راولاکوٹ کی خاموش چیخ: بے گھر کشمیری کی داستان

زندگی کی سب سے کڑوی سچائی یہ ہے کہ انسان جن دکھوں کو بھولنا چاہتا ہے، حالات اور لوگ بار بار وہی زخم ہرا کر دیتے ہیں۔ لیکن ذرا سوچئے کہ جب یہ دکھ محض یادیں نہ رہیں بلکہ جیتا جاگتا المیہ بن جائیں، تو بندہ کہاں جائے؟

​پچھلے کچھ دنوں سے جب سے پنجاب کو آزاد کشمیر سے ملانے والے دو بڑے راستے آزاد پتن اور ٹائیں ڈھلکوٹ بند ہوئے ہیں، راولاکوٹ اور پونچھ ڈویژن کے لوگوں کی زندگی جیسے تھم سی گئی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس بار یہ راستے ایکشن کمیٹی نے نہیں بلکہ سکیورٹی فورسز نے بند کیے ہیں۔ انتظامیہ کی یہ حکمتِ عملی جو بھی ہو، مگر نتیجہ ماضی کی طرح سمجھ سے باہر ہے۔ اگر فیصلہ ساز یہ سوچ رہے ہیں کہ اس سے ایکشن کمیٹی پر کوئی دباؤ پڑے گا، تو یہ ان کی بھول ہے۔ راستے بند کرنا اور ناکے لگانا تو ایکشن کمیٹی پچھلے پانچ ماہ سے کر رہی تھی؛ فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ اب ناکوں پر لوگ بدل گئے ہیں، لیکن ذلیل و خوار صرف اور صرف عام شہری ہو رہا ہے۔

​راولاکوٹ میں حالات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ لوگوں کا دم گھٹنے لگا ہے۔ ایک طرف مسلسل بندش اور دھرنے ہیں تو دوسری طرف سخت سردی، برف باری اور ایندھن (Fuel) کی شدید قلت۔ گھروں میں نہ جلانے کو لکڑی ہے، نہ چولہا جلانے کو گیس اور نہ بیمار بچوں کے لیے دوائیاں۔ بچوں کا تعلیمی سال تباہ ہو رہا ہے؛ سکول کالج بند ہیں، امتحانات ملتوی ہو چکے ہیں اور آن لائن پڑھائی کا ڈرامہ اس لیے ناکام ہے کیونکہ علاقے میں انٹرنیٹ ہی بند ہے۔

​ان حالات میں جب ایک عام کشمیری اپنے بچوں کو بچانے کے لیے راولاکوٹ چھوڑ کر راولپنڈی یا اسلام آباد کا رخ کرتا ہے، تو وہاں ایک نیا عذاب اس کا منتظر ہوتا ہے۔

​پنڈی کے پراپرٹی ڈیلروں کے پاس روزانہ درجنوں کشمیری دو کمروں کے چھوٹے سے مکان کے لیے چکر کاٹتے نظر آتے ہیں۔ لیکن شاید عام لوگوں کو اندازہ نہیں کہ اس مہنگائی میں دو کمرے کا فلیٹ کرائے پر لینا کتنا مشکل کام ہے۔

​پنڈی یا اسلام آباد میں دو کمروں کے معمولی فلیٹ کا کرایہ اس وقت 50 ہزار سے کم نہیں ہے۔ مالکان کی شرط ہوتی ہے کہ دو ماہ کی سیکیورٹی اور دو ماہ کا ایڈوانس کرایہ یکمشت دیا جائے یعنی 2 لاکھ روپے تو صرف چابی لینے کے لیے چاہئیں۔ اس کے بعد معمولی سامان، دو چار چارپائیاں اور منتقلی کا خرچ ملا کر کم از کم 3 لاکھ روپے اور لگ جاتے ہیں۔ مطلب راولاکوٹ سے جان بچا کر نکلنے والے کو دوسرے شہر میں صرف چھت حاصل کرنے کے لیے یک مشت 5 لاکھ روپے چاہئیں۔

​کیا اس بے روزگاری اور مہنگائی کے دور میں کسی عام یا متوسط خاندان کے پاس 5 لاکھ روپے نقد پڑے ہوتے ہیں؟ ہرگز نہیں!

​اور اگر کوئی شخص کسی طرح یہ پیسے پورے کر بھی لے، تو آگے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے بیریئر اس کا راستہ روک لیتے ہیں۔ گارڈز اور انتظامیہ محض شناخت دیکھ کر یا ‘کشمیری’ ہونے کا سن کر گھر دینے سے صاف انکار کر دیتے ہیں یا ایسی سخت شرائط رکھ دیتے ہیں کہ انسان خون کے آنسو روئے۔ حقوق کی جنگ لڑتے لڑتے اب غریب کی چھت بھی چھن چکی ہے اور ہزاروں خاندان دو وقت کی روٹی اور ایک کمرے کی چھت کو ترس رہے ہیں۔

​اس مشکل وقت میں، میں بڑے شہروں (پنڈی و اسلام آباد) میں رہنے والے تمام بہن بھائیوں سے ہاتھ جوڑ کر گزارش کروں گی کہ ان پریشان حال لوگوں کی مدد کریں۔ اگر آپ انہیں اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتے تو کوئی بات نہیں، لیکن کم از کم اپنے وسائل، پہچان اور رابطوں کا استعمال کرتے ہوئے ان کے لیے کوئی چھوٹا موٹا روزگار یا مناسب کرائے کے مکان کا بندوبست تو کروا سکتے ہیں۔

​لیکن یہاں ایک بات میری بھی سمجھ سے باہر ہے، جس پر میں کھل کر بات کرنا چاہتی ہوں۔

​جب کوئی انسان اپنے مصروف شیڈول سے وقت نکال کر، اپنی مصروفیات چھوڑ کر کسی ضرورت مند کی مدد کے لیے آگے بڑھتا ہے، تو آگے سے انکار یا انا (Ego) کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے؟ جب صاف نظر آ رہا ہو کہ انسان واقعی پریشان اور مجبور ہے، تو پھر یہ "نہیں نہیں” کرنے کی کیا تک بنتی ہے؟

​خاص طور پر میں اپنے کشمیری مردوں سے بات کرنا چاہتی ہوں؛ خدا کے لیے اس نام نہاد انا اور سیلف ریسپیکٹ کو کچھ دنوں کے لیے ایک طرف رکھ دیجیے۔ جب آپ کی فیملی اتنے سخت حالات سے گزر رہی ہو، تو پہلی ترجیح ان کی حفاظت اور ان کی ضرورت پوری کرنا ہونا چاہیے۔ جب کوئی اپنا یا خیر خواہ اپنا وقت اور پیسہ نکال کر مدد کی پیشکش کرے، تو رویے (Attitude) دکھانے کے بجائے اس مدد کو قبول کیجیے۔ اپنے بچوں اور خاندان کی سکھ سلامتی کے سامنے یہ انا بالکل بے معنی ہے۔

​اس پورے المیے میں سب سے بے حس کردار حکومت اور مقامی انتظامیہ کا ہے، جو بس کٹھ پتلی بن کر دیکھ رہی ہے اور ان کے پاس کوئی حل نہیں۔ دوسری طرف سوشل میڈیا کا اپنا ہی ڈرامہ ہے؛ جو لوگ راولاکوٹ کے دھرنوں میں بیٹھے ہیں، انہیں باہر شہروں کی مالی اور ذہنی تکالیف کا علم نہیں، اور جو باہر ہیں، وہ دھرنے والوں کے جذبات کو نہیں سمجھ رہے-

​یہ سب لکھنے کا مقصد کسی کو برا بھلا کہنا نہیں، بلکہ اس سچ کو سامنے لانا ہے کہ جب ریاست اور ایکشن کمیٹی دونوں اپنی اپنی ضد پر اڑے رہیں گے، تو پسے گا صرف عام شہری۔
​اگر اب بھی دونوں فریقین نے اپنی انا چھوڑ کر کوئی راستہ نہ نکالا اور راولاکوٹ کے لوگوں کو اس عذاب سے نہ نکالا، تو یاد رکھیے کہ وقت کا فیصلہ بہت بے رحم ہوتا ہے۔ جب لوگوں کے صبر کا پیمانہ بھر جاتا ہے، تو پھر وقت کسی کو معاف نہیں کرتا!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے