ایسا لگتا ہے آنکھیں وہیں رہ گئیں
کوئی منظر نگاہوں کو بھاتا نہیں
زندگی کا بڑا حصہ سفر میں گزرا ہے۔ اتنے ممالک کے اتنے سفر کیے کہ اب کئی شہروں کے نام بھی ذہن سے اُتر جاتے ہیں۔ مگر مکہ، مدینہ، قاہرہ کی مسجدِ حسین، اور کربلا و نجف کے مزارات یہ آنکھوں سے نہیں ہٹتے۔ اِن کا نام آتا ہے تو دل تڑپ اُٹھتا ہے۔ اور اکثر و بیشتر واپسی پر دل کا درد بڑھتا چلا جاتا ہے، وہاں دوبارہ لوٹ جانے کی خواہش اور تڑپ مزید جنون اختیار کر جاتی ہے۔
مجھے سرکار ﷺ کی ہر اِک ادا پہ پیار آتا ہے۔ اور اِن شہروں کا معاملہ بھی عجیب ہے یہ دیکھے نہیں جاتے، دل میں گھر کر جاتے ہیں۔ وہاں انسان اِتنا مانوس محسوس کرتا ہے جیسے اِن شہروں سے کوئی بہت پرانی رفاقت ہو جیسے یہ پہلی ملاقات نہ ہو، کسی بچھڑے ہوئے سے دوبارہ ملنا ہو۔
ایک بار کا ذکر ہے، میں کہیں سے اڑتے اڑتے اچانک مدینہ منورہ پہنچ گیا۔ شاید دو دن یا اس سے بھی کم وقت تھا نہ ہوٹل بک کرنے کی فکر تھی اور نہ کسی دوست کے ہاں قیام کی خواہش۔ بس سیدھا اپنا بیگ اٹھایا، سرکارِ دو عالم ﷺ کے دربار میں جوتوں کی ایک مخصوص جگہ پر رکھا اور مسجدِ نبوی ہی میں قیام کو ترجیح دی۔ تھکن بے حساب تھی، فجر کی نماز پڑھ کر سو گیا، اور جب آنکھ کھلی تو مؤذنِ مسجدِ نبوی ظہر کی اذان پکار رہا تھا۔
میں جلدی سے اٹھا اور وضو کے لیے نکلا، تو بابِ سلام کے عین سامنے گنبدِ خضریٰ پر نظر پڑی۔ دل کے اسی تڑپتے درد کے ساتھ میں نے کہا: "السلام علیک یا رسول اللہ!” کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ مغرب یا عشاء کے بعد ہی واپس سفر پر نکل جانا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے در سے رخصت ہونے کا خوف اور درد دنیا کے ہر غم سے بڑا تھا۔ اسی لمحے دل کو محسوس ہوا جیسے سرکار ﷺ کی جانب سے کرم کی صدا آئی ہو: "وعلیکم السلام”۔ میری یہ اوقات کہاں، مگر دل و دماغ میں یہی سمایا کہ آقا ﷺ نے سلام کا جواب عطا فرمایا ہے۔ اس ایک تصور پر کروڑوں بار الحمدللہ! یہ سوچ ہی مجھ گنہگار کے زخمی دل پر مرہم رکھنے کے لیے کافی تھی۔ وضو کیا اور بارگاہِ رسالت میں حاضری دی۔
مدینہ منورہ کی فضاؤں میں، مسجدِ نبوی کے احاطے میں روزانہ ہزاروں زائرین کے ساتھ یہی ماجرا ہوتا ہے۔ دنیا بھر کے سفروں میں لوگوں کو اپنے گھروں کو لوٹتے ہوئے خوش دیکھا ہے، مگر صرف درِ نبی ﷺ اور درِ حسینؑ سے رخصت ہوتے وقت لوگوں کو دھاڑیں مار کر روتے دیکھا ہے۔ اور وہ کیوں نہ روئیں؟ کون بچھڑنا چاہے گا اِن درباروں سے؟ یہ کوئی دل بہلانے یا سیر و تفریح کی جگہیں تو نہیں ہیں یہ تو ان محبوب ہستیوں کے آستانے ہیں جہاں ہم دنیا کے ستائے ہوئے غریب پناہ لینے آتے ہیں۔
آخر جائیں تو کہاں جائیں؟ دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں تو اگر کسی کی آنکھوں میں غور سے دیکھ لو تو لوگ برا مان جاتے ہیں، مگر یہاں آنے سے ان آنسوؤں کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے اور اپنے گناہوں پر ندامت کا احساس بھی۔
سچ کہوں تو زندگی کی پہلی دو دہائیاں ”راک اسٹار“ بن کر گزریں۔ مگر وقت کے ساتھ سنجیدگی آتی ہے، اور یہ سنجیدگی انسان کی فکر و سوچ بدل دیتی ہے۔ جوانی کی بہت ساری عادتیں اور اعمال پیچھے مڑ کر دیکھو تو محض مذاق اور بےوقوفی لگتے ہیں۔ اور شاید ایک موڑ پر انسان کو یہ اندازہ ہو ہی جاتا ہے کہ اللہ پاک نے اُس کی تخلیق عبادت ہی کے لیے کی ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
(الذاریات: ۵۶)
اِن مزارات کا انسانی سوچ پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ ایک مثال دیتا ہوں۔
قاہرہ کی مسجدِ حسین میں حضرت امام حسین علیہ السلام و رضی اللہ عنہ کے مزار پر بیٹھ کر مجھے شدت سے اِس بات کا احساس ہوتا ہے کہ یہاں آنسو اور رونا بھی ایک غیر سنجیدہ عمل لگنے لگتا ہے۔ جس ہستی نے اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں دے دیا، اُس کے سامنے دو آنسو کیا حیثیت رکھتے ہیں؟ اُن کے سرِ مبارک کے احاطے میں بیٹھ کر میں اکثر یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ یہاں رویا جائے؟ خاموش بیٹھا جائے؟ یا آخر ایسا کیا کیا جائے کہ حضرتِ انسان، حسینؑ کے کردار اور اُن کی شجاعت کو نذرانۂ عقیدت پیش کر سکے؟
سمجھ نہیں آتا۔
شاید اِس سوال کا جواب اقبال عظیم برسوں پہلے دے گئے تھے، جب اُنہوں نے بارگاہِ رسالت ﷺ کے آداب یوں بیان کیے:
ان کی محفل کے آداب کچھ اور ہیں، لب کشائی کی جرات مناسب نہیں
ان کی سرکار میں التجا کے لیے، جنبشِ لب نہیں، چشمِ تر چاہیے
اور جو آداب نانا ﷺ کے دربار کے ہیں، وہی نواسے کے دربار کے بھی ہیں۔
میں وہاں گھنٹوں بیٹھا رہتا ہوں ہکا بکا، حیران پریشان، سوچوں میں گم۔ اور دنیا کے بارے میں سوچتا ہوں کہ جنت کے سردار کے ساتھ جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں (ترمذی) اگر اِس دنیا نے یہ رویہ برتا، تو ہم جیسوں کو تو اپنی آزمائشوں اور امتحانات کا ذکر زبان پر لانا ہی نہیں چاہیے۔ یہ دنیا واقعی اِس قابل نہیں۔ مگر پھر حضرتِ انسان اِسی دنیا میں گم ہو جاتا ہے۔
اور یہ عقل و دانش، جو اللہ نے عطا کی ہے، بار بار اِسی بات کا تقاضا کرتی ہے کہ زندگی کا مقصد رسولِ خدا ﷺ کی اطاعت اور اللہ کے احکامات کی پابندی ہے۔ باقی سب سفر ہے، منزل یہی ہے۔
نیویارک، ماسکو، ٹوکیو، برلن، وارسا، بیجنگ، ریاض، ٹورنٹو، ریگا، برسلز، اوسلو، پراگ اور پتا نہیں کن کن شہروں میں گھوما ہوں۔ دنیا کی ہر چکاچوند دیکھی، مگر دل کو قرار نہ ملا۔ مایوسی کے بعد اگر کہیں اُمید کی کرن دکھائی دی ہے، تو وہ یہی شہر ہیں، یہی مزارات ہیں۔ میں آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہاں دل کی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔
آنکھوں نے یہ سب شہر دیکھے، مگر اقبال عظیم سچ کہتے ہیں کہ مدینے کی گلیوں میں دیکھنے کے لیے کچھ اور درکار ہے:
سوزِ دل چاہیے، چشمِ نم چاہیے اور شوقِ طلب معتبر چاہیے
ہوں میسر مدینے کی گلیاں اگر، آنکھ کافی نہیں ہے نظر چاہیے
یہاں کوئی نااُمید خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ یہاں سے انسان پیسے نہیں، نصیب لے کر جاتا ہے۔ یہاں انسان اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے، اور اپنی نسبت پر فخر کرتا ہے۔
دنیا کے شیش محل دیکھ چکا ہوں، مگر دل کی تمنا وہی ہے جو اقبال عظیم نے کہی تھی، اور جو بچپن سے میرے دل میں بسی ہے:
میں گدائے درِ شاہِ کونین ہوں، شیش محلوں کی مجھ کو تمنّا نہیں
ہو میسر زمیں پہ کہ زیرِ زمیں، مجھ کو طیبہ میں اک اپنا گھر چاہیے
اور جب بھی اِن شہروں سے لوٹتا ہوں، تو یہی لگتا ہے آنکھیں وہیں رہ گئیں۔
اللہ اِن شہروں کی رونق تا ابد قائم رکھے، اور ہم فقیروں کا ناتا یہاں سے بندھا رکھے۔ آمین۔