کیا باچا خان کے آباء واجداد کو انگریزوں کی طرف سے جاگیر ملی تھی؟ ڈاکٹر مشتاق صاحب سے "مکالمہ” جو نہ ہوسکا…

فخر افغان باچا خان ایک بار پھر بے بنیاد پروپیگنڈوں کی زد میں ہے۔ اب کی بار اس بحث کا آغاز ڈاکٹر مشتاق صاحب نے اپنے ایک فیس بکی پوسٹ سے کیا، جس میں انھوں نے پوری قطعیت کے ساتھ یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ باچا خان نے اپنی آپ بیتی "زما ژوند اور جد وجہد” میں یہ کئی مقامات پر یہ اعتراف کیا ہے کہ ان کے آبا واجداد کو انگریزوں نے جاگیر دی تھی۔ اس پر ہم نے پوری یکسوئی اور وضاحت کے ساتھ یہ سوال اٹھایا کہ "باچا خان کی آپ بیتی شائع شدہ ہے، اور عام دستیاب ہے۔ ہمیں وہ مقام/مقامات بتا دیں جہاں پر باچا خان نے اس قسم کا کوئی اعتراف کیا ہو”۔ اس کے جواب میں غیر متعلقہ جوابات دینے اور بسیار بحث ومباحثے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے آخرکار تسلیم کر لیا کہ مجھ سے حوالے میں غلطی ہوئی ہے، اور میرے مذکورہ دعوے کا ماخذ دو اور کتابیں ہیں۔

ڈاکٹر محمد مشتاق

ان میں سے ایک کتاب مہادیو ڈیسائی کی "Two Servants of God” ہے، جسے ڈاکٹر صاحب نے بزعمِ خویش باچا خان کی "آپ بیتی” قرار دیا ہے۔ دوسری کتاب ڈی جی ٹنڈولکر کی "Abdul Ghafar Khan: Faith is a Battle” ہے۔

اسی پوسٹ میں ڈاکٹر صاحب کے حسب فرمان: "ڈیسائی اور ٹنڈولکر دونوں نے ان وظیفوں کا بھی ذکر کیا ہے جو خان برادران کے بچوں کو انگریز سرکار سے ملتے تھے۔ ان وظائف کا ذکر "زما ژوند او جدوجہد” میں بھی ہے”۔

اس کے بعد ایک مستقل پوسٹ میں ڈاکٹر صاحب نے 1897ء کے گزیٹئر کی تصویر پوسٹ کی، جس میں فیض اللہ خان ولد ارسلا خان کو انگریزوں کی طرف سے دی گئی جاگیر کا ذکر ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے سوال پوچھا ہے کہ مذکورہ شخص باچا خان کے کیا لگتے تھے، اور ان کو انگریزوں کی طرف سے کن خدمات کے عوض جاگیر ملی۔

ان تمام امور پر ہم پورے ٹھنڈے دل سے اور پورے عزم وحوصلے کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے۔ تاہم ڈاکٹر صاحب اس پوری بحث میں انتہائی دھمکی آمیز اور جارحانہ لب ولہجہ استعمال کرتے رہے۔ آخر میں انھوں نے باچا خان کے حوالے سے ایک انتہائی گرا ہوا اور حقیقتا "بازاری” جملہ کسا۔ ہم نے صرف اس جملے کے مفہوم کی رو سے ڈاکٹر صاحب کو بہت مہذب انداز میں آئینہ دکھایا، تو انھوں نے برافروختہ ہو کر ہمیں بلاک کر دیا۔ بہر حال ہم اپنی طرف سے گزشتہ بحث کا خلاصہ بھی پیش کریں گے، جس کے بعد ہم نے اپنے ہی وال سے یکے بعد دیگرے سات قسطوں میں ڈاکٹر صاحب کے تمام سوالات اور مغالطوں کے جوابات وتوضیحات کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ برادرم سبوخ سید کی خواہش پر اب ان تمام پوسٹس کو یکجا طور پر آئی بی سی اردو ڈاٹ کام پر نذرِ قارئین کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے اپنے بیان کی تائید میں ایک حوالہ مہادیو ڈیسائی کی کتاب Two Servants of God کا دیا ہے۔ ان کے الفاظ میں:

"بابا” کی دوسری خود نوشت سوانح حیات، جو تاریخی لحاظ سے اولین خود نوشت سوانح حیات ہے، 1935ء میں انگریزی زبان میں دلی سے شائع ہوئی تھی اور اس کا عنوان تھا: Two Servants of God اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ یہ کتاب گاندھی جی (یعنی قوم پرستوں کے "باپو”) کی ہدایت پر گاندھی جی کے قریبی ساتھی مہادیو ڈیسائی نے مرتب کی اور اس کےلیے خود "باپو” نے پیش لفظ (foreword) بھی لکھا۔ یہ کتاب خان برادران یعنی ڈاکٹر عبد الجبار خان اور عبد الغفار خان کے اپنے الفاظ پر مشتمل ہے اور اسی وجہ سے علمی حلقوں میں آج تک ان برادران کے متعلق مستند ترین کتاب سمجھی جاتی ہے”۔

بھارت کی مقتول وزیراعظم اندرا گاندھی بچپن میں باچاخان کی گود میں

ڈاکٹر صاحب نے خان برادران کے انٹرویوز پر مبنی کتاب کو پورے زور وشور اور قطعیت سے "اولین خود نوشت” قرار دیا ہے۔ اس سادگی پہ مرنے کے بجاے رونے کو جی چاہتا ہے۔ کیا ہم ڈاکٹر صاحب کو بایں ہمہ علم وفضل اس عمر میں خود نوشت کی تعریف سمجھائیں گے!! چونکہ حتمی مقصد باچا خان کو گرانا ہی ہے، تو انٹرویوز کو خود نوشت قرار دے دیا۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ خود نوشت اور انٹرویو کی ثقاہت اور درجۂ استناد میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ تاریخی تحقیق میں انٹرویو سے حاصل شدہ معلومات قطعا حتمی نہیں ہو سکتے۔ ان معلومات پر سو فی صد اعتماد اور ان پر اپنے استدلال کی بنیاد رکھنا شاخ نازک پر ناپائیدار آشیانہ بنانے کے سوا اور کچھ نہیں۔ انٹرویوز میں اکثر وبیشتر انٹرویو لینے والا معلومات لے کر اپنی سمجھ کے مطابق انھیں ترتیب دے دیتا ہے، جس میں شعوری یا غیرشعوری طور پر اس کے ذاتی خیالات کے در آنے کا مضبوط احتمال ہوتا ہے۔ باچا خان کے کیس میں یہ امر اور بھی مشتبہ ہو جاتا ہے، کیوں کہ وہ انگریزی زبان سے ناواقف تھے۔ انھوں نے ظاہر ہے یہ انٹرویوز اردو زبان میں دیے ہیں، جسے مہادیو ڈیسائی نے انگریزی کے قالب میں ڈھالا۔ ڈاکٹر صاحب ترجمے کے فن سے ناواقف نہیں ہوں گے۔ انھیں علم ہونا چاہیے کہ ترجمہ پر کسی بھی طور کلی انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ ترجمے میں معمولی سی غلطی بات کو کہاں سے کہاں پہنچاتی ہے!! اب ایک طرف انٹرویوز سے حاصل شدہ معلومات اور دوسری طرف ان معلومات کا انگریزی زبان میں ترجمہ، یہ دونوں ایسے امور ہیں کہ ان کی موجودگی میں جاگیر کے حوالے سے ان بیانات پر کسی طرح بھی یقین نہیں کیا جا سکتا، بالخصوص جب کہ باچا خان پر دیگر تحقیقی اور طبع زاد کام میں اس طرح کی کوئی تصریح نہیں ملتی۔

یہ بات مد نظر رہے کہ میرے سامنے ڈیسائی کا اصل حوالہ نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے حوالے پر ہی میں نے اپنی وضاحت کی بنیاد رکھی ہے۔ اصل کتاب کے حصول کی ابھی تک کوشش میں ہوں، اور عن قریب مل بھی جائے گی، جس میں سیاق وسباق میں رکھ کر باچا خان کی طرف منسوب بیان کے مفہوم کو متعین کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ جس سے یہ بحث مزید منقح ہوگی۔

اب آتے ہیں حوالے کے متن کی طرف۔ ڈاکٹر صاحب کی طرف سے حوالے کا متن کچھ یوں پیش کیا گیا ہے:

Every such Khanship or Zamindari was created in order to serve as a prop to the new administration that was being established, and I say this in spite of the fact that my grandfather as a Khan was thus placed in possession of hundreds of acres of land.

سب سے پہلے اس عبارت میں موجود Grandfather کے لفظ پر غور کریں۔ باچا خان کے والد کا نام بہرام خان اور دادا کا نام سیف اللہ خان ہے۔ مذکورہ عبارت اگر درست مان لی جائے، تب بھی اس میں باچا خان نے متعین طور پر اپنے دادا کا نام نہیں لیا، بلکہ انھوں نے Grandfather کا لفظ استعمال کیا، جس کا معنی صرف والد کے والد نہیں، بلکہ خاندان کے بڑے کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ڈیسائی کے اندراج کو درست فرض کر لینے کی صورت میں اس سے خاندان کے بڑے کیوں مراد نہیں لیے جاسکتے، باوجویکہ لغت میں بھی اس معنی کی گنجائش ہے، اور ایسے شواہد بھی موجود ہیں کہ باچا خان کے خاندان میں کچھ ایسے لوگ موجود تھے، جنھوں نے انگریزوں سے مفاہمت کی اور اس بنیاد پر انگریزوں نے ان کی زمینوں پر ان کی سابقہ ملکیت کو برقرار رکھا، یا انھیں جاگیریں دیں؟!

ڈی جی ٹنڈولکر کی باچا خان سے متعلق کتاب کا عکس

اس حوالے کو اگر درست فرض کیا جائے، تو اس سے باچا خان کی عظمت کا ایک دوسرا پہلو نکلتا ہے، اور وہ یہ کہ وہ جاگیرداری کو غلط سمجھتے تھے اور جب ان کے اپنے خاندان کے افراد نے انگریزوں سے جاگیریں لیں، تو انھوں نے کسی کی لعنت ملامت کی پرواہ کیے بغیر ان پر بھی کڑی تنقید کی۔ اس صورت میں یہ ان کی سچائی اور اپنے مقصد کے ساتھ اخلاص اور لگن کی ایک اور شہادت ہے۔

اب باری ہے ڈاکٹر صاحب کے "دوسرے حوالے” ڈی جی ٹنڈولکر کی کتاب "Abdul Ghaffar Khan: Faith is a Battle” کی۔ ڈاکٹر مشتاق صاحب نے اس کو ایک الگ حوالہ شمار کیا ہے، جس کو میں مغالطے کے علاوہ کچھ اور نام نہیں دے سکتا۔ ڈاکٹر صاحب نے باچا خان کے انٹرویو کا جو جملہ اپنی پوسٹ میں پیش کیا ہے، ڈی جی ٹنڈولکر نے بعینہ وہی جملہ ڈیسائی کا حوالہ دیتے ہوئے ہی دہرایا ہے۔ اس لیے یہ کوئی نیا حوالہ نہیں ہے، بلکہ بعینہ پہلا حوالہ ہے۔ چونکہ پہلے حوالے کی سند اور متن دونوں پر ہم نے تفصیلا تنقید کیا ہے، اس لیے اُسی تنقید کو اس حوالے سے بھی متعلق سمجھا جائے۔

یہاں پر ڈاکٹر صاحب کی ایک اور غلط فہمی کی بھی وضاحت کردوں۔ انھوں نے اپنے حوالے کو تقویت پہنچانے کے لیے لکھا ہے اور کمنٹس میں اس پر اصرار بھی کیا ہے کہ ڈی جی ٹنڈولکر کی کتاب "بنیادی طور پر” باچا خان کے انٹرویوز پر مشتمل ہے۔ لیکن اصل انگریزی نسخے کا مقدمہ، کتاب کا اسلوب اور آخر میں فہرستِ مصادر ومراجع سب یہ واضح طور پر بتاتے ہیں کہ یہ ایک مستقل تالیف ہے، جس میں باچا خان کی تحریریں، تقریریں، انٹرویوز، خط وکتابت اور ان سے متعلقہ مطبوعہ سرکاری وغیر سرکاری ریکارڈ کی تحقیق وتجزیہ موجود ہے۔ باچا خان کی انٹرویوز اس کتاب کا حصہ ضرور ہیں، لیکن "بنیادی طور پر” نہیں۔

ڈاکٹر محمد مشتاق کے دادا کی باچا خان سے متعلق کتاب کا عکس

آگے چل کر ڈاکٹر صاحب ارشاد فرماتے ہیں: ” ڈیسائی اور ٹنڈولکر دونوں نے ان وظیفوں کا بھی ذکر کیا ہے جو خان برادران کے بچوں کو انگریز سرکار سے ملتے تھے۔ ان وظائف کا ذکر "زما ژوند او جدوجہد” میں بھی ہے”۔

ہماری نظر میں ڈاکٹر صاحب کا یہ بیان بھی سیاق وسباق سے ہٹا ہوا اور ایک عام قاری کے لیے انتہائی گمراہ کن ہے۔ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ باچا خان نے اپنی آپ بیتی "زما ژوند او جد وجہد” (ص 2) میں اپنے بیٹوں کے تعلیم کے سلسلے میں عبد الولی خان کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ سینئر کیمبرج کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ نہ جا سکے، کیونکہ اسی دوران انگریزوں نے مجھے، ڈاکٹر خان صیب اور قاضی صاحب کو گرفتار کر لیا۔ ہماری حیثیت شاہی قیدی (State Prisoners) کی تھی، جن کے بچوں کے لیے سرکار کی طرف سے تعلیمی وظیفے کا اہتمام ان کا بنیادی حق ہوتا ہے نہ کہ کوئی رعایت، لیکن باوجود اس کے ڈاکٹر خان صیب اور قاضی صاحب کے بچوں کو تعلیمی وظیفہ ملتا رہا اور میرے بچوں کو نہیں۔

باچا خان کے اس اقتباس سے دو باتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ شاہی قیدیوں کے بچوں کو وظیفہ ملنا سرکار کی طرف سے ایک قانونی حق تھا، نہ کہ کوئی رعایت۔ مشتاق صاحب نے سیاق وسباق حذف کرکے ایک بالکل الگ تصویر پیش کرنے کی کوشش کی۔

دوسری بات یہ کہ باچا خان کے بچوں کو باوجود قانونی حق کے یہ وظیفہ نہیں ملا، البتہ ڈاکٹر خان صیب کے بچوں کو ملتا رہا۔ مشتاق صاحب نے "خان برادران” کے الفاظ استعمال کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ وظیفہ خان صیب کے بچوں کے ساتھ ساتھ باچا خان کے بچوں کو بھی ملتا رہا۔

جب ہم نے ڈاکٹر صاحب کے اس ارشاد پر انگشت نمائی کی تو انھوں نے شاہی قیدیوں کے بچوں کو تعلیمی وظیفہ ملنے کے قانونی حق کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ طور پر بونگی قرار دیا، لیکن انھوں نے اس حوالے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ باچا خان کے بیان کی صداقت کے دلائل ہمارے پاس موجود ہیں، جنھیں ہم فی الحال محفوظ رکھتے ہیں، اور جب ڈاکٹر صاحب باچا خان کے اس بیان کے خلاف کوئی ثبوت لائیں گے، تب ہم اپنے دلائل پیش کریں گے۔

ڈی جی ٹینڈولکر نے بھی وہی بیان دیا ہے، جو باچا خان نے اپنی خود نوشت میں دیا ہے۔ مہادیو ڈیسائی کی کتاب فی الحال ہماری رسائی سے باہر ہے۔ جب ملے گی، تو اس کا حوالہ بھی پیش کیا جائے گا۔

اس کے بعد ایک مستقل پوسٹ میں ڈاکٹر صاحب نے 1897ء کے پشاور گزیٹئر کی تصویر پوسٹ کی، جس میں فیض اللہ خان ولد ارسلا خان کو انگریزوں کی طرف سے خدمات کے عوض دی گئی جاگیر کا ذکر ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے سوال پوچھا ہے کہ مذکورہ شخص باچا خان کے کیا لگتے تھے، اور ان کو انگریزوں کی طرف سے کن خدمات کے عوض جاگیر ملی۔

ہم اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتے کہ ارسلا خان کون تھے، اور ان کو انگریزوں کی طرف سے کیوں کر جاگیر ملی۔ البتہ ہم اتنا عرض کرتے ہیں کہ ارسلا خان نہ باچا خان کے والد تھے، نہ دادا، نہ ہی پردادا۔ قرآنی اصول "لا تزر وازرۃ وزر اخری” (کوئی کسی دوسرے شخص کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا) کے تحت باچا خان اپنے پورے خاندان کے اعمال کے نہ ذمہ دار ہیں، اور نہ ذمہ دار ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔

اس حوالے سے ہم نے جوابا یہ بھی عرض کیا تھا کہ ڈاکٹر صاحب اگر آپ باچا خان کی تنقیص وتوہین کرکے ہی مشہور ہونا چاہتے ہیں، تو مفت کا ایک مشورہ ہے۔ باچا خان کی سو پشتوں کا ریکارڈ لائیں، اور ان میں ہر فرد کے نامۂ اعمال کو ٹٹولیں، کسی نہ کسی کا نامہ تو ضرور سیاہ نکلے گا۔ آپ کی شہرت بھی ہو جائے گی، اور باچا خان کی بدنامی میں بھی اضافہ ہوگا۔ اور باچا خان پرہی کیا منحصر ہے، اسی طریقۂ تنقید کو لے کر حضرت نوح اور حضرت لوط علیھما السلام کے پیچھے بھی پڑ جائیں کہ ایک جلیل القدر پیغمبر اپنے بیٹے اور بیوی دونوں کو راہ راست پر نہ لاسکے، اور دوسرے عظیم نبی اپنی بیوی کو۔

[pullquote]آخر میں ڈاکٹر اس مکالمے کے حوالے سے بھی چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں:[/pullquote]

میں نے اس مکالمے کو بہت ہی مثبت اور شائستہ انداز میں اس نیت سے شروع کیا تھا کہ شاید ڈاکٹر صاحب باچا خان کے حوالے سے غلط فہمیوں کے شکار ہیں، یا زیادہ سے زیادہ "متاثرینِ مطالعۂ پاکستان” میں سے ہیں۔ میں نے اپنے تمام سوالات انتہائی یکسوئی اور انتہائی ادب سے ڈاکٹر صاحب کے سامنے رکھے، تاہم ڈاکٹر صاحب کا لب ولہجہ ابتدا سے انتہاپسندانہ، دھمکی آمیز اور جارحانہ تھا۔ انھوں نے بارہا اپنی گفتگو میں فتوے کی زبان کافی شدت سے استعمال کی، جس کی مجھے ان سے توقع نہ تھی۔

ڈاکٹر صاحب نے کتابوں کے حوالہ جات جس انداز سے پیش کیے، اور جسے ہم نے تفصیلا نقد ونظر کا موضوع بنایا، اس کے بعد ہم اس بات کے کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مزعومہ دعاوی کے اثبات کے لیے دھاندلی نہیں بلکہ دھاندلا کیا ہے۔ ان کا ہر بیان اور اس کی تائید میں پیش کردہ حوالہ غیر ذمہ دارانہ اور سیاق وسباق سے کٹا ہوا تھا، جو کم از کم ایک پروفیسر اور وہ بھی قانون کے پروفیسر کے ساتھ ہرگز زیب نہیں دیتا تھا۔

ڈاکٹر صاحب پاکستان اور افغانستان بلکہ پوری دنیا میں باچا خان سے عقیدت رکھنے والے پٹھانوں اورغیر پٹھانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کو مکمل جائز بلکہ واجب سمجھتے ہیں۔ انھوں نے ایک سنجیدہ اور عظیم تاریخی شخصیت کے حوالے سے انتہائی گھٹیا اور بازاری فقرے کسے، جس سے باچا خان کے عقیدت مندوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچا۔ "بابا تباہ دے” اور "باچا خان نے بونگی ماری” وغیرہ جیسے جملے انتہائی ناشائستہ اور غیر مہذب ہیں، اور ڈاکٹر صاحب کو باچا خان کے حق میں یہ جملے استعمال کرتے ہوئے کچھ حیا کا پاس کرنا چاہیے تھا، جو انھوں نے بالکل بھی نہیں کیا۔

اپنے خاندانی اور سیاسی انتساب کے زیرِ اثر ڈاکٹر صاحب نے اس گفتگو میں انتہائی متعصبانہ رویہ اختیار کیا، اور یہ ثابت کیا کہ وہ غیر جانبدارانہ نقطۂ نظر سے گفتگو کر ہی نہیں سکتے۔ جب انھوں نے باچا خان کے حوالے سے لکھا کہ "بابا تباہ دے”، تو اس پر ہم نے جوابا عرض کیا کہ یہ فیصلہ شکر ہے کہ تاریخ نے کر لیا ہے کہ کون تباہ ہے اور کون نہیں؟! آج باچا خان اور ان کا خاندان آپ کے تمام تر پروپیگنڈے کے باوجود ایک سیاسی طور پر ایک زندہ حقیقت ہیں، جبکہ نہ صرف آپ لوگ بلکہ جنھیں آپ نے سیاست میں ائمۂ معصومین مانا تھا، وہ ابھی تک سیاسی شناخت کے بحران کے شکار ہیں۔ آپ کے والد محترم گزشتہ دس سالوں میں دس پارٹیاں بدل چکے ہیں، اور میری اطلاع کے مطابق اس الیکشن میں باقاعدہ نیشنل پارٹی ہی کے حیدر خان ہوتی کے در پر بھی حاضری دی تھی، لیکن افسوس کہ وہاں پر شرفِ باریابی نہیں ملا۔ ایسے لوگوں کا باچا خان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے پر اتنا تو کہنا بنتا ہے کہ یہ منہ اور مسور کی دال۔ یا عربی کے اس بلیغ ضرب المثل کا استعمال کہ اَنف فی الماءِ واِست فی السماء۔۔۔

ڈآکٹر صاحب کسی بھی صورت اختلاف کے روادار نہیں۔ یہ بات ہمیں پہلے سے کئی سنجیدہ دوستوں بلکہ ایک سینئر بندے نے بھی بتائی تھی، تاہم اس بحث کے دوران ہمیں ذاتی طور پر اس کا تجربہ ہوا کہ جب ڈاکٹر صاحب نے باچا خان پر بازاری فقرے کسے تو ہم نے پارلیمانی انداز میں ان کو تھوڑا سا آئینہ دکھایا، جس پر بر افروختہ ہو کر انھوں نے ہمیں بلاک کر دیا۔ اور اس طرح اپنی عدم برداشت پر مہر تصدیق ثبت کی۔

اس گفتگو کے دوران ڈاکٹر صاحب بار بار یہ دھمکی بھی دیتے رہے کہ آپ مجھے مجبور نہ کریں ورنہ میں باچا خان کے خلاف یہ اور وہ لے کر آؤں گا۔ ہم کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب! سورج انگلی سے چھپ نہیں سکتا۔ آپ کے آبا واجداد کے پروپیگنڈے سے باچا خان کو کچھ نہیں ہوا، تو آپ کے پروپیگنڈے سے کیا ہوگا؟! البتہ اتنا ضرور ہوگا کہ آپ کی بد دیانتی مزید کھل کر سامنے آئے گی۔ تو لگے رہیے، اور خود کو ایکسپوز کرنے کے مواقع باہم پہنچاتے رہیے۔

آخر میں یہ بھی عرض کرتا ہوں کہ فی الحال ہم صرف دفاعی پوزیشن میں ہیں۔ اقدام کا مرحلہ ابھی باقی ہے، جس میں ٹھوس تاریخی ثبوتوں اور دستاویزات کی روشنی میں آپ کے سیاسی قبلوں اور کعبوں پر بحث کا آغاز کیا جائے گا۔ تو تیار رہیے اگلی قسطوں کے لیے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے