ابن صفی سے موازنہ۔۔۔ ناممکن

میں اُن خوش نصیب لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے ابن صفی کو صرف پڑھا نہیں، جیا ہے۔ ہمارا بچپن اُن کے ناولوں کے سحر میں گزرا، ہماری نوجوانی اُن کے کرداروں کے ساتھ سانس لیتی رہی۔ کبھی علی عمران ہماری گفتگو کا حصہ ہوتا، کبھی فریدی کی سنجیدگی ذہن پر چھائی رہتی، کبھی حمید کی شوخیاں دل کو ہنسا دیتیں۔

ایک زمانہ تھا جب نئے ناول کی آمد ہمارے لیے عید کی خبر سے کم نہیں ہوتی تھی۔ ہم وہ نسل ہیں جس نے ابن صفی کو صرف کتابوں میں نہیں پڑھا بلکہ ایک عہد کے طور پر محسوس کیا۔ ان کے ناول ہمارا اوڑھنا بچھونا تھے، اُن کی کہانیاں ہماری تنہائیوں کی رفیق، اور ان کے کردار ہمارے تخیل کے ہمسفر تھے۔

ابن صفی کو صرف ایک ناول نگار کہنا شاید ان کے ساتھ ناانصافی ہے۔ بعض لوگ اپنے عہد کی نمائندگی کرتے ہیں، بعض لوگ ایک صنف کو نئی جہت دیتے ہیں، مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو آنے والے زمانوں کی آہٹ سن لیتے ہیں۔ ابن صفی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔ وہ محض جاسوسی کہانیاں نہیں لکھتے تھے، وہ ایک ایسی دنیا تخلیق کرتے تھے جسے وقت نے بعد میں حقیقت کا لباس پہنایا۔

یہ بات محض جذباتی عقیدت نہیں، ایک حقیقت ہے کہ ابن صفی نے اپنی تحریروں میں جن آلات، سائنسی تصورات، خفیہ ٹیکنالوجیز، ذہنی کنٹرول، ریموٹ سسٹمز، پوشیدہ لیبارٹریوں اور جدید جاسوسی طریقوں کا ذکر کیا، ان میں سے بہت سی چیزیں برسوں بعد دنیا میں وجود میں آئیں۔ ان کے ناول پڑھتے ہوئے کئی مرتبہ محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے وقت سے کئی دہائیاں آگے بیٹھا مستقبل کو دیکھ رہا ہو۔

یہی وجہ ہے کہ ان کا ادب آج بھی پرانا نہیں لگتا۔ ان کی تحریروں میں آج بھی تازگی، حیرت اور ذہانت کی وہی چمک موجود ہے۔

یہ اعزاز بھی شاید اردو ادب میں بہت کم لوگوں کو ملا ہو کہ معروف مصنفہ، اگاتھا کرسٹی (Agatha Christie)، جسے مغرب میں کرائم فکشن کی ملکہ کہا جاتا ہے، اس کا یہ کہنا کہ برصغیر میں صرف ایک حقیقی جاسوسی ناول نگار تھا، ابن صفی، معمولی بات نہیں۔ یہ محض ایک ادیب کی تعریف نہیں بلکہ اردو زبان کی تخلیقی صلاحیت کا اعتراف تھا۔

آج بعض لوگ مظہر کلیم اور ابن صفی کا موازنہ کرتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ موازنہ ممکن ہی نہیں۔ ابن صفی ایک کلاس ہیں، ایک عہد ہیں، ایک پورا ادبی ماحول ہیں۔ ان کے ہاں زبان بھی ہے، نفسیات بھی، مزاح بھی، فلسفہ بھی، تہذیب بھی اور کردار سازی کا وہ فن بھی جو ہر کسی کے حصے میں نہیں آتا۔

ابن صفی نے خود ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عمران سیریز مکمل طور پر ان کی اپنی تخلیق ہے، جبکہ کرنل فریدی اور حمید کے بعض ناول انگریزی ادب سے متاثر ہو کر لکھے گئے۔ یہ اعتراف بھی ان کی عظمت کو کم نہیں کرتا بلکہ بڑھاتا ہے۔ دنیا کا ہر بڑا ادیب کسی نہ کسی سے متاثر ہوتا ہے، مگر اصل کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ اثر کو اپنی شناخت میں ڈھال دے۔ ابن صفی نے یہی کیا۔ علی عمران جیسا کردار اردو ادب میں دوبارہ پیدا نہیں ہو سکا۔ ایک بظاہر احمق، مضحکہ خیز، بے وقوف انسان، جو درحقیقت ایک غیر معمولی ذہن رکھتا ہو، ایسا کردار تخلیق کرنا معمولی بات نہیں۔

میں نے اپنی زندگی میں مظہر کلیم کا کوئی ناول نہیں پڑھا۔ اس کی ایک وجہ ہمیشہ میرے ذہن میں موجود رہی۔ میرا خیال یہ تھا کہ جو شخص اپنا مستقل اور ذاتی کردار تخلیق نہ کر سکے اور کسی دوسرے ادیب کے تخلیق کردہ کرداروں کے کندھوں پر سوار ہو کر اپنی ادبی دنیا آباد کرے، اس پر مکمل اعتماد کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ سوتیلا باپ جتنا بھی خیال رکھنے والا کیوں نہ ہو، حقیقی باپ جیسی شفقت اور محبت کر ہی نہیں سکتا۔ اگر مظہر کلیم میں واقعی غیر معمولی صلاحیت موجود تھی، اور بلاشبہ ان کے چاہنے والے انہیں باصلاحیت سمجھتے ہیں، تو پھر انہیں اپنے کردار تخلیق کرنے چاہییں تھے۔ ایک ادیب کی اصل پہچان اس کے کردار ہوتے ہیں۔ کردار ہی اس کی سلطنت ہوتے ہیں۔

اشتیاق احمد اس کی بہترین مثال ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ان کے ناول ابن صفی سے متاثر تھے، مگر انہوں نے حمید، فریدی یا عمران کے سہارے اپنی شناخت قائم نہیں کی۔ انہوں نے محمود و فاروق، انسپکٹر جمشید اور دوسرے کردار تخلیق کیے۔ یہی وجہ ہے کہ اشتیاق احمد کا اپنا ایک الگ مقام ہے۔ اثر قبول کرنا الگ چیز ہے، مگر کسی دوسرے کی دنیا میں مستقل رہائش اختیار کر لینا الگ بات۔

ابن صفی کو پڑھنا صرف کہانی پڑھنا نہیں ہوتا، وہ اردو زبان سیکھنے کا عمل بھی ہوتا ہے۔ ان کی نثر شستہ ہے، جملے زندہ ہیں، مکالمے برجستہ ہیں، مزاح مہذب ہے اور لفظوں کا انتخاب ایسا کہ قاری غیر محسوس طریقے سے زبان کے حسن سے آشنا ہوتا چلا جاتا ہے۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے لکھنا، جملہ بنانا، مکالمہ ترتیب دینا اور اردو کی لطافت کو محسوس کرنا ابن صفی سے سیکھا۔

یہی وجہ ہے کہ ابن صفی محض مقبول ادیب نہیں تھے۔ وہ ایک ادبی ادارہ تھے۔ ان کے بعد بے شمار لوگوں نے جاسوسی ناول لکھے، ہزاروں صفحات سیاہ ہوئے، سینکڑوں کردار پیدا ہوئے، مگر جو فضا ابن صفی نے قائم کی، وہ آج تک قائم ہے۔ ان کے ناول آج بھی پڑھے جاتے ہیں، ان پر آج بھی گفتگو ہوتی ہے، نئی نسل آج بھی انہیں ڈھونڈ کر پڑھتی ہے۔ یہ کسی عام لکھنے والے کا نصیب نہیں ہوتا۔

کچھ لوگ وقت گزاری کے لیے لکھتے ہیں، کچھ لوگ رزق کے لیے، کچھ شہرت کے لیے۔ مگر کچھ لوگ تاریخ میں داخل ہونے کے لیے لکھتے ہیں۔ ابن صفی انہی لوگوں میں سے تھے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے