سید رحیم شاہ: کسی اور دنیا کا باسی

سید رحیم شاہ میرے سگے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ وہ انسانیت کے بے لوث خادم، قومی اسمبلی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں حکومتِ پاکستان کے قابل آفیسر، اور اکیسویں صدی کے ایک روشن خیال صوفی ہیں۔ انگریزی زبان پر ان کی دسترس ایسی ہے کہ گویا وہ اس میں رقص کرتے ہوں۔ بین المذاہب مکالمے کے ماہر اور مغرب و مشرق کے درمیان مماثلتیں ڈھونڈنے والے یہ ہمہ وقت متلاشی، مظلومِ کربلا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا سچا عاشق اور تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نیازمند امتی ہے۔

سید رحیم شاہ علم کا قدر دان، روحانیت کا شناور، سیاحت کا بے انتہا شوقین، انسانوں کے مخلص خدمت گزار، سماجی اقدار کی پاسداری کا سخت گیر متمنی اور ضرورت مندوں کی مدد پر ہر وقت آمادہ اور تیار نوجوان ہے۔ وہ انگریزی زبان پر ایسا عبور رکھتے ہیں کہ جسے دیکھ کر خود انگریز تعجب میں پڑ جائیں، جبکہ حصول علم کے بے انتہا شوق سے سرشار بھی ہیں۔ انہوں نے نمل یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز جبکہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے اصول دین (تقابل ادیان) میں ایم فل کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ آگے پی ایچ ڈی کا ارادہ پختہ ہے لیکن گوناگوں مصروفیات فرصت ہی نہیں دے رہیں۔ مطالعے میں شوق سے زیادہ مقصد کا قائل ہے۔ مقصد کے مطابق اور اس کے لیے ضروری مطالعہ کر کے وہ رخ دوسرے کاموں کی طرف پھیر دیتے ہیں۔

‎سید رحیم شاہ کی علمی و تحقیقی صلاحیتیں، عالمی شراکتیں اور پیشہ ورانہ مہارتیں ان کی مقبولیت کی بنیاد ہیں۔

‎سن 2018 میں ان کا تحقیقی مقالہ "Can Democracy Win the Modern Battle?” دنیا بھر سے منتخب ہونے والے مقالات میں شامل رہا۔ اس اعزاز کی بنا پر انہیں "دی ریگا کانفرنس فیوچر اسکالر پروگرام” کے تحت "فیوچر اسکالر” کے طور پر مدعو کیا گیا۔ یہ پروگرام یونیورسٹی کے طلبہ اور حالیہ گریجویٹس کے لیے ایک عالمی مقالہ نگاری مقابلہ تھا، جس کے منتخب مقالوں کو ایک سرکاری ای بک میں شائع کیا گیا۔ یہ مرکزی کانفرنس 28 اور 29 ستمبر 2018 کو ریگا، لٹویا میں منعقد ہوئی تھی۔

‎اس کے بعد 2021 میں، سید رحیم شاہ کو مصر کی وزارت نوجوانان کی جانب سے "جمال عبدالناصر فیلوشپ برائے بین الاقوامی قیادت” کے دوسرے بیچ کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس فیلوشپ میں دنیا بھر کے 100 بااثر نوجوان رہنماؤں میں ان کا نام شامل تھا۔ قاہرہ میں قیام کے دوران 2022 میں، انہوں نے جامعہ ازہر کے مرکزی امام سے قرآن کریم کی غیر رسمی تعلیم حاصل کی اور اپنی ایم ایس ڈگری کے تحقیقی و روحانی سفر کے حصے کے طور پر قرآن مجید کے 26ویں اور 27ویں پارے حفظ کرنے کا شرف حاصل کیا۔

‎اس کے علاوہ، پاکستان کی وزارت نوجوانان نے انہیں دو مرتبہ بین الاقوامی نمائندگی کے لیے منتخب کیا۔ پہلی بار 2008 میں چین کے یوتھ ایکسچینج پروگرام کے لیے، اور دوسری بار 2009 میں اناطولیہ یوتھ فیسٹیول، ترکی میں شرکت کے لیے۔ اسی طرح ان کا مضمون "What Do I Know About Azerbaijan?” بھی 2018 میں منتخب ہوا، جس پر انہیں حکومت آذربائیجان کی خصوصی دعوت پر سرکاری دورے کا اعزاز حاصل ہوا۔

‎سید رحیم شاہ نے نوجوانی ہی میں صحافت کے میدان میں قدم رکھا۔ محض 17 سال کی عمر میں وہ پاکستان کے پہلے پشتو نیوز چینل خیبر ٹی وی سے پشتو اسپورٹس اور انگلش نیوز کاسٹر کے طور پر وابستہ ہوئے۔ انہوں نے نیوز بلیٹنز نشر کیے، مقامی کھیلوں پر دستاویزی فلمیں تیار کیں اور ایک دہائی سے زائد عرصہ تک صحافت میں فعال رہنے کے بعد قومی اسمبلی پاکستان میں اپنی خدمات کا آغاز کیا۔

‎سید رحیم شاہ کو پارلیمانی ڈپلومیسی میں خصوصی مہارت حاصل ہے اور وہ اس موضوع پر درجنوں تحقیقی مباحثوں، سیمینارز اور کانفرنسز میں شرکت کر چکے ہیں۔ سید رحیم شاہ نے اب تک سو سے زائد قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں میں حصہ لیا ہے۔ باہمی تعاون، قانون سازی اور بین الپارلیمانی روابط کو فروغ دینے کے لیے وہ اس شعبے میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔

سید رحیم شاہ کا سیاحت کے حوالے سے جذبہ قابل رشک ہے۔ 38 سالہ عمر میں پوری دنیا ان کے قدموں کے نیچے آ چکی ہے۔ شاید ہی کوئی ملک (اسرائیل اور جنوبی امریکہ کے ممالک کو چھوڑ کر) ایسا ہو جہاں انہوں نے بار بار قدم نہ رکھے ہوں، اور انہوں نے صرف قدم رکھنے کو ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ وہاں سے کما حقہ علمی، طبی، نظری اور سماجی و ثقافتی استفادہ بھی کیا ہے۔ مذاہب عالم، جدید و قدیم طب، عالمی اور علاقائی سطح کے بین الاقوامی سیاست اور تعلقات، جبکہ مختلف رنگ و نسل کے حامل لوگوں اور گروہوں کے عمومی رویوں اور سلوک کے حوالے سے انہوں نے ایک پوری لائبریری دماغ میں اتاری ہوئی ہے۔ جو بھی ان کو ان موضوعات کے حوالے سے "ٹچ” کرتا ہے، وہ بڑا استفادہ کر کے گزرتا ہے۔

سید رحیم شاہ کی پیشہ ورانہ زندگی ان کی علمی و تحقیقی صلاحیتوں کا آئینہ دار ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں ان کی خدمات نے نہ صرف ان کے ادارے بلکہ ملک کے بیرونی امیج کو بھی تقویت بخشی ہے۔ وہ پاکستان کی ثقافتی و تہذیبی روایات، جبکہ سیاسی اور بین الاقوامی اہمیت کو عالمی فورمز پر پراعتماد انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کی قابلیت کا راز صرف کتابی علم ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر میں ہونے والے ان کے مشاہدات اور اس سے حاصل ہونے والی زمینی حقیقتوں کی سمجھ بوجھ ہے۔ وہ پاکستان کے نوجوانوں میں علم و سفر کے ذریعے خود اعتمادی پیدا کرنے کے خواہش مند ہیں، جبکہ بیرون ممالک مقیم ہم وطنوں کو اپنے ملک سے محبت کرنے کا پیغام وہ ہمیشہ ہر دستیاب موقع پر دیتے ہیں۔ حب الوطنی کا یہ جذبہ ان کی ہر بات میں جھلکتا ہے۔

سید رحیم شاہ جان ایک بیدار مغز، متحرک، محنتی، اور حساس انسان ہیں۔ ان کا ذہن مختلف ممالک اور اقوام سے متعلق معلومات کا ایک ٹھیک ٹھاک خزانہ ہے جس کو ملاحظہ کرنا ایک دلچسپ تجربہ ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں پھیلے ان کے مشاہدات اور تجربات میں ہم لوگوں کے لیے حوصلہ افزا امکانات بھی ہیں اور مایوس کن رویوں کے جا بجا ارتکاب کے واقعات بھی۔ ان کی معلومات اور آنکھوں دیکھے احوال ملاحظہ کر کے انسان اس حقیقت کا یقین کر لیتا ہے کہ یہ دنیا ففٹی ففٹی کے اصول پر بنی ہے، آگے چلی ہے اور اب تک رہی ہے۔ یہاں کوئی چاہے تو اچھے سے اچھا انسان ہو کر جیے اور کوئی چاہے تو برے سے برا فرد بن کر دکھائے۔ خیر و شر دونوں مطلق حالت میں حضرت انسان کے سامنے موجود ہیں جن کو وہ معروضی حقائق میں بدل رہا ہے۔

سید رحیم شاہ امریکہ اور جاپان کے علمی، تحقیقی، انتظامی اور طبی معیارات کا دل سے معترف ہیں اور کئی ایسی خوبیوں کا تذکرہ کرتے ہیں جنہیں بالعموم ہمارے ہاں ذہن نہیں جاتا۔ پاکستانی عوام میں امریکہ زیادہ تر ایک سامراج کے طور پر مشہور ہے، حالانکہ ایک سپر پاور کی حیثیت سے وہ دوسرے بھی پہلو اور کردار رکھتا ہے۔ اسی طرح رحیم شاہ جاپانیوں کی محنت، نفاست، نظم و ضبط اور اپنے کام سے کام رکھنے جیسی خوبیوں سے بھی متاثر ہیں۔ مملکت خدا داد پاکستان میں آفسر شاہی کے مزاج میں موجود کاہلی، بے ایمانی، کام چوری، خود غرضی اور وقت کے منظم اور بامقصد استعمال کے حوالے سے تکلیف دہ لاپرواہی پر ہمیشہ وہ دکھ کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں پاکستان میں امکانات بھی بے شمار اور چیلنجز بھی لیکن خاص بات یہ ہے کہ امکانات عطا کردہ ہیں اور چیلنجز خود ساختہ۔

سید رحیم شاہ کی شخصیت پر سب سے پہلا جو نقش ابھر کر سامنے آتا ہے، وہ علم و ہنر کا ہے۔ ان کا ذہن ایک وسیع کتاب کی مانند ہے، جس کے اوراق پر شعور و ادراک کی موتی منتشر ہیں۔ ہر موضوع پر ان کی گفتگو میں فہم و فراست کی گہرائی اور ذہانت و فطانت کی وسعت محسوس ہوتی ہے۔ یہ علم محض حصولی نہیں، بلکہ وجدانی بھی ہے، جو ان کی شخصیت کو ایک خاص آب و تاب بخشتا ہے۔

سید رحیم شاہ ایک بڑے سیاح ہیں لیکن محض سیاح نہیں، بلکہ کائنات کے صفحات کو پڑھنے والے ایک متلاشی اور بے چین روح بھی ہیں۔ ان کے اسفار خاک کے نشیب و فراز سے ہو کر نفس انسانی کے اسرار تک پر محیط ہیں۔ ہر فرد، ہر تقریب، ہر وادی، ہر عمارت، ہر پہاڑ اور ہر دریا ان کے لیے قدرت کی ایک کھلی کتاب کا درجہ رکھتا ہے، جس کے ہر صفحے سے وہ معرفت کے نئے نئے نکات سمیٹتے ہیں۔

سید رحیم شاہ کی سیاحت کا ایک اہم پہلو روحانی سفر ہے۔ وہ چاہے جہاں بھی ہوں لیکن دل ان کا ہمیشہ صرف دو جگہ پر ہوتا ہے: ایک مدینہ منورہ، اور دوم بغداد سے سو کلومیٹر دور بجانب جنوب کربلا شہر۔ ان دو مقامات سے وہ جتنی محبت، عقیدت، مانوسیت اور والہانہ وابستگی رکھتے ہیں، یہ صرف وہ خود جانتے ہیں یا ان کا خدا۔ ہر فرد خود اور خدا میں چھپا ہوا ہے، اور دوسرے افراد صرف اس کے بارے میں اندازے ہی لگاتے ہیں، کچھ ٹھیک کچھ غلط، کچھ قریب کچھ دور، لیکن ہر فرد کی اصل حقیقت "خود اور خدا” کے علاوہ کسی کو بھی مکمل طور پر معلوم نہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی پیمانہ ایجاد یا تخلیق نہیں ہوا جس سے کسی کے جذبات و احساسات ناپے جا سکیں۔ ان کا خیال ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ انسانی تاریخ کی وہ بے مثال شخصیت تھیں جنہوں نے ظلم کے خلاف جدوجہد میں اپنا سب کچھ قربان کیا۔ سید رحیم شاہ کے اسفار محض ظاہری کوچہ گردی نہیں، بلکہ باطن کی زمینوں میں گہرائی تک اتر جانے کا نام ہے۔ ان کی روحانیت تصوف کی نزاکتیں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جہاں خلوصِ دل کے ساتھ حقیقتِ مطلقہ کی جستجو کارفرما ہے۔

سید رحیم شاہ ایک مخلص، ہمدرد، رقیق القلب اور ہر دم آمادہ خیر انسان ہیں۔ ان کی شخصیت کا مرکزی نکتہ بلا تفریق خدمتِ خلق ہے۔ یہ خدمت محض رسمی یا ظاہری نہیں، بلکہ گہری خیر خواہی سے بھی آراستہ ہے۔ ان کا دل دوسروں کے دکھ درد کو شدت سے محسوس کرتا ہے، ایسی شدت کہ جس سے فوراً وہ مدد کے لیے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ خدمت کرتے وقت یہ بالکل نہیں دیکھتے کہ سامنے والا اپنا ہے یا پرایا، جاننے والا ہے یا نہ جاننے والا، دوست ہے یا پھر حریف۔ جس کے لیے جو کچھ ان کی بس میں ہوتا ہے وہ دل و جان سے بجا لاتے ہیں اور پھر معاملہ خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی خلوص ہی ان شاءاللہ ان کی تمام تر خدمات کو اللہ تعالیٰ کے حضور قبولیت کے درجے پر فائز کرے گا۔ چند ماہ قبل میں اپنے گھر میں ایک حادثے کا شکار ہوا تھا۔ سید رحیم شاہ نے پہلے لمحے سے مجھے اپنے ہاتھوں میں لے کر تھاما اور تب چھوڑا جب میں چلنے پھرنے کا قابل ہوا۔ جس ہمدردی، خلوص، اہتمام، توجہ اور محبت سے انہوں نے میرے علاج و معالجے کے امور کو دیکھا اور نبھایا، ایسا صرف ماں باپ ہی کر سکتے ہیں، باقی کوئی نہیں۔

سید رحیم شاہ کا ادبی ذوق اور شاعرانہ طبع ان کی شخصیت کو ایک خاص طرح کی نرمی اور نفاست عطا کرتا ہے۔ شعر و ادب ان کے لیے محض تفنن نہیں، بلکہ زندگی کے مختلف تجربات اور جذبات کے اظہار کا ایک نفیس ذریعہ ہے۔ ان کی شاعری میں محبت کی کرنیں، حقیقت کے مظاہر اور زندگی کے تلخ و شیریں تجربوں کی جھلکیاں جا بجا ملتی ہیں۔ انہوں نے اپنی بے شمار نظمیں مجھے سنائی ہیں اور میں نے دلچسپی سے سنی ہیں۔ ان کے خیالات اور احساسات دل کے ان خانوں سے اٹھتے ہیں جو محبت، لطافت، نزاکت اور حسن و جمال کے لیے مختص ہیں۔

شخصیت کی ان تمام بلندیوں اور وسعتوں کے باوجود، سید رحیم شاہ کی سب سے متاثر کن خوبی ان کی سادگی، تواضع اور قربانی کا جذبہ ہے۔ وہ شہرت اور نمود و نمائش سے ہمیشہ دور رہے ہیں۔ ان کی ذات ایک ایسے درخت کی مانند ہے جو سایہ اور پھل تو سب کو دیتا ہے مگر خود ایک کونے میں کھڑا خاموشی سے اپنا فرض ادا کرتا رہتا ہے۔ ان کی قربانیاں خاندان کے لیے بھی رہی ہیں، جن کا تذکرہ وہ کبھی نہیں کرتے۔ والدین کی طویل علالت کے دوران انہوں نے اپنی ذاتی مصروفیات اور خواہشات کو پس پشت ڈال کر جس دل سوزی اور محبت سے ان کی خدمت کی، وہ اپنی مثال آپ ہے۔

سید رحیم شاہ کی شخصیت کی ایک نمایاں خصوصیت حساسیت ہے۔ حساسیت ایک ایسی صفت ہے جو بیک وقت خوبی بھی ہے اور عیب بھی۔ اپنے فرائض، حقوق اور حدود سے جو چیز بندے کو آگاہ رکھتی ہے، وہ یہی حساسیت ہے، لیکن دوسری جانب اس کی زیادہ مقدار لوگوں سے ایک فرد کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ بھی لاتی ہے۔ سید رحیم شاہ کو دونوں احوال کا تجربہ ہوا ہے۔ یہ حساسیت ان کے قلب و نظر میں نرمی اور دردمندی کا باعث بھی ہے اور بعض معاملات میں بے جا سختی کا سبب بھی۔ وہ معاملات کو محض عقل کی ترازو میں نہیں تولتے، بلکہ دل کی دھڑکنوں سے بھی جوڑتے ہیں۔ یہی کیفیت بعض اوقات انہیں جلدبازی اور بے اعتدالی پر آمادہ کر دیتی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی جن خوبیوں کو ڈویلپ کیا، ان میں تحمل اور اعتدال صف اول کی خوبیاں ہیں۔ تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن شخصیات کو زندگی میں سب سے زیادہ عزت و احترام سے نوازا، ان میں سے ایک وہ شخص بھی شامل ہے جو نجران کے وفد میں شریک تھا اور جس کی شخصیت میں حد درجہ تحمل اور اعتدال پایا جاتا تھا۔

سید رحیم شاہ کی قد کاٹھ بلند و بالا، رنگ سرخ و سفید، نقش و نگار پُرکشش و جاذب نظر، طبیعت نرم و ملائم، مزاج نفیس و لطیف، گفتگو کا انداز معقول و منطقی، لباس ہمیشہ صاف ستھرا، ڈرائیونگ محتاط اور ماہرانہ، جبکہ کھانے پینے سے متعلق رغبت محدود و معتدل ہے۔ چہرہ ہمیشہ مسکراتا اور ہشاش بشاش، ماتھا روشن اور آنکھیں چمکتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ ان کی ذاتی دوستیاں، روابط اور تعلقات چار دانگ عالم تک دراز ہیں۔ کوئی ملک ایسا نہیں ہوگا جہاں سید رحیم شاہ کے دوست اور واقف کار موجود نہ ہوں۔ وہ بے شمار لوگوں کے کام آتے ہیں، جبکہ بہت سارے لوگ ان کے کام کرتے ہیں۔

سید رحیم شاہ کے کچھ اصول ہیں اور ان اصولوں کی پاسداری وہ بہر صورت لازم سمجھتے ہیں۔ وہ بے شمار معاملات میں دوسروں کا لحاظ کر رہے ہیں، لیکن کچھ صواب دیدی حقوق، حدود اور اختیار کے معاملات میں دوسروں سے لحاظ کے آرزو مند رہتے ہیں۔ وہ بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ ہر فرد کی ایک مخصوص سوچ، اپروچ، شخصیت اور اصول ہوتے ہیں، اور ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ان چیزوں کی حفاظت اور اظہار کرے اور دوسروں کے لحاظ میں یہ چیزیں مسخ نہ ہونے دے۔

ہر خاص فرد زندگی میں خاص قسم کی آزمائشوں سے گزرتا ہے۔ سید رحیم شاہ بھی اپنی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ سے گزرے ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر خود کو ٹوٹنے کبھی نہیں دیا۔ ایک طویل اور تکلیف دہ بیماری کا مقابلہ کیا، والدین برسوں بیمار رہے اور انہی بیماریوں میں دنیا سے چلے گئے، ان کو بعض لوگوں نے سمجھنے میں غلطی کی اور بعض نے ان کے نامناسب سلوک روا رکھا، وغیرہ وغیرہ، لیکن ان سب مشکل وقتوں میں انہوں نے صبر کیا، اللہ سے رجوع کیا، سفر کیا، دعا کی، کسی کی خدمت کی، اور یوں اللہ نے انہیں مشکل لمحات سے بخیر و عافیت گزارنے کے اسباب پیدا کر دیئے۔

سید رحیم شاہ کو کرکٹ سے جنون کی حد تک دلچسپی رہی ہے۔ انہوں نے جن کاموں میں سب سے زیادہ محنت کی، ان میں ایک کرکٹ بھی ہے۔ وقار یونس ان کے پسندیدہ کھلاڑی رہے۔ اپنے محلے سے لے کر اسلام آباد تک وہ بے شمار گراؤنڈز میں کھیلے اور اپنی محنت، مہارت، جذبے اور والہانہ انداز سے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔ سید رحیم شاہ جس کام میں لگ جاتے ہیں، اس میں پوری طرح ڈھل جاتے ہیں اور اپنی تمام تر صلاحیتوں اور قوتوں کو اس میں کھپا دیتے ہیں، جبکہ نتیجہ خدا پر چھوڑ دیتے ہیں اور نتیجتاً کامیاب ہو جاتے ہیں۔ زندگی میں جو جو اہداف انہوں نے اپنے سامنے طے کیے ہیں، ان میں سے کچھ کو پایا ہے اور کچھ کے لیے پوری طرح سرگرم عمل ہیں۔

جلدبازی انسان کو بے صبری کی طرف لے جاتی ہے، جو بالعموم بڑے مسائل کا باعث بنتی ہے۔ اگرچہ سید رحیم شاہ کے اپنے اوپر قابو اطمینان بخش ہے، لیکن کبھی کبھار اپنے حساس طبیعت کی وجہ سے چھوٹے موٹے معاملات میں پریشانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ رحیم شاہ اصل میں سب کام، معاملات، افراد اور اشیاء کو اپنی اپنی جگہ دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن اس دنیا کی بڑی علتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بے شمار چیزیں اپنی اپنی جگہ درست نہیں، اور یہ چیز ان کی روح میں بے چینی پیدا کر رہی ہے۔ اس وجہ سے ان کے جذبات و خیالات کبھی کبھار تیز گفتگو کی صورت میں فوراً ظاہر ہو جاتے ہیں۔ اس طرح جن لوگوں سے وہ ناراض ہوتے ہیں، پھر ان کی ناراضگی برسوں تک چلتی ہے، حالانکہ اسلام ناراضگی کو جلد ختم کرنے کے حق میں ہے۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ کسی کے لیے بھی یہ جائز نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی سے اپنی ناراضگی تین دن سے زیادہ طویل کرے۔ اسی طرح صلحاء کرام نے ناپسندیدہ مواقع پر ہمیشہ خاموشی کی تاکید کی ہے۔ خاموشی اسلام اور فطرت دونوں میں ایک اہم عمل ہے، جو انسان کو ٹھنڈا کرنے میں بہت موثر ہے۔

سید رحیم شاہ کا میرے ساتھ تعلق محبت اور احترام پر مبنی ہے۔ وہ مجھے اپنی خوبیوں اور صلاحیتوں کے سبب بے حد عزیز ہیں، جبکہ میں بھی کسی وجہ سے انہیں اچھا لگتا ہوں۔ ہماری جب بھی ملاقات ہوتی ہے، اور اکثر و بیشتر ہوتی رہتی ہے، تو یہ خوشی اور اطمینان کا باعث بنتی ہے۔ وہ نہ صرف میرے پھوپھی زاد بھائی ہیں، بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر ایک ثابت قدم ساتھی، مددگار اور محافظ کی حیثیت سے موجود رہے ہیں۔ جب بھی زندگی نے مجھے آزمائشوں میں ڈالا، وہ سب سے پہلے میری مدد کو پہنچے اور مضبوطی سے ساتھ کھڑے رہے۔ ان کی محبت میں کبھی بھاری پن نہیں ہوتا، نہ ہی احسان جتانے کا تکلف۔ وہ اپنے ہر عمل کو اس قدر سادگی اور بے تکلفی سے انجام دیتے ہیں کہ لگتا ہے یہ ان کی فطرت کا حصہ ہے۔ ہمارے درمیان احترام کا احساس محض رسمی نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں سے ہے۔ وہ میرے خیالات میں دلچسپی لیتے ہیں، جبکہ میں تو ان کی معلومات، تجربات اور مشاہدات کا ٹھیک ٹھاک گرویدہ ہوں۔ وہ ہمدرد ہیں، خیر خواہ ہیں، مخلص ہیں، خیال رکھنے والے اور احساس کرنے والے ہیں، مجھے ان پر سو فیصد اطمینان ہے۔ یہ وہ قیمتی رشتہ ہے جس پر میں ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔

سید رحیم شاہ کی زندگی میں خوبیاں اور علتیں ایک ایسے مرکب کی صورت میں جمع ہیں، جیسے کسی نقشے میں روشنی اور تاریکی کی لکیریں ہوں۔ ان کی خوبیاں انہیں قابل رشک بناتی ہیں، تو دوسری طرف وقت بہ وقت اپنے قابل اصلاح پہلوؤں پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔ وہ بات سنتے ہیں، سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اور مقدور بھر اصلاح احوال کے لیے ضروری اقدامات بھی اٹھاتے ہیں۔ یہی توازن ان کی شخصیت کا حسن ہے، جبکہ دوسروں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ کوئی مصنوعی مجسمہ نہیں، بلکہ ایک جیتا جاگتا اور سانس لیتا انسان ہے۔

سید رحیم شاہ ایک ایسی شخصیت ہیں جو علم کا پیاسا، سیاحت کا شوقین، روحانیت کا متلاشی، خدمت کا پیکر اور ادب کا پرستار ہے۔ ان کی حساسیت ان کی سچائی، احتیاط، اور سب کے لیے اپنی حدود تک محدود رہنے کی خواہش کا نتیجہ ہے۔ وہ ایک ایسے شجر سایہ دار ہیں، جس کے نیچے بے شمار ضرورت مند اور پریشان حال لوگ راحت اور اطمینان کا سانس لیتے ہیں، جس کے سائے میں لوگ ٹھنڈک پاتے ہیں، اور جس کی جڑیں صداقت اور محبت کی زمین میں پیوست ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ سید رحیم شاہ کو ان کی خواہش اور طلب کے مطابق راحت، مسرت، ہدایت، برکت، طمانیت اور محبت عطا فرمائے، اور ان کے قدموں کو زندگی کے سفر میں مضبوطی عطا فرمائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے