ڈانڈے مینڈے پارک اوروہ نیک روحیں

کچھ رنگ مٹی کے ایسے ہوتے ہیں جو کبھی پرانے نہیں ہوتے، اور کچھ یادیں دل میں ایسی رچی بسی ہوتی ہیں جنہیں وقت کی تیز رفتار دھول بھی دھندلا نہیں سکتی۔ ہمارے پنجاب کی مٹی کی بھی اپنی ایک خاص خوشبو تھی، ایک ایسا دیسی سحر تھا جس میں میلوں کا شور، ڈھول کی تھاپ، کبڈی کے میدان کا جوش، لوک گیتوں کی مٹھاس اور کھیتوں کی پگڈنڈیوں کی معصومیت جھلکتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب انسان انسان سے جڑا ہوا تھا اور خوشیاں بانٹنے کے لیے کسی مصنوعی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔

لیکن آج بڑے دکھ اور افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ جدیدیت کی اندھی دوڑ، گلوبلائزیشن کے اثرات اور موبائل کی بے روح اسکرینوں نے ہماری اس خوبصورت اور جاندار ثقافت کو ہم سے چھیننا شروع کر دیا ہے۔ ہم ترقی کی روشن راہ پر تو شاید آگے بڑھ رہے ہیں، مگر اپنی اصل پہچان، اپنی جڑیں اور اپنی روایات پیچھے چھوڑتے جا رہے ہیں۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں مادی اشیاءتو بڑھ رہی ہیں، مگر وہ سچی مسکراہٹیں اور دیسی رونقیں غائب ہوتی جا رہی ہیں جو کبھی ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہوا کرتی تھیں۔

ابھی چند دن پہلے ہی ہمارے علاقے میں حضرت بابا شاہ نورؒ کا سالانہ میلہ اختتام پذیر ہوا ہے۔ یہ میلہ جو کبھی پورے علاقے کے لیے خوشیوں کا پیغام لاتا تھا، اس بار کیا تھا؟ بس ایک اداس اور بے رونق سا منظر تھا۔ مجھے اپنے بچپن اور جوانی کا وہ دور اچھی طرح یاد ہے جب میلے کا نام سنتے ہی دل اچھلنے لگتا تھا، بچوں کے چہرے خوشی سے تمتما اٹھتے تھے، لکڑی کے روایتی جھولے بچوں کے معصوم قہقہوں سے گونجتے تھے، موت کا کنواں دیکھنے کے لیے مرد و خواتین کا ہجوم ہوتا تھا اور مٹھائی کی دکانوں پر، جہاں گرما گرم جلیبیاں اور قتلمے بن رہے ہوتے تھے، پیر رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔

مگر افسوس! اس بار میلے کی وہ شان و شوکت بالکل غائب تھی۔ بچوں کے لیے نہ وہ روایتی جھولے نظر آئے، نہ وہ مداری کے کرتب تھے اور نہ ہی وہ پرانی گہما گہمی۔ دل یہ منظر دیکھ کر خون کے آنسو رویا کہ ہماری نئی نسل اپنی ہی مٹی کے رنگوں، اپنی دیسی خوشیوں اور اس تاریخی تہذیب سے کس طرح محروم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم اپنے بچوں کو ایک ایسی دنیا دے رہے ہیں جہاں رونق تو ہے، پر روح نہیں ہے۔

میلے کی یہ اداسی اور سنسان دکانیں تو اپنی جگہ تکلیف دہ تھیں ہی، مگر سب سے زیادہ دھچکا اور تکلیف مجھے کھیلوں کے میدان دیکھ کر ہوئی۔ پنجاب کے میلے تو صدیوں سے ہمارے روایتی کھیلوں کی اصل نرسری اور پہچان ہوا کرتے تھے۔ کبڈی صرف ایک کھیل نہیں، بلکہ ہمارے پنجاب کے گبرو جوانوں کی مردانگی، طاقت، جوش اور غیرت کا سب سے بڑا مظہر رہا ہے۔ جب میدان میں ڈھول کی تھاپ پر پہلوان اترتے تھے تو دیکھنے والوں کے سینے فخر سے چوڑے ہو جاتے تھے۔ لیکن اب کبڈی پہلے جیسی خالص اور سچی تفریح نہیں رہی۔ اب یہ کھیل کم اور ”ٹک ٹاک“ کی ویڈیوز اور ”پروٹوکول“ کی نمائش زیادہ بن چکا ہے۔

جہاں کبھی مٹی کی سچی محبت، اکھاڑے کا احترام اور کھیل کا حقیقی جنون ہوتا تھا، وہاں اب صرف کیمروں کے زاویے، سوشل میڈیا پر لائیو سٹریمنگ اور سستی شہرت کی بھوک نظر آتی ہے۔ کھیل کی اصل روح اور کھلاڑیوں کی وہ روایتی سادگی اب اس وی آئی پی کلچر اور موبائل اسکرینوں کی نذر ہو چکی ہے۔ کھلاڑی بھی اب کھیل سے زیادہ اپنی ویڈیو اور سوشل میڈیا فالوورز کی فکر میں گم نظر آتے ہیں۔

صرف کبڈی ہی نہیں، اگر ہم غور کریں تو میلے کے میدانوں اور دیہاتوں کی شاموں سے پنجاب کے دیگر تمام روایتی کھیل بھی آہستہ آہستہ مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں۔ وہ وقت اب کسی خوبصورت خواب کی طرح معلوم ہوتا ہے جب دیہات کے گلی کوچوں اور میلوں کے وسیع میدانوں میں گلی ڈنڈا،کوکلا چھپاکی، پٹھو گول گرم، چھپن چھپائی اور رسہ کشی کے سنسنی خیز مقابلے ہوا کرتے تھے۔

رسہ کشی کے میچوں میں جب دو گاو ¿ں کے نوجوان زور لگاتے تھے تو پورا مجمع نعروں سے گونج اٹھتا تھا اور فضا میں ایک عجیب سا جوش ہوتا تھا۔ نوجوانوں کا وہ بے لوث جذبہ، بڑوں کی تالیاں اور مٹی کی وہ دیسی رونقیں اب کہیں بھی دکھائی نہیں دیتیں۔ ہم اپنے ان روایتی کھیلوں کو بھلا کر، جو جسمانی صحت اور باہمی اتحاد کا بہترین ذریعہ تھے، اپنی مٹی کا حسن خود اپنے ہاتھوں سے ختم کر رہے ہیں اور اپنی نئی نسل کو سست اور کاہل بنا رہے ہیں۔

اسی حوالے سے گزشتہ دنوں میری ملاقات علاقے کے چیئرمین ملک طاہر اعوان سے ایک عوامی پروگرام میں ہوئی۔ وہاں ایک نوجوان کبڈی کے کھلاڑی کو اس کے بہترین اور شاندار کھیل کی وجہ سے موٹر سائیکل کا انعام دیا گیا۔ اس تقریب میں مہمان کے طور پر موجود ملک طاہر اعوان نے گفتگو کرتے ہوئے ایک بہت ہی سچی، کڑوی اور پتے کی بات کہی جس نے مجھے اندر تک جھنجھوڑ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ کبڈی اب پہلے جیسی خالص تفریح اور محبت کا کھیل نہیں رہی، بلکہ یہ اب پروٹوکول، وی آئی پی کلچر اور ٹک ٹاک کی نذر ہو کر رہ گئی ہے۔

اب لوگ میدان میں کبڈی کا لطف اٹھانے، کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور کھیل کو انجوائے کرنے کم آتے ہیں، بلکہ اپنے موبائل فون نکال کر ریلز اور مختصر ویڈیوز بنانے زیادہ آتے ہیں۔ ہر شخص کی توجہ کھیل پر نہیں بلکہ اس بات پر ہوتی ہے کہ اس کی ویڈیو پر کتنے لائکس آئیں گے۔ ملک طاہر اعوان صاحب کی یہ بات سو فیصد درست ہے، اگر ہم نے اب بھی اپنی اس دم توڑتی ثقافت کو سنبھالا نہ دیا، تو وہ دن دور نہیں جب ہماری اگلی نسل صرف تاریخ کی کتابوں میں ہی پڑھے گی کہ کبھی پنجاب کے میدانوں میں مٹی سے محبت کرنے والے شیر گرجتے تھے اور لوگ ان کا کھیل دیکھنے میلوں کا سفر طے کر کے آتے تھے۔

ہماری یہ ثقافت کس طرح تیزی سے بدل رہی ہے، ہم سادگی سے کتنا دور ہو چکے ہیں اور ہم نے اپنی معصوم خوشیوں کا کتنا بڑا جنازہ نکال دیا ہے، اس کا گہرا احساس مجھے چند دن پہلے ایک بار پھر ہوا۔ میں اور میرے پیارے دوست عامر سہیل مٹو ایک سوشل میڈیا ٹریننگ ورکشاپ میں شرکت کے لیے اپنے گھر سے نکلے تھے۔ راستے کے پرسکون سفر کے دوران عامر نے اپنے دادا جان کی زندگی کا ایک ایسا خوبصورت، سچا اور سبق آموز واقعہ سنایا جس نے مجھے ماضی کے سنہرے اور معصوم دنوں میں لا کھڑا کیا۔

عامر کہنے لگا کہ ان کے کزن جھنگ کے ایک دور دراز علاقے میں رہتے ہیں، جو ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں لاہور ان کے پاس آیا کرتے تھے۔ ان دنوں لاہور کی سیر کرنے اور مہمانوں کی تواضع کا ایک اپنا ہی روایتی مزہ تھا۔ وہ سب کزن مل کر کبھی تاریخی شاہی قلعہ جاتے اور مغلوں کی تاریخ دیکھتے، کبھی مینارِ پاکستان کی عظمت اور قراردادِ پاکستان کے دنوں کو یاد کرتے، تو کبھی شالامار باغ کے چشموں اور درختوں کی چھاو ¿ں میں گھومتے۔

لاہور کے دیگر تفریحی مقامات جیسے جلو پارک کی ہریالی اور جھیل، چھانگا مانگا کے گھنے جنگل کی ٹھنڈی ہوا اور وہاں چلنے والی چھوٹی ٹرین کی سیر، لاہور چڑیا گھر کے رنگ برنگے جانور اور گلشنِ اقبال پارک کے جدید جھولے غرض جتنے دن وہ کزن لاہور رہتے، پورا گھر خوشیوں، قہقہوں اور سیر و تفریح کے ایک بڑے میلے کا منظر پیش کرتا تھا۔ پورا خاندان ایک جگہ اکٹھا ہو کر ان لمحات کو جیتا تھا اور بھائی چارے کی ایک لازوال داستان رقم ہوتی تھی۔

عامر نے بتایا کہ ایک دن ان سب کزنز کو حیران کرنے کے لیے دادا جان نے مسکراتے ہوئے بڑے پرجوش انداز میں کہا، چلو بچو! آج میں تم سب کو ایک بالکل نئے پارک یعنی ”ڈانڈے مینڈے پارک “کی سیر کرواتا ہوں۔ سب بچے یہ انوکھا، عجیب اور بالکل نیا نام سن کر بے حد خوش اور حیران ہو گئے کہ شاید آج لاہور میں کسی بہت بڑے، مہنگے اور جدید پارک میں جانے کا موقع ملے گا جہاں نہ جانے کیسے کیسے جدید جھولے ہوں گے۔ دادا جان سب بچوں کی انگلی پکڑ کر گھر سے نکلے، لیکن وہ کسی پکی سڑک، تپتی ہوئی تارکول یا کسی گاڑی و تانگے کی طرف جانے کے بجائے، گھر کے پاس ہی ہری بھری فصلوں اور کھیتوں کی کچی پگڈنڈیوں پر چل پڑے۔

وہ پگڈنڈیاں، جو مٹی کی خالص دیسی خوشبو سے مہک رہی تھیں اور جہاں صبح کی شبنم کے اثرات اب بھی باقی تھے۔ دادا جان بچوں کو اپنے ساتھ لیے کبھی ایک کھیت کی طرف لے جاتے تو کبھی دوسرے کھیت کی طرف، انہیں مختلف فصلوں کے نام بتاتے اور قدرت کے نظاروں سے روشناس کرواتے۔ راستے میں امرود کا ایک گھنا اور لہلہاتا ہوا باغ آیا، تو دادا جان نے خود اپنے ہاتھوں سے درختوں سے تازہ، میٹھے اور رسیلے امرود توڑ کر بچوں کی جھولیوں میں ڈالے اور انہیں کھلائے۔ کچھ آگے بڑھے تو ایک روایتی ویلنے پر لے جا کر بچوں کو گنے کا تازہ، خالص اور میٹھا رس پلایا۔ وہ مٹی کے کچے راستے، وہ ہرے بھرے لہلہاتے کھیت، پرندوں کی چہچہاہٹ اور دادا جان کی وہ بے لوث شفقت و پیار، یہی تھا وہ اصل اور حقیقی”ڈانڈے مینڈے پارک“۔

شام جب ڈھلنے لگی اور سورج افق میں ڈوبنے لگا، تو دادا جان انہیں کچے راستوں سے سب بچوں کو واپس گھر لے آئے تھے۔ عامر نے بتایا کہ ہم سب کزن اس طویل پیدل سفر کی وجہ سے جسمانی طور پر تو بہت تھک چکے تھے، لیکن ہمارے دلوں میں جو سچی خوشی، ذہنی سکون اور طمانت تھی، وہ دنیا کے کسی مہنگے ترین اور جدید ترین پارک میں کروڑوں روپے خرچ کر کے بھی نہیں مل سکتی۔ وہ ایک ایسی یاد تھی جو آج بھی ہمارے دلوں کو گرماتی ہے۔

آج جب میں تنہائی میں عامر کے سنائے ہوئے اس واقعے پر غور کرتا ہوں تو میری روح تک کانپ اٹھتی ہے اور دل سے ایک ہوک سی اٹھتی ہے کہ ہم نے جدید بننے کے چکر میں، اس نام نہاد ترقی کی دوڑ میں اپنے وہ پیارے اور مخلص”ڈانڈے مینڈے پارک“ ہمیشہ کے لیے کھو دیے ہیں۔ ہم نے اپنے معصوم بچوں کو موبائل کی اسکرینوں، بند اور حبس زدہ کمروں، ویڈیو گیمز اور ایک مصنوعی و ورچوئل زندگی کا قیدی بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہمارے میلے، ہمارے روایتی دیسی کھیل، اور ہماری پگڈنڈیوں کی وہ معصوم سادگی اب دم توڑ رہی ہے، آخری سانسیں لے رہی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ وہ بزرگ، جنہوں نے ہمیں ان سچی تفریحات سے روشناس کروایا، وہ سب اب نیک روحیں بن کر ہم سے دور جا چکے ہیں اور اب ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ان کی سکھائی ہوئی اقدار اور یادیں آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

جدید دور کی یہ سوشل میڈیا ٹریننگز، ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ اپنی جگہ وقت کی ضرورت اور اہم سہی، اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، لیکن ہمیں یہ بات کبھی بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ہماری اصل طاقت، ہماری حقیقی پہچان اور ہمارا ذہنی سکون ہماری اپنی ثقافت، روایات اور اپنی مٹی سے جڑے رہنے میں ہے۔ اگر ہم نے اپنے میلوں کو، اپنی صدیوں پرانی پاکیزہ روایات کو اور کبڈی و دیگر روایتی کھیلوں کو اس دکھاوے، کمرشل ازم اور سوشل میڈیا کی سستی نمائش سے پاک کر کے دوبارہ اپنے اصل رنگ میں زندہ نہ کیا، تو یاد رکھیے ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک بے روح، بے نام اور احساس سے خالی معاشرہ دے کر جائیں گے۔

وقت کا تقاضا ہے اور وقت پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس دم توڑتی ثقافت کو بچانے کے لیے ہم سب کو اور معاشرے کے ہر فرد کو مل کر انفرادی اور اجتماعی سطح پر آگے بڑھنا ہوگا، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی کہ ہم نے جدیدیت کے شوق میں اپنے ہاتھوں سے اپنے ہی گھر کے خوبصورت رنگ اجاڑ دیے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی جڑوں کی طرف لوٹ آئیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے