ٹیکنالوجیز کے اثرات سے اس قدر باخبر تھے کہ اپنی بعض مذہبی کمیونٹیز میں انہوں نے انٹرنیٹ سوشل میڈیا اور اسمارٹ فون کے آزادانہ استعمال کو اپنے لیے ممنوع قرار دے دیا اور آفرین ہے ان کے لوگوں پر جو ان کی سب ہدایات پر دل سے عمل کرتے ہیں۔
آئیے اب ہم ذرا اپنے گریبانوں میں جھانکتے ہیں۔ جھانکا۔۔؟؟ کوئی شرم آئی؟؟
نہ ہم اپنے مذہب پر پوری مضبوطی سے قائم رہتے ہیں۔ نہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں جگہ دیتے ہیں۔ اور نہ ہی اپنی تہذیبی و خاندانی روایات کی حفاظت کے لیے سنجیدہ نظر آتے ہیں۔ ہم ہر نئی چیز کو بغیر سوچے سمجھے قبول کر لیتے ہیں پھر اس کے اثرات سامنے آنے کے بعد شکایت کرتے ہیں۔ ہم کس قسم کے لوگ بن گئے ہیں۔ ہماری زندگیوں میں کوئی اصول نہیں۔ کوئی ضابطہ نہیں۔ کوئی عزتِ نفس نہیں۔ کوئی شرم نہیں۔ کوئی خودداری نہیں۔
اور دوسری طرف وہ لوگ جو اللہ کے دھتکارے ہوئے ہیں۔ جن کی نافرمانیوں کے تذکروں سے قرآن بھرا پڑا ہے۔ جو اچھے سے واقف ہیں اپنے کرتوتوں سے بھی اور اپنے انجام سے بھی لیکن اس کے باوجود اپنی اقدار اپنی نسل اور اپنی شناخت کے تحفظ کے معاملے میں اور باقی تمام دنیا کو اپنی مٹھی میں کرنے اور شیطان کے مددگار کے طور پر باقی دنیا کو گمراہ کرنے میں کس قدر منظم اور سنجیدہ ہیں۔۔ اور ہماری غفلت اور جہالت پر ہنس رہے ہیں۔