برصغیر میں برطانوی تسلط اور ان کی آمد کو اکثر ایک انتہائی محدود اور سطحی پس منظر میں دیکھا جاتا ہے—گویا مغل سلطنت کا زوال محض مقامی اقتدار کی ایک اندرونی رسہ کشی تھی، جس سے ایک موقع پرست تجارتی کمپنی نے فائدہ اٹھایا۔ حقیقت میں، برصغیر کا خطہ اٹھارہویں صدی میں برطانیہ اور فرانس کے درمیان لگی اس عالمی جنگ کا مرکزی مشرقی محاذ تھا جو دنیا پر تسلط قائم کرنے کے لیے لڑی جا رہی تھی۔ کرناٹک، دکن اور میسور کے میدانوں میں لڑی جانے والی جنگیں دراصل یورپی توازنِ قوت کا ایشیائی پھیلاؤ تھیں، جہاں عالمی سمندری بالادستی، تجارتی پالیسیاں اور علاقائی فتوحات آپس میں پیوست تھیں۔
تینوں کرناٹک جنگیں اصل میں آسٹریا کی جانشینی کی جنگ اور سات سالہ جنگ کے سمندری اور استعماری عکس تھیں۔ جب جوزف فرانسوا ڈوپلے (Joseph François Dupleix) نے مقامی حکمرانوں کے باہمی تنازعات میں مداخلت کرنے اور روایتی گھڑ سوار افواج کے مقابلے میں یورپی اصولوں پر تربیت یافتہ دیسی پیادہ فوج کھڑی کرنے کی حکمت عملی اپنائی، تو اس نے ایک ایسی روایت ڈالی جس نے ایک تجارتی کمپنی کو باقاعدہ ریاستی طاقت میں تبدیل کر دیا۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس نظام کو ایجاد نہیں کیا تھا، بلکہ اس نے اپنی مضبوط بحری طاقت اور نجی سرمائے کی بدولت فرانسیسی ایسٹ انڈیا کمپنی کے مقابلے میں اسے کہیں زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا۔
اسی وسیع تر تاریخی پس منظر میں میسور کی ریاست، بالخصوص حیدر علی اور ان کے فرزند ٹیپو سلطان کی سیاسی اور دفاعی حکمت عملی کا درست تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ ٹیپو سلطان اپنے دور کے انتہائی دور اندیش اور باریک بین حکمران تھے۔ وہ اس بات کو بخوبی سمجھ چکے تھے کہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کوئی عام تجارتی ادارہ نہیں، بلکہ ایک جارحانہ اور جدید صنعتی سامراج کا ہر اول دستہ ہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹیپو نے روایتی جاگیردارانہ ڈھانچے سے ہٹ کر میسور کو عالمی اور بین الاقوامی سیاست کے دھارے سے جوڑنے کی بھرپور کوشش کی۔
ٹیپو سلطان کا فرانس کے ساتھ اتحاد کوئی اتفاقی یا سطحی اقدام نہیں تھا؛ یہ ایک سوچی سمجھی اور گہری تزویراتی وابستگی تھی۔ انہوں نے ورسائی (Versailles) میں لوئیس سولہویں کے دربار میں اپنے سفارتی وفود روانہ کیے اور بعد ازاں فرانسیسی ڈائریکٹری اور نپولین بونا پارٹ کے ساتھ براہِ راست رابطے استوار کیے۔ ان کا یہ اقدام محض علامتی نہیں تھا جیسا کہ سرنگاپٹم میں جیکوبن کلب کا قیام یا "آزادی کا درخت” لگانا بلکہ یہ ریاستی سطح پر جدید کاری اور ساختیاتی اصلاحات کا عکاس تھا۔ فرانسیسی تکنیکی تعاون کی مدد سے، ٹیپو نے سرکاری سطح پر بارود خانے اور کارخانے قائم کیے، اپنی فوج اور توپ خانے کو جدید خطوط پر استوار کیا، اور لوہے کے وہ میزائل تیار کیے جنہوں نے اس دور کے جنگی میدانوں کے توازن کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔
برطانوی حکمرانوں کے لیے میسور اور فرانس کا یہ گٹھ جوڑ ان کے ایشیائی اقتدار کے لیے ایک سنگین اور وجودی خطرہ تھا۔ 1799ء کی چوتھی اینگلو میسور جنگ کو لارڈ ویلسلی (Lord Wellesley) نے محض میسور کے خلاف ایک علاقائی مہم کے طور پر نہیں لڑا، بلکہ یہ نپولین کی مصر کی مہم کے بعد بحرِ ہند سے فرانسیسی اثر و رسوخ کو ہمیشہ کے لیے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایک پیشگی وار تھا۔
جب 1799ء میں سرنگاپٹم کے قلعے کی فصیلوں پر ٹیپو سلطان نے جامِ شہادت نوش کیا، تو یہ محض ایک مقامی ریاست کی شکست نہیں تھی۔ یہ ہندوستان پر اجارہ داری کے لیے برطانیہ اور فرانس کے مابین جاری طویل اور خونریز رسہ کشی کا فیصلہ کن موڑ تھا۔ فرانسیسیوں کے انخلا اور میسور کے زوال کے بعد، برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے باقی تمام دیسی ریاستوں کو ایک ایک کر کے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ برصغیر پر برطانوی تسلط درحقیقت دو بڑی یورپی سامراجی طاقتوں کی عالمی جنگ کا منطقی نتیجہ تھا، جس کی آگ میں ہندوستان کی تمام مقامی ریاستیں جل کر راکھ ہو گئیں۔