خیبرپختونخوا کے میگا پراجیکٹ بی آر ٹی کیلئے حکومت نے ایشائی ترقیاتی بینک اور فرانسیسی امدادی ادارے سے 40کروڑ 83لاکھ 84ہزار ڈالرز اور سات کروڑ 50لاکھ یوروز کا قرضہ لیا تھا ، قرضہ لیتے وقت پاکستانی روپوں میں ان ڈالرز اور یوروز کی مجموعی مالیت 53ارب 32کرو ڑ روپے تھی تاہم روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے باعث اس قرضے کی مالیت 27 ارب روپے بڑھ کر 80ارب 86 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے اور خدشہ ہے کہ جب اس کی ادائیگی کا آغاز ہوگا اس میں مزید اضافہ ہوگا۔
[pullquote]بی آر ٹی کیلئے کل کتنا قرضہ لیا گیا تھا؟[/pullquote]
خیبرپختو نخوا حکومت نے 2016ء بی آر ٹی کی تعمیر کیلئے ایشائی ترقیاتی بینک سے رابطہ کیا طویل مذاکرات کے بعد 2017 ء میں ایشائی ترقیاتی بینک نے بی آر ٹی کے اصل پی سی ون کے تحت صوبائی حکومت کو 40کروڑ امریکی ڈالرز کا قرضہ دیا، یہ قرضہ خیبرپختونخوا حکومت نے فی ڈالر 104روپے 70 پیسے کے حساب سے وصول کیابعد میں منصوبے کی پی سی ون میں تبدیلیاں کی گئیں اور ایشائی ترقیاتی بینک نے 83لاکھ 84 ہزار امریکی ڈالرز 112 روپے فی ڈالر کے حساب سے خیبرپختونخوا حکومت کو ادا کئے۔ صوبے کے اس میگا پراجیکٹ کی ابتدائی مالیت 49 ارب روپے لگائی گئی تھی تاہم پی سی ون پر نظر ثانی کے بعد مالیت 56 ارب روپے تک پہنچ گئی لیکن منصوبے کے چند مقامات پر توسیع کے باعث صوبائی حکومت کو مزید رقم کی ضرورت پیش آئی اور صوبائی حکومت نے ایک مرتبہ پھر ایشائی ترقیاتی بینک کے توسط سے فرانسیسی امدادی ادارے اے ایف ڈی سے سات کروڑ 50 لاکھ یوروز 140 روپے فی یورو کے حساب سے وصول کیا۔ یوں مجموعی طور پر خیبرپختونخوا حکومت نے بی آر ٹی کیلئے 53 ارب 32 کروڑ روپے کا قرضہ وصول کیا۔
اس منصوبے کی تکمیل پر 67ارب روپے کی لاگت آئی۔ منصوبے میں 13ارب روپے صوبائی حکومت نے اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے ادا کئے ۔
[pullquote]قرضے کی واپسی کیسے ہوگی؟؟؟[/pullquote]
خیبرپختونخوا حکومت نے ایشائی ترقیاتی بینک سے 2017-18ء میں قرضے کی وصولی شروع کی۔ معاہدے کے تحت قرضے میں پانچ سالہ گریس پیریڈ دیا گیاہے جس کے بعد 2023ء سے خیبرپختونخوا حکومت 20اقساط میں 2042 ء تک بی آر ٹی کیلئے لئے گئے بین الاقوامی قرضے کی ادائیگی شروع کریگی۔ صوبائی حکومت نے یہ قرضہ ایک فیصد شرح سود پر حاصل کیا ہے اور یہ رقم ڈالرز اور یوروز میں ہی ادا کی جائیگی۔ پاکستان میں اگست کے آغاز پر ڈالر کی قیمت پاکستانی روپوں میں 162روپے تک پہنچ گئی ہے جس کے باعث رواں ماہ بی آر ٹی کیلئے لئے گئے قرضے کی مالیت میں 27 ارب روپے کے اضافے کے بعد کل رقم 80 ارب 86کروڑ 95 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت دو سال بعد بین الاقوامی قرضے کی ادائیگی ڈالرز اور یورز میں کریگی اگر پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی واقعہ ہوتی ہے تو اس قرضے کی مالیت میں 80روپے سے بھی زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق اس وقت اصل زر 80 ارب 86 کروڑ روپے ہے شرح سود کی وجہ سے اس کی ادائیگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ صوبائی حکومت کے مطابق صوبے کے اس میگا پراجیکٹ کو کوئی سبسڈی نہیں دی جائیگی لیکن ساتھ ہی یہ دعوی بھی کیا جارہا ہے کہ مسافروں کے ٹکٹوں سے حاصل ہونیوالی رقم کے ذریعے صوبائی حکومت قرضے کی ادائیگی کریگا۔ بی آر ٹی پشاور میں روزانہ اوسطاً ایک لاکھ 75 ہزار مسافر سفر کرتے ہیں منصوبے کے پی سی ون کے تحت اگر چار لاکھ 50ہزار مسافر روزانہ بی آر ٹی کے ذریعے سفر کریں گے تو منصوبہ اپنی لاگت کو برداشت کرسکتا ہے۔