آدمی آدمی کو کھائے چلا جاتا ہے

انسانی تاریخ نے بے شمار عروج و زوال دیکھے ہیں، مگر ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان، انسانیت سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ محبت کی جگہ مفاد، برداشت کی جگہ نفرت اور اخوت کی جگہ خود غرضی نے لے لی ہے۔ آج انسان کو سب سے بڑا خطرہ کسی اجنبی سے نہیں، بل کہ اپنے ہی جیسے انسان سے لاحق ہے۔ ہر طرف خوف، بے یقینی اور تشدد کا ماحول ہے۔ ایسے میں عبید اللّہ علیم کی آواز پوری انسانیت کا نوحہ محسوس ہوتی ہے:

؎ میں یہ کس کے نام لکھوں، جو اَلم گزر رہے ہیں
مرے شہر جل رہے ہیں، مرے لوگ مر رہے ہیں

اس تباہی کا ذمہ دار کوئی اجنبی نہیں، ہم خود ہیں۔ ہم اپنے مفادات کی خاطر دوسروں کے حقوق پامال کرتے ہیں، اپنی انا کی تسکین کے لیے رشتے توڑتے ہیں اور اختلاف کی صورت میں برداشت کا دامن چھوڑ دیتے ہیں انسان نے تہذیب و شرافت کے بڑے دعوے کیے ہیں، مگر اس کے رویّے اکثر ان دعووں کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جنگل کا درندہ اپنی بھوک مٹانے کے لیے شکار کرتا ہے، لیکن انسان کبھی اقتدار، کبھی دولت اور کبھی اپنی انا کی خاطر دوسرے انسانوں کو روند ڈالتا ہے۔ ساحر لدھیانوی نے انسانی تہذیب کے اسی دوہرے معیار کو بے نقاب کیا ہے:

؎ ہم جو انسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں

جب نفرت عقل پر غالب آ جائے تو انسان یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اس کے سامنے کھڑا شخص بھی اسی کی طرح احساسات، رشتوں اور امیدوں کا حامل ہے۔ گولی چلانے والا یہ نہیں سوچتا کہ کسی کی زندگی چھیننے سے ایک گھر کی خوشیاں بھی اجڑ سکتی ہیں۔ نصرت صدیقی نے اسی بے حسی کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے:

؎ کسی نے دیکھا نہیں کون ہے نشانے پر
کسی نے سوچا نہیں گولیاں چلاتے ہوئے

معاشرے میں امن قائم کرنے کے لیے انصاف، دیانت اور جواب دہ قیادت ضروری ہے۔ جہاں طاقت ور قانون سے بالاتر ہو اور کمزور کو انصاف کے لیے دربدر ہونا پڑے، وہاں امن محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔ شمیم قاسمی نے اسی صورتِ حال کی طرف اشارہ کیا ہے:
؎ شہر میں امن و اماں ہو یہ ضروری ہے مگر
حاکمِ وقت کے ماتھے پہ لکھا ہی کچھ ہے

اقتدار کا غرور انسان کو دوسروں پر ظلم کرنے پر آمادہ کرتا ہے، مگر وہ بھول جاتا ہے کہ وقت کا پہیہ ہمیشہ گھومتا رہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے نشے میں دوسروں کو حقیر سمجھنے والے خود بھی وقت کے ہاتھوں بے بس ہو جاتے ہیں۔ ظلم اور جبر کو ہمیشہ قائم رہنے والی حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔ طاقت، دولت اور اقتدار عارضی ہیں، جب کہ انسان کے اعمال اور کردار ہی اس کی اصل پہچان بنتے ہیں۔ ظلم کرنے والے ایک دن مٹ جاتے ہیں، مگر ان کے مظالم کی داستانیں باقی رہتی ہیں۔ کومل جوئیہ نے اسی حقیقت کو اپنے شعر میں سمویا ہے:

؎ پیا ہوا ہے یہاں کب کسی نے آبِ حیات
یہ ظلم کرتے ہوئے لوگ بھی نہیں رہیں گے

آج انسان ہجوم میں رہ کر بھی تنہا ہے۔ رشتوں میں خلوص کم اور مفادات کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ دکھ بانٹنے والے کم اور دوسروں کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے والے زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ جب انسان کو اپنے ہی لوگوں میں کوئی مخلص ہم درد نہ ملے تو اس کی تنہائی ایک کرب ناک صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس معاشرتی المیے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض لوگ دوسروں کی کامیابی برداشت نہیں کر پاتے۔ وہ ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے اور انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالاں کہ کسی دوسرے کی ترقی ہماری ناکامی نہیں، بل کہ پورے معاشرے کی کامیابی ہونی چاہیے۔ شناور اسحاق نے اسی رویّے کی تلخی کو یوں بیان کیا ہے:

؎ یہ اب جو کھود رہے ہیں زمین میرے لیے
میں جی اٹھوں تو کہیں بھی جگہ نہیں دیں گے

جب انسان کے رویّے دوسروں کے لیے خوف کا باعث بن جائیں تو اس کی انسانیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ انسان کی پہچان محض اس کا نام نہیں، بل کہ اس کا کردار ہے۔ اگر اس کے دل سے رحم، زبان سے سچائی اور عمل سے انصاف رخصت ہو جائے تو تہذیب کے تمام دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ شہاب عالم نے اسی انسانی المیے کو ایک سوال کی صورت میں پیش کیا ہے:

؎ آپ سے خوف آ رہا ہے مجھے
آپ کا نام آدمی ہے نا

آج ہمیں دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی تعلقات میں محبت، برداشت اور انصاف کو فروغ دینا ہوگا۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ انسان کی عظمت دوسروں کو گرانے میں نہیں، بلکہ انہیں سہارا دینے میں ہے۔ معاشرے صرف جنگوں سے تباہ نہیں ہوتے، بل کہ اس وقت بھی بکھرنے لگتے ہیں جب لوگ ایک دوسرے کا حق مارنے، دوسروں کے دکھ سے بے نیاز ہونے اور ظلم پر خاموش رہنے لگتے ہیں۔ بشیر بدر نے بھی محبت کو نفرت کے مقابلے میں انسانیت کی بنیادی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے:

؎ سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں
آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت

آئیے! عہد کریں کہ نفرت کے بجائے محبت، ظلم کے بجائے انصاف اور خود غرضی کے بجائے انسان دوستی کو فروغ دیں۔ دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلیں، کیونکہ معاشرے کی اصلاح فرد کی اصلاح سے شروع ہوتی ہے۔ شاید اسی طرح ہم اس بیماری کا علاج کر سکیں جس کی نشان دہی سلیم کوثر نے اپنے اس شعر میں کی ہے:

؎ آدمی آدمی کو کھائے چلا جاتا ہے
کچھ تو تحقیق کرو اس نئی بیماری پر

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے