ملک کے 7 نگران وزراء اعظم کون اور کن شعبوں سے تھے؟ جانیے!

لاہور: ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے 90 کی دہائی سے نگران حکومتوں کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، ملک میں اب تک 7 نگران وزراء اعظم اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

غلام مصطفیٰ جتوئی کو ملک کے پہلے نگران وزیر اعظم مقرر ہونے کا اعزاز حاصل ہے، ان کو اس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے 3 ماہ 1 دن کیلئے ملک کا نگران وزیر اعظم مقرر کیا تھا، وہ اس عہدے پر 6 اگست 1990 سے 6 نومبر 1990 تک فائز رہے، غلام مصطفیٰ جتوئی کا تعلق نیشنل پیپلز پارٹی سے تھا۔

ان کے بعد آنے والے نگران وزیر اعظم بلخ شیر مزاری تھے، انہوں نے 18 اپریل 1993 سے 26 مئی 1993 تک بطور نگران وزیر اعظم اپنی خدمات سر انجام دیں، بلخ شیر مزاری کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا، قومی اسمبلی کے اعدادوشمار کے مطابق وہ ملکی تاریخ میں سب سے کم عرصہ 1 ماہ 9 دن تک نگران وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہے۔

ملک میں تیسرے نگران وزیر اعظم منتخب ہونے والے معین الدین قریشی کی کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستگی نہیں تھی، انہوں نے اپنے پروفیشنل کریئر کا آغاز بطور سول سرونٹ پاکستان کیا تھا، بعد ازاں استعفیٰ دے کر پہلے آئی ایم ایف اور پھر ورلڈ بینک کو جوائن کر لیا، معین الدین قریشی نے 8 جولائی 1993 سے 19اکتوبر 1993 تک اپنی خدمات سر انجام دیں، یوں وہ 3 ماہ 12 دن پاکستان کے نگران وزیراعظم رہے۔

چوتھے نگران وزیر اعظم ملک معراج خالد کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا، ان کے بائیں بازو کے سخت گیر خیالات کی وجہ سے پارٹی سے اختلافات پیدا ہو گئے تھے، انہوں نے بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم ہونے کے بعد 6 نومبر 1996 کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالا، وہ 3 ماہ 12 دن پاکستان کے نگران وزیر اعظم رہے، اس عہدے پر ان کا آخری دن 17 فروری 1997 تھا۔

ملک میں پانچویں نگران وزیر اعظم محمد میاں سومرو کا تعلق مسلم لیگ (ق) سے تھا وہ بینکاری کے شعبے میں اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز رہے، وہ16 نومبر 2007 سے 24 مارچ 2008 تک ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ 4 ماہ 9 دن تک بطور نگران وزیر اعظم اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔

چھٹے نگران وزیر اعظم مقرر ہونے والے میر ہزار خان کھوسو کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں تھی، اس سے پہلے وہ وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس رہ چکے تھے، آئین کے آرٹیکل 224 کے مطابق وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے بعد پارلیمانی کمیٹی بھی کسی نام پر متفق نہیں ہوئی تھی جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان کا تقرر کیا تھا، انہوں نے بطور نگران وزیر اعظم اپنی خدمات کا آغاز 25 مارچ 2013 کو کیا تھا جبکہ 2 ماہ 12 دن اس عہدے پر اپنی خدمات سر انجام دینے کے بعد 5 جون 2013 ان کا آخری دن تھا۔

2018 میں آنے والے ساتویں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کا تعلق عدلیہ سے تھا وہ 31 جولائی 2004 سے 3 مئی 2005 تک پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جبکہ 6 جولائی 2014 سے 16 اگست 2015 تک عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس بھی رہے، اس کے علاوہ 30 نومبر 2013 سے 2 جولائی 2014 تک الیکشن کمشنر آف پاکستان کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

جسٹس (ر) ناصر الملک نے 2 ماہ 18 دن تک بطور نگران وزیر اعظم اپنی خدمات سر انجام دیں، ان کا پہلا دن بطور نگران وزیر اعظم یکم جون 2018 اور آخری 18 اگست 2018 تھا، وہ اس وقت کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی اتفاق رائے سے عہدے پر مقرر ہو ئے تھے۔

نگران وزیرِ اعظم کی نامزدگی اٹھارویں اور بیسویں ترمیم کے بعد تین مختلف طریقوں سے کی جاسکتی ہے، پہلا طریقہ کار جس کے مطابق آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 224 کے تحت قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف باہمی مشاورت سے ایک نام پر اتفاق کریں، جس کو صدرِ مملکت بطور نگران وزیر اعظم تعینات کریں گے۔

دوسرا طریقہ کار جس کے مطابق قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف کے درمیان نگران وزیرِ اعظم کیلئے کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں آئین کے آرٹیکل 224 اے کے تحت معاملہ سپیکر قومی اسمبلی کے پاس جائے گا جو آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے، اس کمیٹی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور وزیرِ اعظم دو دو نام دیں گے جبکہ سینیٹ یا قومی اسمبلی یا دونوں ایوانوں سے کل آٹھ اراکین اس کمیٹی کے ممبر ہوں گے۔

پارلیمانی کمیٹی تین دن میں نگران وزیرِ اعظم کے نام پر حتمی فیصلہ کرے گی تاہم اگر پارلیمانی کمیٹی بھی کسی ایک نام پر اتفاق نہ کر پائے تو آرٹیکل 224 کے تحت ہی معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس چلا جائے گا، پارلیمانی کمیٹی مجوزہ نام الیکشن کمیشن کے پانچ ممبران کو بھیجے گی، یہ ارکان 48 گھنٹوں میں فیصلہ کریں گے کہ نگران وزیر اعظم کون ہوگا۔

آئین پاکستان کی شق 213 کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کیلئے ضروری ہے کہ وہ سپریم کورٹ کا ریٹارڈ جج، سول بیورو کریٹ یا ٹیکنوکریٹ ہو، تاہم الیکشن ایکٹ 2017 اور آئین پاکستان کو دیکھا جائے تو نگران وزیر

اعظم کا تقرر کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے آئین کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق کیا جا سکتا ہے۔

بشکریہ دنیا نیوز

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے