مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم شہید بینظیر بھٹو کی 12ویں برسی آج (جمعہ کو) منائی جارہی ہے، انہوں نے اپنی زندگی میں کئی اُتار چڑھاؤ دیکھے ليکن مشکل ترین حالات میں بھی ہار نہ مانی، وزارت عظمیٰ کا تاج 2 بار سر پر سجایا۔
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بینظیر اپنے نام کی طرح بینظیر تھی، اپنے والد سولی چڑھتے ديکھا، 11 سال شوہر کی قيد کے دوران چھوٹے بچوں کی تنہاء ديکھ بھال کی اور سياست کا الم بھی گرنے نہ ديا، مشکلات کا ہر لمحے ڈٹ کر مقابلہ کرنیوالی خاتون سیاستدان کو چاروں صوبوں کی زنجیر کا خطاب ملا
بینظیربھٹو نے 29 برس کی عمر میں پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت سنبھالی، ضیاء دور آمریت میں سخت جدوجہد کی، 1984ء میں جیل سے رہائی کے بعد برطانیہ ميں 2 سال جلاوطنی کی زندگی گزاری، 17 اگست 1988ء کو ضیاءالحق کی طیارہ حادثے میں وفات کے بعد بینظیر بھٹو وطن واپس آئيں اور اسی سال عام انتخابات میں کامیابی نے اُن کے قدم چومے۔
پہلی بار 2 دسمبر 1988ء کو وزارت عظمیٰ کا تاج سجايا تاہم 2 سال بعد ہی صدر غلام اسحاق خان نے انہیں گھر بھيج ديا۔ 1993ء ميں ایک بار پھر اليکشن ميں کاميابی ملنے پر بینظير بھٹو نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی اور آئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی سے بچنے کیلئے اپنے معتمد خاص فاروق احمد خان لغاری کو صدر بنایا مگر 3 سال بعد ہی ان کے اپنے ساتھی نے پیپلزپارٹی حکومت کا دھڑن تختہ کرديا۔
مشرف دور میں بینظیر بھٹو نے طویل جلاوطنی کاٹی، ساڑھے 8 سال بعد 18 اکتوبر 2007ء کو وطن لوٹيں تو کراچی ايئرپورٹ سے گھر کے راستے ميں ہی اُن پر قاتلانہ حملہ کيا گيا، 2 خود کش بم دھماکوں میں 100 سے زائد افراد شہید ہوئے تاہم خوش قسمتی سے بینظیر محفوظ رہیں۔
سابق صدر جنرل (ر) پرويز مشرف کی جانب سے ایمرجنسی لگانے پر بینظير بھٹو نے ججز کی بحالی کيلئے آمر حکومت کيخلاف تحریک شروع کی، 27 دسمبر کو الیکشن مہم کے سلسلے میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ کرکے باہر نکلیں تو ایک بار پھر خودکش حملہ کیا گیا، اس بار وہ محفوظ نہ رہیں اور سر پر لگنے والی شدید چوٹ کے باعث شہید ہوگئیں۔