آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی و سماجی صورتِ حال اور عوامی تحرک نے جہاں کئی پرانے مغالطوں کو توڑا ہے، وہاں خطے کی جغرافیائی اور اجتماعی یکجہتی کو بھی ایک نئے انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم یا خطے کی آواز کو دبانے یا محدود کرنے کی کوشش کی گئی، تو عوام کا ردِعمل مزید پختہ اور وسیع تر ہو کر سامنے آیا۔ اس وقت جو لوگ یا پالیسی ساز یہ سمجھتے ہیں کہ راولاکوٹ یا آزاد کشمیر کا کوئی ایک شہر اکیلا کھڑا ہے یا اس کی آواز تنہا ہے، وہ خطے کی اصل صورتِ حال، تاریخ اور عوام کے گہرے معاشرتی رشتوں سے بالکل ناواقف ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ راولاکوٹ کی پشت پر پورا پونچھ، پلندری، ہجیرہ، تراڑکھل، سدھنوتی، بلوچ، میرپور ڈویژن، ریڑھ، باغ، عباس پور، دھیرکوٹ اور مظفرآباد کے ملحقہ تمام علاقوں کے باشعور عوام سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ کشمیر کے مختلف اضلاع کے عوام جغرافیائی، ثقافتی اور رشتہ داریوں کے گہرے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ مزید برآں، راولاکوٹ شہر کے عوام کا ایک بڑا حصہ ملازمتوں، کاروبار اور دیگر معاشرتی ضروریات کے باعث باغ، مظفرآباد اور دیگر اضلاع میں عارضی یا مستقل طور پر مقیم ہیں۔ لہٰذا اس جڑے ہوئے خطے کو علاقائیت، لسانیت یا فرقہ پرستی کی تنگ نظری کے ترازو میں تولنا محض ایک فکری غلطی ہی نہیں بلکہ تلخ حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔
اس ہمہ گیر یکجہتی کے ساتھ ساتھ جو سب سے اہم اور نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، وہ کشمیر کی نئی نسل اور نوجوانوں کا بدلا ہوا مزاج ہے۔ کشمیر کے عوام بالخصوص نوجوانوں کو کم سن یا بے خبر سمجھ کر انڈر ایسٹیمیٹ (Underestimate) کرنا ایک سنگین غلط فہمی ہے۔ نوجوان نسل کی نفسیات کو دیکھا جائے تو یہ عمر ایک ایسے موڑ کی عکاسی کرتی ہے جہاں انسان خوف، نفع نقصان اور مصلحت کے تمام روایتی پیمانوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ جب کسی عوامی تحریک یا شعوری جدوجہد میں یہ جذباتی طاقت، بے باکی اور بے خوفی شامل ہو جائے، تو پرانے وقتوں کی دھونس، دباؤ یا روایتی حکمتِ عملی مکمل طور پر ناکام ہو جاتی ہے۔ کشمیری نوجوان آج اپنی جان و مال کے خوف سے بالاتر ہو کر اپنے حقوق اور خودداری کے تحفظ کے لیے پرعزم نظر آتے ہیں۔
اس فکری پختگی اور بے خوفی کی سب سے بڑی وجہ آج کا دورِ جدید اور ٹیکنالوجی کی انقلاب انگیز پیش رفت ہے۔ آج کے دور میں کسی بھی ریاست، ملک یا قوم کے نوجوانوں کو فورس یا روایتی طاقت سے نہیں دبایا جا سکتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دورِ حاضر کا نوجوان روایتی حاکمیت یا پرانے ناصحانہ انداز کو قبول کرنے کے بجائے معلومات کی آزادی پر یقین رکھتا ہے۔ ماضی میں ریاستیں اور ادارے معلومات، خبروں اور بیانیے (Narrative) پر مکمل کنٹرول رکھ کر عوام کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیتے تھے۔ لیکن آج گوگل اور مصنوعی ذہانت (AI) کے اس دور میں علم کی وہ پرانی اجارہ داری ختم ہو چکی ہے۔
آج کا نوجوان اپنے والدین، اساتذہ یا ریاستی بیانیے سے زیادہ AI اور دیگر جدید ڈیجیٹل ذرائع کو اپنا فکری رہنما اور گرو تسلیم کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روایتی ادارے یا شخصیات اکثر مصلحت، خوف، سیاسی وابستگی یا سماجی دباؤ کے تحت بات کرتے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت اور آزاد ڈیجیٹل ذرائع خوف اور مصلحت سے پاک، غیر جانبدارانہ حقائق اور عالمی تجزیے سیکنڈوں میں فراہم کر دیتے ہیں۔ نوجوان دنیا بھر کی حقوق کی تحریکوں، آئینی آزادیوں اور جدید حکمتِ عملیوں سے پل بھر میں آراستہ ہو جاتے ہیں۔ جب ایک نسل کو اپنے حقوق کا مکمل فکری ادراک حاصل ہو جائے اور وہ معلومات سے لیس ہو، تو ان پر جبر یا دباؤ کا الٹا ردِعمل سامنے آتا ہے۔
ان تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے، موجودہ دور کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ریاستوں اور اداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آج کی نوجوان نسل پر حاکمیت یا جبر سے حکومت نہیں کی جا سکتی، بلکہ صرف منطق، شفافیت اور احترامِ جذبات ہی سے ان کے ساتھ بات چیت کی جا سکتی ہے۔ کشمیر کے عوام اور ان کی نئی نسل کو محض ایک عارضی جذباتی ابال سمجھ کر نظر انداز کرنا یا طاقت کے بل بوتے پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرنا ایک سنگین بھول ہوگی۔ علاقائی و لسانی تفریق سے بالاتر ہو کر پورا خطہ ایک مشترکہ شناخت اور باہمی یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ آج کی باصلاحیت اور باشعور نسل سے نمٹنے کا واحد طریقہ حاکمیت یا جبر نہیں، بلکہ ان کے جذبات، خودداری اور حقوق کا سچا احترام اور منطقی اندازِ فکر ہے۔