کیا قیامت ہے کہ ۔۔۔

اس سے بڑھ کر اور قیامت کیا ہو گی کہ روضہ رسول بند ہے اور خدا بے نیاز ہو گیا ہے ؟

آج خدا کا انکار کرنے والے اور خدا پرست دونوں بے بس ہیں، سائنس مجبور محض دکھائی دے رہی ہے اور توکل ڈگمگا رہا ہے، آج اٹالین وزیر اعظم بھی روتا ہے اور سپر پاور کا صدر بھی کہتا ہے کہ معاملات قابو سے باہر ہو چکے ہیں یوم دعا منایا جائے –

آج سائنسدان چاک گریبان ہیں اور اہل مذہب شرمائے ہوئے ہیں، کعبہ بھی بند ہے اور کلیسا بھی، عیادت کی سنت سے بھی گئے اور جنازہ کی عبادت سے بھی،

مزدور بھی گھروں میں بند ہیں اور دولت والے بھی، نفسا نفسی ہے، کہا جا رہا ہے بوڑھوں سے نہ ملیں اور بچوں سے دور رہیں-

بوڑھے تنہائی سے مر رہے ہیں اور بچے شفقت سے محروم کر دیے گئے ہیں ،ایک دوسرے کا لباس ہونے کے باوجود میاں بیوی حلال طریقے سے بھی لمس کی لذت نہیں پا سکتے، دوست دوست سے بھاگ رہا ہے اور خون خون سے، محفلیں اجڑ چکی ہیں، شہروں پر سکوت مرگ طاری ہے، گلیاں سائیں سائیں کر رہی ہیں، بیمار اپنے معالج سے خوف زدہ ہے اور معالج اپنے مریض سے، خدا یہ سب دیکھ رہا ہے اور پھر بھی بے نیاز ہے، اس نے سب کو بے بس کر کے بتا دیا کہ بادشاہی میری ہے، موت کا حل نکالنے والے زندگیاں بچا کر دکھائیں؟ عبادت پر نازاں اور خدا کو تڑیاں دینے والے صوفی بھی چپ ہیں، وہ شاعر بھی چپ ہیں جو کہتے تھے کعبہ ہماری جبینوں سے آباد ہے اور ہماری قربانیوں کی وجہ سے خدا کا نام باقی ہے، اب کوئی شکوہ بھی نہیں کر رہا ! شکوے کی جرات بھلا کس کو ہے؟

کعبہ ویران ہے تو ویران ہے ! خدا کو کیا فکر کوئی اسے پکارے یا نہ پکارے؟ بے نیازی کی اپنی شان ہوتی ہے، بے نیاز کو ویرانی و آبادی سے کیا؟ اسے زندگی و موت سے کیا؟ اسے صحت و بیماری سے کیا؟ اسے بھرے پیٹ اور بھوکے پیٹ سے کیا ؟

یہ شان بے نیازی ہے اسے دیکھیں!

یہ سب ٹھیک ہے، کوئی گلہ نہیں ،کوئی شکوہ نہیں، شان بے نیازی ہونی چاہیے، نظر آنی چاہیے، مجھے شکوہ ہے تو بس اس چیز سے کہ میرے نبی کا روضہ بند ہے، اسے آج بند نہیں ہونا چاہیے ، اس روضے میں جو ذات ہے وہ فقط رحمت ہی رحمت ہے، آج روضہ رسول پر جانے کا وقت ہے، آج روضہ رسول بند نہیں ہونا چاہیے تھا، خدا کی شان بے نیازی میں کمی نبی کے روضے پر جا کے لائی جا سکتی تھی! ایک طرف بے نیازی چل رہی ہو دوسری طرف روضہ بند ہو تو پھر قیامت ہو گی اور ضرور ہو گی!

فرشتے کام آئیں اور یہ سب میرے نبی کو بتائیں اور وہ رب کو منوائیں تاکہ رب امت کے حال پر رحم کرے –

دکھ ہے جو بیان اور ضبط سے باہر ہے –

زِرحمت کُن نظر برحالِ زارم یا رسول اللہ ﷺ
غریبم، بے نوایم، خاکسارم یا رسول اللہ ﷺ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے