سماج کے اندر میری ایک چھوٹی سی پہچان ایک ادنی لکھاری کی بھی ہے کیونکہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ ہوا کہ مختلف موضوعات پر اپنے رشحات قلم سے اہل علم اور اعلی پائے کے لکھاریوں کی نقل اُتارنے کی سعی کرتا آرہا ہوں۔ حالیہ دنوں میں میرا میدان چونکہ تبدیل ہوگیا ہے اور میں سول سوسائٹی سے تعلیم کے شعبہ کی طرف آیا ہوں اور اسی کے ساتھ وابستگی اختیار کی ہے اس لیے اب تحیہ کرچکا ہوں کہ آئندہ جو بھی لکھوں گا اس شعبہ کو موضوع بحث بناؤں گا اور اسے ہی اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بناؤں گا۔
ایک عرصہ قبل اُستاذ محترم پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود صاحب سے سنا تھا "کہ ترقی یافتہ معاشروں میں معلمی صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ ایک باوقار پیشہ ہوتی ہے جب تک اسے ایک حقیقی پیشہ تسلیم نہیں کیا جائے گا اس کے واضح کیریئر پاتھ،پیشہ وارانہ ترقی اور باعزت مقام فراہم نہیں کیا جائے گا تب تک نہ تو باصلاحیت افراد اس شعبے کا انتخاب کریں گے اور نہ ہی پہلے سے موجود بہترین اساتذہ کو اس میں بر قرار رکھا جاسکتا ہے لہذا اگر ہم واقعی اس بات میں مخلص ہیں کہ ہم معیاری تعلیم کو فروغ دیں تو سب سے پہلے معلمی کو ایک مضبوط اور باوقار پیشہ بنانا ہوگا” ۔
اُستاذ محترم کی اس بات سے سو فی صد اتفاق کیے بغیر کوئی چارہ نہیں کیونکہ کسی بھی معاشرے کے مستقبل کا اندازہ اس کی بلند عمارتوں، کشادہ شاہراہوں سے نہیں بلکہ اس کے تعلیمی ڈھانچے ،اداروں کی ترقی اور وہاں موجود اساتذہ کی حالت سے لگایا جا سکتا ہے کیونکہ کسی بھی قوم کی تعمیروترقی کی بنیادی اکائی تعلیم ہے۔ جس قوم سے تعلیم چھین لی جاتی ہے وہ وحشی تاتاریوں کے صف میں جا کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ اسکول دراصل وہ جگہ ہے جہاں کسی قوم کا آنے والا کل خاموشی سے تشکیل پاتا ہے وہاں بیٹھا ہوا ہر بچہ محض ایک طالب علم نہیں ہوتا بلکہ ایک ممکنہ ڈاکٹر، انجینئر، اُستاذ، ادیب، سائنس دان، سیاست دان یا ایک ذمہ دار شہری ہوتا ہے۔
دوسری طرف ان امکانات کو حقیقت میں بدلنے والے کردار کا نام اُستاذ ہے اُستاذ کو عموماً معاشرے میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اُستاذ کے منصب کی اہمیت کو واقعی اسی سنجیدگی سے سمجھتے بھی ہیں جس کا وہ تقاضا کرتا ہے؟
تدریس بظاہر ایک معمول کا پیشہ ہے روز اسکول جانا، کلاس لینا، کتاب پڑھانا، حاضری لگانا، امتحان لینا اور نتیجہ تیار کرنا لیکن اگر اُستاذ کے منصب کو صرف ان معمولات تک محدود کر دیا جائے تو پھر ہم اس پیشہ کی اصل روح سے ناواقف ہیں اُستاذ دراصل شاگرد کے ذہن، کردار اور مستقبل پر کام کرتا ہے شاگرد کی سوچ ،رویے اور عادات میں مثبت تبدیلی لانا اُستاذ کا فرض ہوتا ہے اس کے سامنے موجود طالب علم آج شاید ایک خاموش بچہ ہو لیکن چند برس بعد وہ معاشرے کا فعال فرد ہوگا اس لیے اُستاذ کا ہر لفظ، ہر رویہ اور ہر فیصلہ کسی نہ کسی صورت میں مستقبل کے معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے ایک اچھا اُستاذ صرف یہ نہیں دیکھتا کہ طالب علم نے سبق یاد کیا ہے یا نہیں وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ طالب علم سوال کرنا سیکھ رہا ہے یا نہیں سوچنے کی صلاحیت اُس میں جنم لے رہی ہے یا نہیں؟ دوسروں کا احترام کرتا ہے یا نہیں ؟اختلاف برداشت کر سکتا ہے یا نہیں؟ اور اپنے معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا شعور رکھتا ہے یا نہیں؟
ہمارے معاشرے میں اکثر تعلیمی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے نصاب، امتحانی نظام، اسکولوں کی عمارتوں، سہولیات اور وسائل کی بات کی جاتی ہے یہ سب یقیناً اہم ہیں اور اس کی افادیت سے کسی بھی ذی شعور اور ذی فہم آدمی کو انکارنہیں مگر ان تمام چیزوں کے درمیان ایک بنیادی عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یعنی اُستاذ کیونکہ ایک بہترین نصاب بھی اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتا جب تک اسے پڑھانے والا خود بھی سیکھنے کے عمل سے جڑا ہوا نہ ہو اور ایک معمولی وسائل رکھنے والا اسکول بھی ایک باصلاحیت اور مخلص اُستاذ کی موجودگی میں بچوں کے لیے امید کا مرکز بن سکتا ہے۔
اسی لیے اُستاذ کی پیشہ ورانہ تربیت، علمی نشوونما اور معاشرتی وقار پر سنجیدگی سے توجہ دینا وقت کی اشد ضرورت ہے اُستاذ سے بہترین کارکردگی کی توقع رکھنے کے ساتھ اسے بہتر تربیت، مناسب ماحول اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع بھی فراہم کیے جانے چاہیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ اُستاذ قوم کا معمار ہے اگر ہم واقعی اسے معمار سمجھتے ہیں تو پھر اس کے کام کی اہمیت کو اپنے عملی رویے سے بھی تسلیم کرنا ہوگا۔
تاہم اس تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے اور وہ یہ کہ خود اُستاذ کو بھی اپنے مقام اور حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے اُستاذ کی ذہنیت فقط کمرشل نہیں ہونی چاہیے کہ وہ دیگر لوگوں کی طرح پیسے کا پجاری بنے۔
ہمارے ہاں کوئی بھی قومی ٹاسک ہو چاہے انتخابات کی ڈیوٹی ہو یا پولیو مہم وغیرہ تو اُس میں اساتذہ کو بروئے کار لایا جاتا ہے سوال یہ ہے کہ سرکاری ملازم صرف اُستاذ ہوتا ہے یا دیگر شعبوں میں بھی ملازمین کی بہتات ہیں اُنھیں کیوں اس طرح کے مواقع پر بروئے کار نہیں لایا جاتا خود اساتذہ کو بھی اس پر صدائے احتجاج بلند کرنی چاہیے بہرحال معلم بننا محض سرکاری ملازمت یا ماہانہ تنخواہ کا نام نہیں یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس میں روزانہ کئی خاندان اپنے بچوں کا مستقبل ہمارے سپرد کرتے ہیں ایک اُستاذ کی معمولی سی لاپرواہی کسی طالب علم کے پورے مستقبل کو تاریک بنا سکتی ہے بطور اُستاذ جب میں خود کلاس روم میں کھڑا ہوتا ہوں تو اس احساس کی شدت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے کہ سامنے بیٹھے ہوئے بچے صرف میرے طلباء نہیں بلکہ میرے معاشرے کا آنے والا عروج یا زوال کا چہرہ ہیں۔
ان میں سے ہر ایک کی اپنی صلاحیت، اپنی کمزوری، اپنی کہانی اور اپنے خواب ہیں اُستاذ کا کام صرف یہ نہیں کہ وہ اُنھیں ایک مقررہ نصاب پڑھا کر فارغ ہو جائے بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ ان کے اندر موجود صلاحیت کو پہچانے اُنھیں اعتماد دے اور علم کو ان کی زندگی سے جوڑنے کی کوشش کرے۔
آج ہمیں ایسے اساتذہ کی ضرورت ہے جو خود بھی سیکھنے کا عمل جاری رکھیں جو کتاب سے رشتہ قائم رکھیں جو طلباء کو سوال کرنے سے نہ روکیں جو اختلاف رائے کو دشمنی نہ سمجھیں اور جو کلاس روم کو صرف امتحان کی تیاری کا مرکز نہیں بلکہ شخصیت سازی کی جگہ بنائیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ معیاری تعلیم صرف حکومت یا محکمۂ تعلیم کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین، اساتذہ ، تعلیمی ادارے اور پورا معاشرہ اس عمل میں شریک ہیں اگر والدین بچے کو اخلاق نہ سیکھا سکیں، اسکول اسے علم نہ دے اور معاشرہ اسے مثبت مثالیں نہ دے تو صرف کتابیں کسی نسل کی مکمل تربیت نہیں کر سکتیں لہٰذا اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو اپنی ترجیحات میں محض ایک شعبہ نہیں بلکہ مستقبل کی سرمایہ کاری سمجھنا ہوگا اسکول کی عمارتیں بنانا ضروری ہے، کتابیں فراہم کرنا ضروری ہے، جدید سہولیات دینا ضروری ہے مگر ان سب کے ساتھ اس شخص پر بھی سرمایہ کاری ضروری ہے اور اُسے سہولیات اور مقام دینا ضروری ہے جو ان تمام وسائل کو انسانی صلاحیت میں تبدیل کرتا ہے اور وہ شخص اُستاذ ہے۔
یہ بات پیش نظر رہے کہ قومیں ایک دن میں نہیں بنتی بلکہ پہلے پہل نسلیں تیار ہوتی ہیں اور یہ نسلیں کلاس روم میں تیار ہوتی ہیں اس لیے ہر اُستاذ کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ آج جو پڑھا رہا ہے اس کا اثر شاید اسے برسوں بعد دکھائی دے لیکن وہ اثر ضرور کہیں نہ کہیں موجود ہوگا اُستاذ صرف تختۂ سیاہ پر الفاظ نہیں لکھتا وہ آنے والی نسلوں کے ذہن پر نقش چھوڑتا ہے اس لیے اُستاذ کی قدر دراصل علم، کردار اور اپنے مستقبل کی قدر ہے، کیونکہ اچھا اُستاذ ہی ہمارے مستقبل کا ضامن ہے۔
نوٹ: میں نے پوری تحریر میں اُستاذ کو "ذ” کیساتھ استعمال کیا ہے جبکہ عموماً ہمارے ہاں اس کا استعمال "اُستاد” یعنی "د” کیساتھ ہوتا ہے جو کہ یہ غلط العام کے قبیل سے ہے یعنی استعمال تو دونوں کا درست ہے مگر زیادہ درست اور مناسب "ذ” کیساتھ ہی ہے کیونکہ کسی بھی دیگر فن کے آدمی کو اُستاد کہا جاتا ہے جیسا کہ آٹو ورکشاپ کے ماہر کو اُستاد کہا جاتا ہے جس کی جمع اساتید ہے اور یہ جمع بہت کم مستعمل ہے ہاں اُستاذ صرف علم فن کے ماہر ہی کو کہا جاتا ہے جس کی جمع اساتذہ مستعمل اور معروف ہیں۔