علامہ محمد اقبال، جو کہ شاعر مشرق اور مصور پاکستان کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، 20ویں صدی کے ایک انقلابی شاعر، فلسفی اور مفکر تھے۔ ان کے افکار، شاعری، شخصیت اور فلسفے نے برصغیر پاک و ہند کے فکری اور ثقافتی منظر نامے پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہیں پاکستان کا قومی شاعر کہا جاتا ہے نیز اپنی ادبی، سیاسی، دینی، فکری اور فلسفیانہ خدمات کی بدولت ان کا بڑے پیمانے پر احترام کیا جاتا ہے۔
علامہ محمد اقبال کی شاعری نہایت گہرائی، بلندی، وسعت اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے۔ وہ روایتی فارسی اور اردو شاعری کو جدید خیالات اور موضوعات کے ساتھ ملانے کی منفرد صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کی شاعری امت مسلمہ کے لیے ان کی گہری فکر مندی اور عالمی اتحاد، ایک خود انحصار اور باوقار مسلم دنیا کے تصور کی عکاس ہے۔ ان کی سب سے مشہور ادبی تصنیف "بانگ درا” ان کی انقلابی نظموں کا مجموعہ ہے جس میں ان کے فلسفیانہ خیالات اور نقطہ نظر جا بجا گونجتا ہے۔
علامہ محمد اقبال کی فکر روایت اور جدیدیت کا ایک حسین اور پراثر امتزاج پر قائم ہے۔ وہ مولانا روم اور ابن عربی جیسے مفکرین کے ساتھ ساتھ نٹشے اور برگسن جیسے مغربی فلسفیوں کے کلاسیکی فلسفے سے بھی بہت متاثر تھے۔ ان کی فکر روحانی اور مادی، مشرق اور مغرب کے درمیان ہم آہنگی کی کوشش تھی۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو اپنے فکری ورثے کو دوبارہ دریافت کرنے اور اسے جدید دنیا کے چیلنجوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔
علامہ محمد اقبال کی شاعری کا ایک مرکزی موضوع "خودی” کا تصور ہے۔ انہوں نے لوگوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنی اندرونی صلاحیتوں کو دریافت کریں نیز خود انحصاری اور خود آگاہی کی دولت سے سرفراز ہو۔ علامہ محمد اقبال کی شاعری اس خیال پر زور دیتی ہے کہ افراد اور اقوام کی ترقی کے لیے ذاتی تبدیلی، ذہنی بیداری، اخلاقی بلندی، خود شناسی اور مادی ترقی بہت ضروری ہے۔ ان کے آفاقی پیغام پر مبنی شعر کہ
"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے”
یعنی اپنی ذات اور کردار کو اس حد تک بلند کریں کہ تقدیر کے فیصلے صادر ہونے سے پہلے، خدا خود آپ سے پوچھے، کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟۔
علامہ محمد اقبال کی شخصیت ان کی فکری قوت اور اپنے نظریات سے گہری وابستگی کی عکاس تھی۔ وہ صرف شاعر ہی نہیں تھے بلکہ ایک ممتاز فلسفی اور نامور عالم بھی تھے۔ وہ ایک مقناطیسی شخصیت کے مالک تھے جہنوں نے زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ ان کی تقاریر اور لیکچرز طاقتور اور متاثر کن نظریات اور خیالات پر مشتمل تھے اور انہوں نے مسلمان نوجوانوں کو اپنے وقت کے چیلنجوں کے حوالے سے بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک نظریاتی شاعر کے طور پر ان کے کردار نے انہیں بہت سے لوگوں کے لیے امید اور تحریک کی علامت بنا دیا ہے۔
علامہ محمد اقبال کے فلسفے کی جڑیں مسلم دنیا کے لیے ان کی فکر میں پیوست تھیں۔ وہ اسلامی فکر کے احیاء اور مسلمانوں کے وسیع تر اتحاد پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو اسلامی تناظر میں علمی، سیاسی، اخلاقی، سماجی اور ثقافتی بحالی کا تصور دیا اور استعماری طاقتوں کے خلاف مسلمانوں کو متحد کرنے کے لیے باقاعدہ "خلافت” تحریک کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے خیالات نے 1947 میں مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کے طور پر تحریک پاکستان کی تشکیل کو بہت متاثر کیا تھا۔ 1930 میں ان کا مشہور خطبہ الہ آباد ، جس میں انہوں نے ایک آزاد مسلم ریاست کا تصور پیش کیا تھا، اس موقع پر گویا پاکستان کی فکری بنیاد رکھ دی گئی تھی۔
علامہ محمد اقبال مسلم امہ کو دنیا میں ایک باوقار حیثیت میں دیکھنے کے آرزو مند تھے۔ وہ بار بار سمجھاتے تھے کہ اپنے ذاتی اور قومی کردار کی شیرازہ بندی، اسلامی تعلیمات اور تصورات کو سامنے رکھ کر کی جائے۔ ان کے تصور خودی میں دراصل بلند ترین ذاتی اور قومی کردار کا نمونہ جا بجا نظر آتا ہے۔ وہ ایک ایسے کردار کے داعی تھے جو شجاعت، صداقت، عدالت اور امانت جیسے قدروں کا حامل ہو۔ وہ غفلت، کمزوری، بے حسی، لاپرواہی اور مایوسی کو قوموں کے لیے تباہی کا سبب یقین کرتے تھے۔
کوئی مانیں یا نہ مانیں یہ حقیقت ہے کہ عالمی اور علاقائی دونوں تناظر میں ہم من حیث القوم ذاتی اور قومی کردار کی سطح پر بہت نیچے اور پیچھے چلے گئے ہیں۔ ہم چار دانگ عالم میں اپنی بقاء اور تحفظ کے لیے لرزہ براندام ہیں، ہم کو عالمی مالیاتی اداروں نے ایسے چکروں میں ڈالے ہیں جن میں کوئی منزل دکھائی نہیں دیتی۔ 57 اسلامی ممالک کا کوئی مشترکہ ایجنڈا، پالیسی، وژن، مشن، موقف اور تشخص نہیں۔ نوجوان غافل ہیں، سیاستدان نااہل ہیں، افسران کرپٹ ہیں، تاجر بے ایمان ہیں، دولت مند عیاش ہیں، غریب مایوس ہیں، خواتین لاتعلق ہیں، سرکاری اہلکار کام چور ہیں، ملا کم ظرف ہیں، تعلیمی نظام فرسودہ ہے، صحت کا نظام ازکار رفتہ ہے، کاروباری اور صنعتی ماحول منجمد ہے، سماج میں تعاون اور بصیرت کا فقدان ہے، عمومی رویوں پر خود غرضی اور حرص و ہوس کے اثرات نمایاں ہیں ایسے عالم میں وہ مقام کہی گم ہو گیا ہے جس پر علامہ محمد اقبال مسلم امہ کو سرفراز دیکھنا چاہتے تھے۔
علامہ محمد اقبال ایک ہمہ جہت فکری شخصیت تھی جن کے افکار، شاعری، شخصیت اور فلسفہ دنیا بھر کے لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ ان کی شاعری ذہنی بیداری، اخلاقی بلندی، علمی گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کا ذریعہ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ علامہ محمد اقبال کا خود شناسی کا پیغام اور مسلم دنیا کے فکری اور ثقافتی ورثے کے احیاء کے عہد کا جدید دور سے مطابقت بہر صورت برقرار ہے۔ وہ صرف شاعر مشرق ہی نہیں بلکہ ایک لازوال عالمی شخصیت ہیں جن کی میراث آنے والی نسلوں کے ذہنوں اور دلوں کو بھی تشکیل دیتی رہی گی۔
علامہ محمد اقبال کا فلسفۂ خودی درحقیقت فرد اور قوم کے اخلاقی اور روحانی عروج کا نقشہ پیش کرتا ہے، مگر آج ہم اس کے برعکس اپنی اجتماعی خودی کو شکست و ریخت کا شکار ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ ہماری قومی زندگی کا ہر شعبہ ایک بڑی بے عملی اور بے مقصدیت کا شکار نظر آتا ہے۔ تعلیم کا مقصد محض ڈگریاں حاصل کرنا رہ گیا ہے، سیاست مفاد پرستی کا میدان بن چکی ہے، اور معیشت میں قرضوں کا ایک ایسا چکر قائم ہو چکا ہے جو ہمیں بین الاقوامی طاقتوں کا دست نگر بنا رہا ہے۔ ایسے میں علامہ محمد اقبال کی اس تنبیہہ کی گونج اور بھی واضح ہوتی ہے کہ "اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے، سر آپ دے کے دفعِ الملوک کر نہ سکا تو کیا ہوا۔” ہمیں اپنے داخلی بحران کو سمجھنے اور اس کے حل کے لیے علامہ محمد اقبال کے پیغام کی طرف رجوع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
نئی نسل کے لیے علامہ محمد اقبال کا پیغام محض ایک نظریہ نہیں بلکہ عمل کی ایک زندہ دعوت ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے اس دور میں، جہاں نوجوانوں کے سامنے مختلف خیالات اور ثقافتوں کا ایک لا متناہی سیلاب امڈ آیا ہے، علامہ محمد اقبال کا تصورِ خودی انہیں اپنی شناخت کو مضبوطی سے قائم رکھنے کا گر سکھاتا ہے۔ یہ پیغام انہیں تقلید کی بجائے دریافت، مایوسی کی بجائے امید اور یقین جبکہ بے عملی کی بجائے جدوجہد پر آمادہ کرتا ہے۔ علامہ محمد اقبال کا شاہین دراصل وہ نوجوان ہے جو بلندیوں میں رزق تلاش کرتا ہے، زمین کے ٹکڑوں پر ٹھہرنا اس کا شیوہ نہیں۔ موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان علامہ محمد اقبال کی شاعری کو محض نصاب کی کتاب سمجھنے کی بجائے اپنی ذہنی اور اخلاقی تربیت کے لیے ایک رہنما کتاب کے طور پر اپنائیں۔
علامہ محمد اقبال کا وژن صرف انفرادی خودی کی تعمیر تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کا حتمی مقصد ایک ایسی اجتماعی خودی کی تشکیل تھا جس کی بنیاد پر امتِ مسلمہ دنیا میں ایک باوقار اور بااختیار قوت کے طور پر ابھرے۔ آج جب کہ امت انتشار اور کمزوری کا شکار ہے، اقبال کا یہ تصور پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے مسلم ممالک کے درمیان فکری، معاشی اور سیاسی یکجہتی پر زور دیا تھا۔ ہمارے اوپر موجودہ عالمی دباؤ اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ہمیں اپنی اجتماعی قوت کو متحد کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے۔ علامہ محمد اقبال کی فکر ہمیں سکھاتی ہے کہ انفرادی بیداری اجتماعی طاقت کی بنیاد ہے، اور اجتماعی طاقت ہی ہمیں عالمی سطح پر اپنا جائز مقام دلوا سکتی ہے۔ یہ ایک ایسا تسلسل ہے جسے نظر انداز کرنے کی قیمت ہم مسلسل چکا رہے ہیں۔
علامہ محمد اقبال نے نوجوان کو خاص طور پر اپنی فکری اور اخلاقی خطابات کا نشانہ بنایا تھا اس لیے نئی نسل پر، بحیثیت مجموعی مشکلات کے باوجود علامہ اقبال کا اثر بہت گہرا اور پائیدار ہے۔ خود کی دریافت، خود انحصاری، نیز ذاتی، فکری اور نظریاتی تبدیلی کا انقلابی پیغام نوجوان کے ذہنوں میں آج بھی گونجتا ہے۔ ان کی شاعری اور فلسفہ ہمیں اپنے خوابوں کی پیروی کرنے، اپنے ثقافتی ورثے کو اپنانے اور ایک بہتر مستقبل کے لیے کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ علامہ محمد اقبال کے افکار تحریک کا ذریعہ ہیں، یہ نوجوانوں کو تنقیدی انداز میں سوچنے اور اپنے معاشروں میں فعال کردار ادا کرنے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ علامہ محمد اقبال کا ایک متحد، باوقار اور بااختیار مسلم دنیا کا وژن نوجوان مسلمانوں میں فخر اور ذمہ داری کا احساس پیدا کر رہا ہے مزید برآں یہ اتحاد اور ترقی کے جذبے کو فروغ بھی دیتا ہے۔