مبارک قاضی | شائرِ آشوب

اگرچہ بلوچستان انتظامی بندوبست کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ جُڑا ہوا ہے، لیکن ذہنی ہم آہنگی، مزاج، ثقافت, زبان, مسائل اور ترجیحات کے حوالے سے ان میں بے حد فاصلہ ہے۔ اسی لیے بقیہ ماندہ پاکستان کو علم ہی نہیں کہ چشمِ فلک نے ایسا پُرمہر اور جذبات و احساسات کی شدّت سے معمور فضا شاید کبھی نہیں دیکھی ہوگی جو گزشتہ چند دنوں سے بلوچستان کی ہے۔
بلوچی زبان کے درویش صفت اور منفرد لب و لہجہ رکھنے والے عہد ساز شاعر واجہ مبارک قاضی کی رحلت کو کئی دن گزر گئے ہیں۔ لیکن بلوچوں نے اپنے اس عظیم قومی شاعر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے
کا جو سلسلہ شروع کیا ہے, وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔

لیاری سے لے کر گوادر، تربت سے لے کر شال و خضدار، سبّی سے لے کر خاران تک قریہ قریہ، بستی بستی میں قاضی کے دیوانے انہیں اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ صرف ایک چھوٹے سے ضلع خاران میں قاضی صاحب کی یاد میں اب تک پانچ تعزیتی ریفرنسز اور ادبی پروگرام منعقد کیے جا چکے ہیں۔
ہر چھوٹے بڑے، بزرگ و نوجوان، مرد و زن کی زبان پہ قاضی کا نام اور قاضی کے اشعار جاری ہیں۔ بقول ڈاکٹر پروفیسر اے آر داد صاحب، "قاضی نے بلوچ قوم کو یکجاہ کر دیا ہے”۔
ان دنوں بلوچستان کی فضا میں رومانوی اور انقلابی اشعار کی گونج ہے۔ ہر طرف مہر و محبت اور حزن و ملال کی عجیب سی کیفیت چھائی ہوئی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اِس پورے خطے میں کسی بھی شاعر کو اِس شان سے رخصت کیا گیا ہو۔

اورحان پامک کی کتاب Istanbul: Memories & the City
کے ایک باب کا عنوان "حُزن” ہے۔ حزن کے لیے اردو میں مناسب ترین لفظ ذہن میں نہیں آ رہا ہے۔ البتہ انگریزی کا جو لفظ اس کے معنی و مفہوم کے قریب تر ہے، وہ melancholy ہے۔ کہیں کہیں اِس روحانی پژمردگی کی حالت کو black pain یعنی دردِ سیاہ بھی کہا گیا ہے۔ یہ گہری ترین اداسی کی ایک کیفیت ہے۔ ایسی اداسی جو لمحاتی نہ ہو۔ روح میں سرایت کر جانے والی اداسی۔ کسی ایک تنہا شخص کا حزن تو شاید آپ سمجھ رہے ہوں، مگر ہزاروں، لاکھوں لوگوں کا مشترکہ حزن بھی وجود رکھتا ہے۔

اورحان پامک کو یہ مشترکہ حزن استنبول کی ثقافت، آرکیٹیکچر، جمالیات، ادب، شاعری اور موسیقی میں پیوست نظر آتا ہے۔اسی طرح ہر بلوچ کو اداسی کی یہ ناقابلِ بیان کیفیت بلوچستان کے سنگ و خشت، بارعب پہاڑوں، سنگلاخ چٹانوں، حسین وادیوں، نیلگوں سمندر اور سنہرے ریگستانوں کو دیکھ کر محسوس ہوتی ہے۔
ایک ترک مصنف کا قول ہے کہ
The beauty of a landscape resides in its melancholy.

سرزمینِ بلوچستان کی خوبصورتی کو اس کی یہی اداسی مکمل کرتی ہے۔ یہ دائمی اداسی معلوم نہیں کہ جبر کی پیداوار ہے یا بلوچستان کے مزاحمتی تاریخ کی۔ مگر اس کی آبیاری ہزاروں شہدا کے لہو نے کی ہے۔ یہ پُر معنی اداسی بلوچستان کی تاریخ، ثقافت، فوک لور، ادب، موسیقی اور رزمیہ و عشقیہ شاعری میں بھی مکمل طور پر پیوست ہے۔ بلکہ بلوچستان کے ہر پہلو پر غالب ہے۔ بلوچ گا رہا ہو تو اس میں اداسی کا عنصر ہوگا۔ چاپ کر رہا ہو تو اس میں بھی حزن و ملال کی آمیزش ملے گی۔ یعنی ہماری ہر خوشی میں غم ایک کونے میں برابر کھڑا مسکرا رہا ہوتا ہے۔
مزید آسان کروں تو:
بلوچستان اُداسی کا دوسرا نام ہے۔

بلوچ کے اِس مشترکہ "حُزن” کو جس شخصیت نے بھی زبان دی، وہ بلوچ کا سرتاج بنا۔ چاہے اس شخص کا تعلق سیاست سے رہا ہو یا ادب سے، وہ بلوچ تاریخ کا ناقابلِ فراموش کردار بنا ہے۔
شائرِ آشوب (شاعرِ انقلاب) واجہ مبارک قاضی نے بلوچستان کی اسی گہری اداسی کو قوّتِ گویائی دی۔ قاضی نے بلوچوں کی اداسی میں ایک نیا انقلابی اور جمالیاتی رنگ بھرا۔ تصنّع سے پاک اور کتھارسس سے بھرپور زندگی گزارنے کا نیا ڈھنگ بلوچ سماج کو سکھایا۔ قوم کے مشترکہ حُزن کو کہیں شعر، کہیں طنز، کہیں غصّے، کہیں قہقہے، کہیں مدہوشی اور کہیں رقص کی صورت میں مَنانے کا فن بتلایا۔
بلوچستان کا وہ کونسا پہلو ہے جس پہ مبارک قاضی کے مبارک قلم کا گزر نہ ہوا ہو۔ گلزمین کے کہساروں، ہواؤں، موسمی رنگوں، صبح و شام سے لے کر اِس کے وسیع و عریض سینے پہ پڑے ایک تِنکے کا غم بھی انہوں اپنے سینے میں سَمو رکھا تھا۔
وتی کوہ ءُ تلارانی منءَ غم
وتی بوچ ءُ پلارانی منءَ غم
وتی باگ ءُ بہارانی منءَ غم
وتی تبد ءُ لوارانی منءَ غم
وتی شام ءُ سحارانی منءَ غم
وتی گند ءُ گدارانی منءَ غم
منی کچ ءُ کساسءَ گوستگیں غم
منی گوں گلزمینءَ بستگیں غم

سرزمین کا غم قاضی کے لیے تمام تر غموں سے بالاتر تھا۔ نوجوان بیٹے قمبر قاضی کے لہو سے بھی زیادہ تقدیس, وطن سے عشق کو حاصل تھا۔ قاضی جیسے آشفتہ سر نے دل و جان، مال و متاع، اہل و عیال سب اس وطن پر وار دئیے۔ قاضی پر غلبہ, مَے نوشی کا نہیں، بلکہ وطن سے محبت کی مدہوشی کا رہتا تھا۔
من قاضی گلزمینءِ غم ھمے وڑا وتی کتگ
برے برے چہ عقل ءُ ہوش ءُ زانَگ ءَ چہ گوستگ آں
یہ وطن سے بے پناہ محبت ہی تھی کہ بلوچ مزاحمتی جہد نے آج جو کار گر ترین حکمتِ عملی اپنا رکھی ہے، اس کی پیش گوئی کئی سال قبل مبارک قاضی کر چکے تھے۔
ما چو محمود درویش ءِ پر بستگاں
بمب بندوں وتی برہنگیں سینگاں
بلکیں زندگ بہ بوں
بلکیں زندگ بہ بوں
خوبصورت ترین تشبیہات اور استعارات سے بھرپور ان کی شاعری میں دور اندیشی اور خرد افروزی کی ایسی مثالیں ہیں کہ جو انہیں بہ یک وقت ایک عظیم شاعر، سیاست دان، مزاحمت کار اور میدانِ حرب کا ایک تجربہ کار شہسوار ثابت کرتے ہیں۔
اے جنگ گوں زمانگ ءَ شبین ءُ چہر ءُ تہر کنت
اے جنگ مارا ھور کنت اے جنگ ما را بہر کنت
اے جنگ نگدیں موسماں چہ موسماں زبہر کنت
اے جنگ داں قیامت ءَ ھمے وڑا روان کنت

بلوچ کے دل میں جو جنون، جو ارمان تھے، قاضی نے انہیں زبان دی۔ جس کسی جابر یا اس کے کاسہ لیس کو ایک عام بلوچ نہ للکار پاتا، اس بدمعاش کو قاضی چار ٹکّے کا دلّال کہہ کر علی الاعلان دشنام دیا کرتا۔ انہوں نے کسی آمر، کسی عسکر، کسی مُلّا، کسی جابر کو نہ بخشا۔ قاضی کی آواز ننگِ ملّت اور ننگِ وطن لوگوں کے لیے صورِ اسرافیل تھی۔
گویا آج قاضی نہ گیا ہو، بلکہ بلوچ قوم اظہار کی قوّت سے محروم ہو گیا ہو۔ قاضی بلوچوں کے اجتماعی کتھارسس کا وسیلہ تھا۔ ہمارے اجتماعی مزاج کا آئینہ دار تھا۔ وہ بلوچی مَیار تھا۔ قوم کا غمگسار تھا۔ قاضی بلوچ کا مشترکہ حُزن تھا۔ قاضی بلوچستان تھا بلکہ قاضی بلوچستان ہے, اور بلوچستان رہے گا.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے