افغانستان، 180 سالہ تاریخ کو دہرایا گیا

افغانستان میں 180سال بعداسی تاریخ کو دہرایاگیاجو1842ءمیں انگریزوں کی ایسٹ انڈیاکمپنی کوشکست دیکر افغانیوں نے واپس اپنی حکومت بحال کی تھی 2021ءمیں طالبان نے افغان حکومت سے کنٹرول لیکرملک کے بیشترحصوں پرقبضہ کرلیا لیکن اس سے قبل امریکہ اور نیٹوفورسز نے 2001ءمیں طالبان کی حکومت کو ختم کرکے حامدکرزئی کو افغانستان کا نیاصدرنامزدکیاہے افغانستان کی تاریخ میں آج بھی پہلی اینگلوافغان وار 1842کو حقیقی آزادی کی جنگ تسلیم کرتے ہیں اورافغان باشندوں کوخیال ہے کہ اس شکست سے برطانیہ کو منہ کی کھانی پڑے گی۔

پہلی اینگلوافغان جنگ میں کیاہواتھا۔۔؟

برطانیہ کی ایسٹ انڈیاکمپنی نے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں راجپوتوں،برہمن اوردیگرقومیت کے علاوہ سکھوں کےساتھ مل کر افغانستان پرحملہ کیا اسوقت جنگی لشکرمیںافغانستان کے سابق حکمران شاہ شجاع الملک درانی بھی شامل تھے شاہ شجاع الملک درانی 1803سے1809ءتک کابل کے حکمران تھے جنہیں انکے قریبی رشتہ دار محمودشاہ درانی نے معزول کردیاتھا اس کے بعد1818ءتک بارکزئی خاندان کے دوست محمدخان نے محمودشاہ درانی کوشکست دیکر اقتدارپرقبضہ کرلیا 1823سے1839تک افغانستان میں برسراقتداررہنے والے دوست محمدبارکزئی کو 1839ءمیں شاہ شجاع الملک نے سکھوں اور ایسٹ انڈیاکمپنی کے تعاون سے ہٹادیا اورکابل پرقبضہ کرلیا لیکن فقط تین سال بعد افغانستان میں شاہ شجاع الملک کے خلاف بغاوت کاعلم بلندہوا ور افغانیوں نے انہیں قتل کردیا اوران کی جگہ وزیراکبرخان کو اقتدارکی مسندپربٹھادیا۔کابل میں مقیم ایسٹ انڈیاکمپنی نے مقامی افغانیوں کےساتھ ایک مفاہمت کی کہ انہیں بحاظت ہندوستان جانے دیاجائے کیونکہ ایسٹ انڈیاکمپنی کااصل مرکزہندوستان تھا 1842ءمیں شاہ شجاع حکومت کے خاتمے کے بعدکابل سے 18ہزار500افرادپرمشتمل لشکر روانہ ہوگیا اس لشکر میں 90فیصدسکھ ،راجپوت اوربرہمن تھے جن کا تعلق پنجاب،بہاراوراترپردیش سے تھا جب یہ لشکر کابل سے روانہ ہوا تومختلف مقامات پریہ افغانیوں کے حملوں کی زد میں آیا گندمک کے مقام پر افغانیوں نے اس لشکرپرایک بھرپورحملہ کیا اور صرف ایک برطانوی سرجن ڈاکٹربرائیڈن کو زندہ چھوڑاگیا جنہوں نے جلال آبادمیں سرحدپارکی برطانوی مورخ ریوجی اور گلیگ نے 1843ءمیں ایک تاریخی نوٹ حکومت برطانیہ کوبھیجی کہ برطانوی راج نے کابل میں ایک ایسا جنگ شروع کیا جوپوری برطانیہ کےلئے ہزیمت کاسبب بنا ور اس جنگ میں انہیں فائدہ کی بجائے نقصان اٹھاناپڑا۔1863ءمیں برطانوی وزیراعظم ہیرولڈمیک میلم جب اپنااقتدارنئے آنےوالے وزیراعظم ایلس ڈاﺅگلکس کوسونپ رہاتھا توانہوں نے ایک نوٹ لکھا کہ کبھی بھی افغانستان پرحملے کی کوشش نہ کرنایہ آپ کےلئے اچھاہوگالیکن اس کی نہیں مانی گئی اور1879ءمیں برطانیہ نے ایک مرتبہ پھر افغانستان پرحملہ کردیا۔

180سال بعدکیاہوا۔۔؟

کابل کاقبضہ حاصل کرنے کے بعد اگرچہ افغان طالبان کے امیرملاعمر قندھارمیں مقیم تھے لیکن اس کابل کاحکمران تسلیم کیاجاتاتھا لیکن اس بار تمام ترکردار 180سال کی نسبت بدلے تھے ایسٹ انڈیاکمپنی نے دوست محمدبارکزئی کوہٹانے کے بعد پوپلزئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے شاہ شجاع الملک کوافغانستان کا حکمران بنایا 2001ءمیں امریکہ نے نیٹوکے تعاون سے ملاعمرکوہٹاکر پوپلزئی قبیلے کے حامدکرزئی کواقتدارپربٹھادیا1841میں شاہ شجاع الملک کےخلاف جو بغاوت بلندہوئی اسکاآغازقندھارکے غلزئی قبیلے نے کیاتھاحیران کن امریہ ہے کہ ملاعمرسمیت بہت سے طالبان کا تعلق بھی غلزئی قبیلے سے تھا شاہ شجاع الملک کے پیچھے ایسٹ انڈیاکمپنی کھڑی تھی جوان کے تمام فوج کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی کرتی تھی 20سال تک امریکہ نے بھی افغانستان کے بیشتر فوجیوں اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کی ۔مورخ ویلیم ڈیل ریمپل کہتے ہیں کہ 2008ءمیں جب میری حامدکرزئی سے کابل کے محل ارگ میں ملاقات ہوئی تو حامدکرزئی نے مجھے بتایاکہ وہ شاہ شجاع الملک کی غلطیوں کو نہیں دہرائے گا اورواقعی اس نے وہ غلطیاں نہیں دہرائیں لیکن اس کے بعد اشرف غنی تواتر کے ساتھ ان ہی غلطیوں کو دوہراتارہا جوشاہ شجاع الملک نے180سال قبل کی تھیں ویلیم ڈیل ریمپل کہتے ہیں اشرف غنی نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھااپنے سخت رویے کے باعث انہیں اپنے اقتدارسے ہاتھ دھوناپڑاتودوسری طرف افغانستان بھی مکمل طو رپرطالبان کے قبضے میں چلاگیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے