کراچی آپریشن – ایک تاثر

میں حال ہی میں کراچی گیا اور چاہتے نہ چاہتے جاری آپریشن کا تجزیہ کیا. کچھ مشاہدات کئے اور کچھ واقعات سنے. چونکہ میرا یہ سفر مختصر تھا لہٰذا میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپریشن کی صداقت کو میں کس درجہ تک جان پایا مگر پھر بھی اپنے احساسات آپ سب سے بانٹنا چاہوں گا.

اس بارے میں کوئی دو رائے موجود نہیں ہیں کہ آپریشن کی وجہ سے اس وقت کراچی میں امن و امان کی صورت بہت بہتر ہے. قتل و غارت، ڈاکہ زنی، گینگ وار اور بم دھماکوں جیسی وارداتوں میں واضح کمی آئی ہے. نتیجہ یہ ہے کہ کاروبار رات گئے تک کھلے ہیں اور شہری پہلے کی نسبت کہیں زیادہ محفوظ ہیں. اس بہتری کا انکار آپریشن کے مخالف بھی نہیں کرتے. گو ان مخالفین کا کہنا یہ ہے کہ یہ تبدیلی عارضی اور مصنوعی ہے. انہیں خدشہ ہے کہ آپریشن میں اپنائے گئے غلط طریق کی وجہ سے مستقبل قریب میں حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو جائیں گے. آپریشن کے حامی یہ دعا کر رہے ہیں کہ بس یہ آپریشن رکے نہیں بلکہ مسلسل سالوں سال چلتا رہے. یہاں تک کے جرائم پیشہ افراد دم توڑ جائیں. اب آپریشن کے مخالفین کے خدشات درست ہیں یا پھر آپریشن کے حامیوں کی خواہش. اس کے بارے میں خامہ سرائی سے زیادہ کچھ اور ممکن نہیں.

آپریشن اس وقت تمام جرائم پیشہ گروہوں یا گینگز کے خلاف کسی نہ کسی درجہ میں ہو رہا ہے. مگر یہ سچ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں اس آپریشن کا خاص ہدف ایم کیو ایم بنی ہوئی ہے. یہ بات کسی کراچی کے رہائشی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ شہر میں موجود ہر سیاسی تنظیم اپنے ملٹری ونگز رکھتی ہے اور قتل و غارت یا بھتہ خوری جیسے اقدام میں ملوث ہے. ایسے میں صرف ایم کیو ایم کو نشانہ بنانا ، ان کے حامیوں میں غصہ اور تنظیم کے لئے محبت پیدا کر رہی ہے. دوسری اہم بات جو ایم کیو ایم کے حق میں جارہی ہے وہ اس وقت صفائی کی ابتر صورتحال ہے. کراچی شہر شائد اپنی پوری تاریخ میں اتنا مخدوش اور گندا نظر نظر نہیں آیا ہوگا جتنا کہ وہ آج ہے. لہٰذا جہاں شہری امن و امان کی وجہ سے خوش ہیں ، وہاں گندگی کے ڈھیروں کی وجہ سے شدید نالاں بھی ہیں. کوڑے کے ڈھیر ، ابلتے گٹر، ٹوٹی سڑکیں اور بے ہنگم ٹریفک .. ہر شہری کو مصطفیٰ کمال کی یاد دلا رہی ہے جس نے ایم کیو ایم کا میئر بن کر اس شہر کو صفائی اور ترقی کا نمونہ بنا دیا تھا. ایم کیو ایم ان ہی دو باتوں کو اب بلدیاتی الیکشن میں نفسیاتی طور پر کیش کروا رہی ہے. اس کی پوری الیکشن کمپین کچھ اس قسم کے بینرز پر مبنی ہے: "مئیر تو اپنا ہی ہونا چایئے!” … "ووٹ تو اپنوں کو ہی دینا چاہیئے” وغیرہ . لہٰذا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ آنے والے الیکشن میں کلین سویپ کرے گی.

دھیان رہے کہ میں یہاں ایم کیو ایم کا دفاع نہیں کر رہا بلکہ میں خود ان کا شدید ناقد ہوں. لیکن اسوقت مقصد تنقید نہیں بلکہ اپنا دیانتدارانہ مشاہدہ آپ تک پہنچانا ہے. میں یہ بھی نہیں کہہ رہا کہ جرائم پیشہ عناصر کی بلاتفریق سرکوبی نہیں کی جارہی بلکہ میں یہ بتا رہا ہوں کہ ‘سیاسی’ جماعتوں میں آپریشن کا خصوصی ہدف اسوقت ایک ہی جماعت ہے. وہ مجرم جو سیاسی نہیں بلکہ پیشہ ور ہیں، ان سب پر رینجرز موت بن کر منڈلا رہی ہے. جس کے بارے میں رینجرز کو یہ یقین ہوجائے کہ وہ عادی مجرم یا فسادی ہے تو اسے ماورائے عدالت گولی ماردی جاتی ہے یا نامعلوم مقام پر لے جاکر چھترول ہوتی ہے. کچھ واقعات اختصار سے عرض کر دیتا ہوں ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپریشن کی زد میں تمام غیر سیاسی حلقے یا قومیں شامل ہے.

میرے ایک قریبی دوست کے بتیس سالہ بھائی کو کچھ پٹھان مجرم اغوا برائے تاوان کے لئے اٹھا لے گئے اور بدنام پٹھان علاقے الاصف اسکوائر میں ہاتھ پاؤں باندھ کر قید کر دیا. گھر والو سے تاوان مانگا گیا مگر اسی رات یہ لڑکا ان کے چنگل سے بھاگ نکلا. رینجرز نے اسے اگلے روز بلایا اور شناخت کیلئے کچھ تصاویر دکھائیں. لڑکے نے دو مجرموں کو شناخت کیا مگر اس شرط کیساتھ کے وہ عدالت کے چکر میں نہیں پھنسنا چاہتا. رینجرز نے جوابی کہا کہ ہم آپ کو عدالت لے جانا بھی نہیں چاہتے ، آپ بس اخبار پڑھتے رہیئے گا. تین دن بعد ان دونوں اغوا کاروں کی لاشوں کی تصویر اخبار میں موجود تھی. میرے ایک قریبی رشتہ دار کے کئی کاروبار ہیں اور انہیں بھتہ کیلئے تین مختلف بلوچ بدمعاشوں کا فون آیا کرتا تھا. رینجرز نے تینوں کو مار ڈالا ہے. میرے بڑے بھائی کے دوست کو اندرون سندھ سے تاوان کی دھمکیاں دی گئیں ، اس نے رینجرز سے رابطہ کیا. کچھ دن بعد رینجرز کا فون آیا کہ ان ڈاکوؤں کو اندرون سندھ میں مار دیا گیا ہے. پھر کوئی فون نہ آیا. میرے ایک ایم کیو ایم سے منسلک اور سابقہ ذمہ دار رشتہ دار نے گلستان جوہر میں ایک تھانہ چوکی دکھا کر بتایا کہ اس کے سارے پولیس والو کو رینجرز اٹھا کر لے جاچکی ہے کیونکہ یہ جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرتے تھے.

ایسے کتنے ہی واقعات سننے میں آتے رہے، جن میں مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف کاروائی بھی شامل ہے. جس جس کو رینجرز اٹھا رہی ہے وہ یا تو جرائم پیشہ فسادی ہیں (بلاتفریق) یا پھر کسی پارٹی کے سیاسی ذمہ دار ہیں (زیادہ تر ایم کیو ایم). میری اپنی دیانتدارانہ رائے میں اس آپریشن کو پوری قوت سے اگلے پانچ سے دس سال جاری رہنا چاہیئے مگر اس کا دائرہ دیگر سیاسی جماعتوں پر بھی تنگ ہونا ضروری ہے جیسے شاہی سید یا پیپلز پارٹی وغیرہ کے بدمعاش. اسی طرح دیگر شہروں میں بھی بلا تفریق کاروائی ہو تاکہ کراچی کو سوتیلے پن کا احساس نہ ہو. دعا یہی ہے کہ الله پاک اس شہر کی رونقوں کو اور دوبالا کریں اور ہر فسادی کو جہنم واصل فرمائیں. آمین.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے