برادرانِ ملت ۔ دا چا ڈزے اوکڑے؟اولہ…

پاکستان زندہ باد، قائد اعظم زندہ باد …بس اِس کے سوا کوئی اور نعرہ نہیں لگ رہا تھا، آواز ایک نہیںتھی، پچاس ہزار کے لگ بھگ جوشیلی صداؤں نے کچھ الگ ہی سماں باندھ رکھا تھا … راولپنڈی کا معروف کمپنی باغ آج کسی اور ہی رنگ میں تھا لیکن ٹھیک شام 4بجکر20 منٹ پر پاکستان کے پرچم کا سبزہ، لہو کی سرخی میں بدلنے والا تھا اور پھر اجل کا وقت آن پہنچا …1951میں کسی کو نہیں معلوم تھا لیکن وقت نے جیسے ہی وقت محفوظ کیا اُس وقت سے لے آج تلک یہ وقت محفوظ ہی ہے …کہنے والی زبان نے ابھی صرف ’’برادرانِ ملت ‘‘ ہی کہا تھا کہ برادران کی صفوں ہی میں ’’چھپے‘‘ ایک ’’برادر‘‘ نے چادر اُتاری، سامنے آیا اور پستول نے نفرت کی دو گولیاں عین دل پر چلا ڈالیں …برادرانِ ملت کہنے والا لڑکھڑایا اور پھر اُسی اسٹیج پر گر پڑا جہاں بلندیاں اُسے تھامنے کو بے تاب تھیں مگر چند گِرے ہوئے یہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ بلند ہو …اِسی دوران کوئی پشتو میں تحکمانہ انداز میں چلایا ’’ دا چا ڈزے اوکڑے؟ …اولہ‘‘ (گولی کس نے چلائی ؟ …مارو اُسے) …تاریخ نہیں جانتی یہ حکم سفر شہادت کے مسافر کی محبت میں دیاگیا تھا یا پھر سراغ مٹانے کی جلدی تھی؟لیکن نتیجہ یہی نکلا کہ سرکاری پستول سے یکے بعد دیگرے پانچ گولیاں بجلی کی طرح قاتل کے جسم میں سرایت کر گئیں …اسٹیج پر لہو میں لت پت بہادر شخص کا پہلا جملہ تھا ’’مجھے گولی لگی ہے‘‘ پھر کلمہ طیبہ کا مکمل ورد اور پھر اُس کے بعد وطن کے لئے شہید کی آخری دعا’’خدا پاکستان کی حفاظت کرے‘‘ اور اِس کے ساتھ ہی قائد ملت نواب زادہ خان لیاقت علی خان کی شمع حیات کی لوآخری بار زور سے پھڑپھڑا کر ہمیشہ کے لئے بجھ گئی …
گولی چلانے والے ہاتھ سید اکبر کے تھے لیکن دماغ کس کا تھایہ دماغوں میں ایک سوال ہی بن کر رہ گیا ہے البتہ پشتو میں دیا گیا حکم ایس پی نجف خان اور اُس پر عمل درآمد کا ’’اعزازــانسپکٹر محمد شاہ کو تاریخ کے اوراق میں اُن کی ’’آخری شناخت ‘‘ کاباب دے گیا …مجھے نہیں معلوم کہ 1951کے کمپنی باغ میں جسے اب لیاقت باغ کہا جاتا ہے میرے ملک کے عظیم رہنما اور وزیراعظم کو کس نے قتل کیا لیکن اُن کا دوسری بار قتل کس نے کیا میں اُن ہاتھوں سے بھی واقف ہوں اوراُس دماغ سے بھی انجان نہیں،لیاقت علی خان شہید اِس لحاظ سے خوش نصیب ہیں کہ اُن کا پہلا قتل بھی ’’نفرت و بغض‘‘کے ستائے بیمار دلوں اور سڑاند چھوڑتے دماغوں نے کیا اور اب 2016میں اُن کے ایک اور قتل کے پیچھے بھی نفرت کے جنمے ’’نئے بچے‘‘ ہیں جنہوں نے اپنے بڑھاپے کے ساتھ ساتھ عداوت کو بھی بوڑھا، عیار اور تجربہ کار بنالیا ہے …
سماعتوں کو کتنا عجیب لگتا ہے جب بدعنوانیوں کو ’’نئے عنوان‘‘ دینے والے اپنی نہ چھٹنے والی عادتوں سے ’’برأت‘‘ کا پُر فریب اعلان کریں …گناہوں سے شناسائی کے باوجود پارسائی کے مکارانہ دعوؤں میں صنعت ِ حسن مبالغہ کو بھی شرمانے پر مجبور کردیں … جن کا رواں رواں رشوت اور لوٹ مارکے لئے نہ ختم ہونے والی حیات کا طالب ہو اور اِس کے لئے نہ صرف جواز گھڑتا ہو بلکہ ازخودبھونڈے دلائل کی بلند وبالا عمارت کھڑی کرکے اُس کی چھت پر کھڑے ہوکر اپنی چیخ و پکار سے آسمان بھی سر پر اُٹھانے پریقین رکھتا ہو … رینجرز کو اختیارات نہ دئیے جانے کی جس کی یہ دلیل ہو کہ ’’ رینجرز والے تو امن و امان بہتر بنانے آئےتھے، کرپشن ختم کرنا تو اِن کا کام نہیں تھا‘‘ اور صرف یہی نہیں بلکہ کیا ہی منفردعقلی توجیہہ پیش کی گئی ہے کہ ’’کیا دیگر صوبوں اور وفاق میں کرپشن ختم ہوگئی ہے جو سندھ کا رُخ کیاگیا ہے ‘‘یعنی ہم ’’بدوں‘‘ کو صرف فلاح کا عنوان ہی رہنے دو، ہمارے رِستے پھوڑوں کی تشہیر کر کے ہماری بدعنوانی کو عام نہ کرو کیونکہ بدعنوان صرف ہم نہیں بلکہ لیاقت علی خان بھی تھے، ابتدا تو اُن ہی کے دور سے ہوئی ہے نا تو پھر کارروائی بھی وہیں سے شروع ہونی چاہئے …لٹیروں میں جان پہچان ’’قائم‘‘ ہوئے ابھی عرصہ ہی کتنا ہوا ہے کہ آپ تعلق کی ’’جڑ‘‘ کو ہی کاٹ دینا چاہتے ہیں، خبردار جو اِس حقیقت کو لمحہ بھر کے لئے بھی فراموش کیا کہ ’’آپ صرف تین برس کے لئے ہیں اور ہم ہمیشہ رہیں گے ‘‘ …ہمارے اِس متکبرانہ جملے سے بھی آپ کو اندازہ نہیں ہوتا کہ جو ٹولہ اللہ سےلڑنے(معاذ اللہ) کو تیار ہو اُسے ’’خاکی‘‘ کیا ڈراسکیں گے ؟اجی آپ تو ہماری ’’چڑیا‘‘ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے توپھر اُس کا کیا اُکھاڑ لو گے جو اسم بمسمی عاصم ہے یعنی بچانے والا!!

انکار نہیں کہ اللہ ہی بچانے والا ہے لیکن اِس وقت عاصم اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے ’’کسی ‘‘ کو تن دہی سے ’’بچانے ‘‘ میں جتا ہوا ہے کاش کہ کوئی اُسے یہ بتا سکتا کہ تم صرف بچا سکتے ہوں بچ نہیں سکتے …خیر جانے دیجئے! میرا لینا دینا تو اِس سے بھی نہیں کہ کون بچتا ہے اور کون ’’بچ نکلتا‘‘ ہے بس درخواست صرف اتنی ہے کہ اپنے ’’ذنوب‘‘ کی دماغ پھاڑ دینے والی بدبو کے ساتھ لیاقت علی خان کی شہادت کے معطر چمن میں گھسنے سے پرہیز کیجئے …لُوٹنا آپ کی عادت،مال دیکھ کر رال ٹپکانا آپ کی فطرت اور قومی خزانے ہضم کرنا آپ کی حقیقت ہی سہی لیکن اب اتنے برسوں بعد اُس انسان کے پاک دامن پر الزامات کی پیکیں پھینکنے سے اجتناب برتیے جس نے آپ کے برتنے کے لئے آپ کوپاکستان دیا …

میری والدہ محترمہ محمودہ سلطانہ (غوثیہ بیگم) نواب زادہ خان لیاقت علی خان کی دوسری اہلیہ بیگم رعنا لیاقت علی خان کی قریبی ساتھی تھیں اور وہ اکثر و بیشتر ہمارے گھر رہنے آیا کرتی تھیں، امی بتاتی تھیں کہ لیاقت علی خان کی والدہ کا نام بھی محمودہ بیگم تھا اور بیگم رعنا لیاقت علی خان گھنٹوں امی سے قائد ملت کی سنہری یادوں کو ترو تازہ رکھنے کے لئے باتیں کرتی رہتی رہتی تھیں … یہ وہی رعنا لیاقت علی خان ہیں جنہوں نے آل پاکستان ویمن ایسوسی ایشن (اپوا) کی بنیاد رکھی کیونکہ بنیادی طور پر آپ ایک بہترین ماہر معاشیات تھیں اور اِسی بنا پر خواتین کے لئے ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کو اپنی زندگی کا اولین مقصد قرار دیتی تھیں …وہ کچھ عرصہ سندھ کی گورنر بھی رہیں اورہالینڈ اور اٹلی میں سفیر کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دیئے …1990میں جب اُن کا طویل علالت کے بعد انتقال ہوا تو امی جان بجھ کر رہ گئی تھیں …یہ وہ زمانہ تھا جب میں پری میڈیکل امتحانات سے فارغ ہونے کے بعد میڈیکل کالج میں داخل ہوا تھا اور امی کے پاس اب زیادہ وقت گزارنا ممکن نہیں تھا کیونکہ مجھے لیاقت میڈیکل کالج(جو کہ اب یونی ورسٹی کا درجہ حاصل کرچکاہے ) جانا پڑتاتھاجو جامشورو میں واقع ہے …البتہ امی کے سانحہ ارتحال سے پہلے تک جن کا ذکر اُن کی زبان پر زیادہ رہا وہ بیگم رعنا لیاقت علی خان کے سوا کوئی اور نہ تھا اُن ہی کی زبانی کرپشن کے بے تاج بادشاہوں کو چند یادیںسنانا چاہتا ہوں کیونکہ شہادت کے وقت لیاقت علی خان کی قمیص یا جیب میں سوراخ یا اُن کے موزوں کا پھٹا ہوا ہونا تو شاید’’سادگی ‘‘ کی علامت قرار دے کر جان چھڑا لی جائے لیکن اُن کی عظیم اہلیہ کی زبانی کچھ ’’یادیں‘‘ شاید ’’بوڑھے بازی گروں‘‘ کو رجوع الی اللہ کی منزلوں تک پہنچانے میں کامیاب ثابت ہوں …امی بتاتی تھیں کہ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے ایک دن اُن پر یہ انکشاف کیا کہ بھارت میں اپنی نوابی، جائیدادیں اور مال و دولت چھوڑ کر آنے والے لیاقت علی خان کی پاکستان میں ایک انچ زمین نہیں ہے (جو اُن کے نام سے ہو) اور نا ہی اُن کے خاندان کے کسی فرد کو مراعات کے نام پر الاٹ کی گئی ہو جبکہ اُن کا کوئی ذاتی بینک اکائونٹ تک نہیں تھاصرف ایک سرکاری اکاؤنٹ تھا جس میں اُن کی تنخواہ آیا کرتی تھی اور وہ بھی قرضوں کی ادائیگی کے دوران ختم ہوجاتی تھی … جس دن آپ کی شہادت ہوئی اُس دن آپ کے اکاؤنٹ میں اتنی رقم بھی نہیں تھی کہ تجہیزوتکفین کا انتظام ہوسکے بلکہ بیگم صاحبہ نے تو یہ بتایا کہ وہ ناظم آباد میں واقع ایک کریانہ اسٹور اور اپنے درزی جناب حمید اللہ کا قرض ادا کئے بنا شہید ہوئے جسے اُن کی شہادت کے تین ماہ بعد ادا کیاگیا …

سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اُس وقت کے وزیراعظم کے لئے حکومت نے اُسی کے ’’وزیراعظم ہاؤس‘‘میں ’’شکرکا کوٹا‘‘ جی ہاں شکر کا کوٹا ’’شوگر مل‘‘ کوٹا نہیں بلکہ استعمال کے لئے چینی کا کوٹا مقرر کر رکھا تھا جو مہمانوں کی آمد کے سبب اکثر مہینے کی آخری تاریخوں میں ختم ہوجاتا تھا لیکن قائد ملت اور اُن کے اہل خانہ نےاختیار کے باوجود اُس میں اضافے کے بجائے ’’پھیکی چائے‘‘ پر ہی اکتفا کرنے کو ترجیح دی حالانکہ لیاقت علی خان چائے میں میٹھا زیادہ پسند فرماتے تھے … امی نے یہ بھی بتایا کہ بیگم صاحبہ نے ایک دن ذرا ناراضی سے قائد ملت سے کہا کہ آپ اپنا گھر تو کم از کم بنا لیجئے اور پرانے کپڑوں کو بار بار پہننا بند کیجئے کیونکہ آپ سے بہتر کپڑے تو ملازمین کے پاس ہیں جس پراُنہوں نے جواب دیا کہ میں جب بھی مکان بنانے کا سوچتا ہوں تو خیال آتا ہےکہ کیا پاکستان میں سب کے پاس مکان ہے؟اِسی طرح کپڑے لینے کا سوچتا ہوں تو یہیں آکر رک جاتا ہوں کہ کیا میرے وطن کے لوگ اب اِس قابل ہوچکے ہیں کہ سب اپنےلئے کپڑے خرید سکیںلیکن جوابات نفی میں ملتے ہیں پھر تم ہی بتاؤ کیسے مکان بناؤں اور کس دل سے اپنے لئے نیا لباس خریدوں، یہ مجھ سے نہیں ہوسکے گا …!!!!

بشکریہ روزنامہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے