حکمتِ عملی، تنظیم اور وقت کی پابندی

علمی و ادبی سرگرمیوں میں شرکت محض ذوق و شوق کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے لیے مناسب حکمتِ عملی، منظم منصوبہ بندی اور وقت کی پابندی بھی ناگزیر ہے۔ اگر ان امور کو نظرانداز کیا جائے تو بسا اوقات انسان بہترین مواقع سے محروم رہ جاتا ہے، خواہ اس کی نیت کتنی ہی اچھی اور علمی ذوق کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو۔

27 اکتوبر 2026ء کو میں محترمہ سارہ خان اور جناب سمیع الرحمان کے ساتھ قائداعظم یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ میں اس غرض سے شریک ہوا کہ ڈاکٹر خادم حسین صاحب کا لیکچر سننے کے بعد انہیں روسی فیڈریشن کے سفارت خانے لے جائیں، جہاں پشتو کتاب کی تقریبِ رونمائی منعقد ہونا تھی۔ لیکن وقت کی پابندی اور پروگراموں کے باہمی ربط کے فقدان کے باعث ہم نہ ڈاکٹر خادم حسین کا لیکچر سن سکے اور نہ ہی سفارت خانے میں پشتو کتاب کی تقریبِ رونمائی میں شرکت کر سکے۔ یوں ایک ہی دن میں دو علمی و ادبی مواقع ہمارے ہاتھ سے نکل گئے۔ اس صورتِ حال میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس کی ذمہ داری ہماری ناقص منصوبہ بندی پر عائد ہوتی ہے یا دونوں پروگراموں کے منتظمین کی بے ترتیبی پر؟ بہرحال، نتیجہ یہی نکلا کہ ہم دونوں سرگرمیوں سے مستفید نہ ہو سکے۔

اس کے اگلے روز، 28 اکتوبر 2026ء کو، میں اور جناب سمیع الرحمان ادارۂ فروغِ قومی زبان کے پروگرام ’’مکالمہ‘‘ میں شریک ہوئے۔ اس روز اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور نقاد پروفیسر جلیل عالی صاحب کے ساتھ مکالمہ تھا۔ انہوں نے بچپن، لڑکپن، جوانی اور بزرگی تک انسانی زندگی کے مختلف ادوار کو نہایت سلیقے، جامعیت اور اختصار کے ساتھ بیان کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ فرد کے تخلیقی جوہر، انفرادی فکر اور اجتماعی دانش کے موضوعات پر بھی علمی، منطقی اور فکرانگیز انداز میں گفتگو کی۔ ان کی باتوں میں تجربے کی گہرائی، فکر کی پختگی اور اظہار کی شائستگی نمایاں تھی۔

مکالمے کے اختتام پر جناب سمیع الرحمان نے بجا طور پر کہا کہ ’’کل کی تھکاوٹ کا آج عمدہ صلہ ملا۔‘‘ یہ جملہ دراصل اس ذہنی و فکری آسودگی کا اظہار تھا جو کسی بامقصد علمی نشست میں شرکت سے حاصل ہوتی ہے۔ واقعی، اہلِ علم کی گفتگو سننا، ان کے تجربات سے استفادہ کرنا اور مختلف فکری زاویوں کو سمجھنا انسان کے شعور کو وسعت دیتا ہے۔

وہاں سے ہم اکادمی ادبیات پاکستان پہنچے، جہاں ’’چائے، باتیں اور کتابیں‘‘ کے عنوان سے ایک اور علمی و ادبی نشست جاری تھی۔ ہماری خواہش تھی کہ اس محفل میں بھی شریک ہو کر اہلِ قلم کی گفتگو سے مستفید ہوں، لیکن اسی دوران جناب سمیع الرحمان کو گھر سے فون آ گیا اور انہیں ایک ضروری گھریلو مجبوری کے باعث واپس جانا پڑا۔ نتیجتاً ہم اس نشست میں بھی شریک نہ ہو سکے۔

ان دو دنوں کے تجربات نے مجھے ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا کہ علمی و ادبی زندگی میں مواقع کی کمی سے زیادہ اہم مسئلہ بعض اوقات ان مواقع سے مؤثر طور پر فائدہ اٹھانے کی صلاحیت کا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر ایک ہی دن میں متعدد پروگرام ترتیب دے دیے جاتے ہیں، مگر ان کے اوقات، مقامات، دورانیے اور آمدورفت کے لیے درکار وقت کو مناسب طور پر پیشِ نظر نہیں رکھا جاتا۔ نتیجتاً شرکاء کو ذہنی الجھن، جسمانی تھکن اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ منتظمین کی محنت بھی پوری طرح بارآور ثابت نہیں ہوتی۔

اس صورتِ حال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ پروگراموں کے انعقاد سے پہلے ایک واضح حکمتِ عملی وضع کی جائے، اوقاتِ کار کی پابندی کی جائے، شرکاء کو بروقت اور درست معلومات فراہم کی جائیں اور مختلف سرگرمیوں کے درمیان مناسب وقفہ رکھا جائے۔ اسی طرح شرکاء کو بھی چاہیے کہ اپنی مصروفیات، سفری فاصلے اور ممکنہ ہنگامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کریں۔ البتہ اچانک پیش آنے والی گھریلو یا ذاتی مجبوریوں کو بھی انسانی زندگی کا ایک فطری حصہ سمجھنا چاہیے۔

یہاں ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے: منصوبہ بندی ہمیں راستہ دکھاتی ہے، تنظیم اس راستے کو قابلِ عمل بناتی ہے، جبکہ وقت کی پابندی ہمیں منزل تک پہنچاتی ہے۔ ان تینوں میں سے کسی ایک عنصر کی کمی بھی پورے منصوبے کو متاثر کر سکتی ہے۔

علمی و ادبی اداروں کی ذمہ داری محض تقریبات منعقد کرنا نہیں، بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ہے جہاں علم، وقت اور انسانی محنت کی قدر ہو۔ ایک کامیاب پروگرام وہی ہے جس میں مقررین کی گفتگو، منتظمین کی محنت اور شرکاء کی شرکت، تینوں بامقصد اور نتیجہ خیز ثابت ہوں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم تقریبات کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کے معیار، نظم و ضبط اور افادیت پر بھی توجہ دیں۔

آخر میں، میں یہی عرض کرنا چاہوں گا کہ وقت کی پابندی محض گھڑی دیکھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ دوسروں کے وقت، ان کی محنت اور اجتماعی ذمہ داریوں کے احترام کا عملی اظہار ہے۔ حکمتِ عملی، تنظیم اور وقت کی پابندی ایک دوسرے سے جدا نہیں؛ یہ تینوں مل کر کسی بھی علمی، ادبی یا سماجی سرگرمی کو کامیاب بناتے ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ ہم ایک دن میں کتنے پروگراموں میں شریک ہوئے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے ان پروگراموں سے کتنا سیکھا، کتنا استفادہ کیا اور اپنی شرکت کو کس حد تک بامقصد بنایا؟.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے