اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی درخواست کی سماعت کی. پیمرا کی طرف سے کسی کے نہ پیش ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین پیمرا کو ذاتی حیثیت میں 7 مارچ کو طلب کرلیا۔
عدالت نے کہا کہ چیئرمین پیمرا خود پیش ہوکر بتائیں ایسی سخت پابندی اس سے پہلے کس پر عائد کی ہے۔ چیئرمین پیمرا بتائیں کہ ڈاکٹر عامرلیاقت پر جو پابندی لگائی گئی ہے ایسی پابندی اُنہوں نےکبھی "ٹُن” ہو کر پروگرام کرنے والوں پر کبھی لگائی یا نہیں؟
عدالت نے کہا کہ یہ ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ بھینسا، موچی اور گینڈے وینڈے کے خلاف کارروائی کریں۔ عدالت نے کہا کہ چیئرمین پیمرا خود پیش پو کر یہ بھی وضاحت کریں کہ آج تک اُنہوں نے ریاست، فوج اور مذہب کے خلاف بات کرنے والے کن اینکرں کے خلاف کاررائی کی اور کیا وہ اتنی ہی سخت کارروائی تھی؟
عدالت نے ڈاکٹر عامر لیاقت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ بھینسا، موچی یا دیگر صفحات پر بات نہ کریں اِنہیں ہم دیکھیں گے اور اچھی طرح دیکھیں گے۔ عدالت نے کہا کہ آپ کے خلاف پیمرا کا حکم معطل کیا جاتا ہے اور اب آپ پر اور آپ کے پروگرام پر اب کوئی پابندی نہیں ہے
عدالت نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین پر عائد پیمرا کی پابندی معطل کردی گئی اور 7 مارچ کو فریقین کو طلب کرلیا گیا