پوسٹ کرونا نظام تعلیم: امکانات و خدشات

[pullquote]حالیہ آنلائن تعلیمی سسٹم میں قباحتیں اور مستقبل[/pullquote]

کرونا وائرس نے جہاں دنیا بھر کی معیشت کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں وہی اس نے نظام تعلیم کو بھی زبردست دھچکا لگایا ہے۔ ونٹر بریک کے بعد جنوری میں نیا سیشن ابھی شروع ہی ہوا تھا کہ کرونا وائرس چین سے نکل کر دوسرے ممالک کی سرحدوں پر پہنچ چکا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس وائرس نے دنیا بھر کے نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق 16 مارچ 2020ء تک 73 ممالک میں تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے جس سے 500 ملین طلبہ و طالبات کا تعلیمی کیرئر متاثر ہو رہا ہے۔

چھٹیوں کی خبر سنتے ہی طلبہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور کئی ممالک کے طلبہ کی ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں وہ جشن مناتے اور کرونا کے حق میں نعرے لگاتے دکھائی دیے۔ لیکن یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی اور متعدد ممالک نے جلد ہی ورچوئل ایجوکیشن سسٹم کو متبادل کے طور پر اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تعلیمی سال کو گھسیٹنے کا عمل شروع کر دیا۔ لیکن اس پر عمل درآمد کوئی آسان کام نہ تھا، بہت سی رکاوٹیں اس نظام کی راہ میں بھی حائل ہوئیں جنہیں دیکھتے ہوئے پاکستان سمیت بیشتر ترقی پذیر ممالک نے مکمل تعطیلات کا اعلان کر دیا اور ان چھٹیوں کو گرمی کی چھٹیوں سے بدل دیا۔

ان رکاوٹوں میں سب سے پہلی ا ور اہم رکاوٹ بہت سے تعلیمی داروں کے پاس آئی ٹی کی ٹیم کا نہ ہونا تھا جو انہیں ایسا سسٹم وضع کرنے میں مدد دے سکتی۔ اور اگر آئی ٹی ٹیم میسر تھی تو بہت سے اساتذہ کرام آنلائن تدریس سے کچھ خاص واقف نہیں تھے، اس کے علاوہ انٹر نیٹ کی فراہمی اور سپیڈ کے مسائل بھی درپیش تھے، دوسری طرف گھر کی دہلیز پر تعلیم صرف ایسے طلبہ کو ہی میسر آ سکتی تھی جن کے پاس لیب ٹاب یا کمپیوٹر کی سہولت ہے، سکول کی سطح کے طلبہ کی کثیر تعداد اس سہولت سے محروم ہوتی ہے۔

جن کے پاس یہ سہولت ہے اس کا تناسب بھی عمومایہی ہوتا ہے کہ ایک گھر میں ایک کمپیوٹر ہوتا ہے۔ اگر تین یا پانچ/چھ بہن بھائی زیر تعلیم ہیں تو انہیں بیک وقت اپنی اپنی کلاس کے لیے آنلائن ہونے کے لیے اتنے ہی سسٹم درکار ہیں۔ راقم کےبعض جاننے والے ایسے والدین بھی ہیں جنہوں نے بچوں کی تعلیم کےلیے مزید ایک یا دو لیپ ٹاپ خرید لیے ہیں لیکن کیا ایسا ہر ایک کے لیے ممکن ہے؟ انہیں مسائل کی بنا پر مشرق وسطی کے بعض ممالک میں "فاصلاتی نظام تعلیم نامنظور” کے ہیش ٹیگ سے باقاعدہ ٹویٹر پر مہم چل رہی ہے اور لبنان میں گرتی ہوئی معیشت اور بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے آنلائن تعلیمی سسٹم بری طرح ناکام ہو چکا ہے البتہ قطر، سعودی عرب اور عمان سمیت خلیجی ممالک میں یہ نظام کافی حد تک کامیاب جا رہا ہے۔

مذکورہ مسائل کے پیش نظر اردن نے ایک آسان اور قابل عمل متبادل پیش کیا ہے جس کے مطابق انٹرنیٹ کے دور سے پہلے کے فاصلاتی نظام تعلیم کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہےاور تعلیم کے لیے ایک چینل مختص کر دیا گیا ہے جس پر ہر کلاس کے لیے ٹائم ٹیبل کا اعلان کر دیا جاتا ہے اور شام کے اوقات میں وہی دروس مکرر ٹیلی کاسٹ کیے جاتے ہیں۔ یہ کام اس امر کا متقاضی ہے کہ پاکستان میں بھی نوے کی دہائی میں رائج اس سسٹم کا احیا کیا جائے ۔ حکومت وقت اس پر توجہ دے اور پی ٹی وی نیوز اور پی ٹی وی سپورٹس کی طرح پی ٹی وی ایجوکیشن چینل بھی شروع کرے، ایسے تعلیمی چینل کی معروضی حالات کے علاوہ بھی اشد ضرورت ہے جہاں سائنسی جدت، تاریخی حقائق اور جغرافیا و فلسفہ کے مباحث زیر بحث لائے جائیں اور قوم کو علم کے زیور سے بہرور کیا جائے، علاوہ ازیں پرائیویٹ چینلز بھی اس طرف توجہ دے سکتے ہیں لیکن ان کا دائرہ محدود ہے اور صرف وہی علاقے اس سے مستفید ہو سکتے ہیں جہاں کیبل دستیاب ہے جبکہ پی ٹی وی کی رسائی ملک کےطول و عرض میں ہے۔

رہا سوال ہوم ورک اور اسائنمنٹس کا تو اس کے لیے آنلائن پورٹل کے ذریعے اپنے سکول سےرابطہ رکھا جا سکتا ہے تاکہ ہر سکول کے بچے اپنے اساتذہ کو سکول پورٹل ک ذریعے اپنا کام بھیجتے رہیں، جن سکولوں میں پورٹل سسٹم نہیں ہے وہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اسائنمنٹس سسٹم کو فالو کر سکتے ہیں جس کے مطابق ایک ہفتہ یا دو ہفتوں میں مکمل کیا جانے والا کام بذریعہ ڈاک متعلقہ استاد یا سکول کے پتے پر روانہ کر دیا جائے جہاں اساتذہ کرام مختلف دنوں میں جا کر تصحیح کر یں اور غلطیوں کی نشاندہی کر کے واپس بھیج دیں۔

حالیہ دنوں میں شروع ہونے والے ورچوئل سسٹم کے فروغ تعلیم پر مثبت یا منفی اثرات پر بحث کے بعد اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ پوسٹ کرونا نظام تعلیم کیا ہو گا؟ جب حالات معمول پر آ جائیں گے تو کیا ہمارا نظام تعلیم جوں کا توں بحال ہو جائے گا یا نسل نو کو مستقل طور پر ورچوئل ایجوکیشن سسٹم کے تحت اپنا تعلیمی سفر جاری رکھنا ہو گا؟

اپنا خیال تو یہی ہے کہ روایتی تعلیمی نظام ایک پڑاؤ تھا جسے کرونا نے ایک نئی منزل دکھا دی ہے، اب روایتی تعلیمی سسٹم کی طرف واپسی عارضی ہو گی اور اس وقت تک انفارمیشن ٹیکنالوجی حالیہ دنوں میں ہونے والے فاصلاتی تدریسی نظام کے متعدد اور مختلف النوع تجربات سے گزرنے کے بعد ایک مستحکم پوزیشن پر کھڑی ہو چکی ہو گی، اساتذہ و طلبہ کی اس سسٹم سے غیریت و اجنبیت بھی نہ صرف معدوم ہو چکی ہو گی بلکہ ورچوئل ایجوکیشنل سسٹم سے وہ کافی حد تک مانوس ہو چکے ہوں گے۔ ایسے میں واپسی کا سفر مشکل دکھائی دیتا ہے، تعلیمی اداروں کی سرکردہ شخصیات کو اس پہلو پر غور کرنا ہو گا اور ابھی سے اس کے لیے کام شروع کرنا ہو گا۔

دوسرے لفظوں میں آنلائن تعلیمی سسٹم کو وقتی ضرورت سمجھ کر نہ اپنایا جائے کہ جیسے کیسے وقت گزر جائے بلکہ اس کے مستقل جاری رہنے کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل المیعاد منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ راقم کی رائے میں پوسٹ کرونا نظام تعلیم کا انحصار ٹیکنالوجی پر بڑھ جائے گا اور ہر گھر میں جتنے بچے ہوں گے ان کے لیے اتنے ہی سٹڈی روم یا کم از کم لیپ ٹاپ ہوں گے ، اور پڑھانے والوں کا بھی کسی خاص ادارے سے منسلک ہونا ضروری نہیں ہو گا بلکہ فری لانسر اساتذہ کی تعداد زیادہ ہو گی، اس طرح ادارہ نہیں بلکہ استاد دوبارہ سے مرکزی حیثیت اختیار کر جائے گا جیسا کہ ماضی میں تھا اور طلبہ کسی خاص علم یا فن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے کسی ماہر علم وفن کے پاس میلوں سفر کی مشقت اٹھا کر جاتے تھے، طلبہ کی سہولت کے پیش نظر ہی ایک ہی چار دیواری میں تمام ضروری علوم و فنون کے ماہرین کو جمع کر کے تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اب جبکہ طلبہ کو گھر بیٹھے حصول علم کی سہولت حاصل ہو چکی ہو گی تو وہ کیونکر دوبارہ گھروں سے نکلنے پر آمادہ ہوں گے جبکہ اساتذہ کو بھی اس طریقے سے زیادہ محنتانہ ملنے کی توقع ہو؟

اس لیے اساتذہ کرام کو اپنے سبجیکٹ پر مہارت کے ساتھ ساتھ حسب ضرورت یا شاید زائد از ضرورت ٹیکنالوجی کے فہم پر بھی توجہ دینا ہو گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے